15

پاکستان میں پرائمری تعلیم کی مخدوش صورتحال

پرائمری تعلیم کی بہتری کے لئے تقاریر،لفاظی اور جھوٹے وعدوں کے بجائے عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے
سو فیصد شرح داخلہ کے ساتھ معیاری پرائمری تعلیم کا مسئلہ کسی خاص انقلاب کا متقاضی نہیں،بلکہ صرف چند گھنٹوں کی فکر و تدبیر سے حل کیا کا سکتا ہے

رانا نسیم
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر روزانہ اپنی تقریروں میں برطانیہ کے وزیر عظم سرونسٹن چرچل کے خلاف نازیباالفاظ استعمال کرتا تھا۔ایک مرتبہ اخباری نمائندہ نے چرچل کہ توجہ ہٹلر کے نازیبا الفاظ کی طرف مبذول کرائی،تو چرچل نے صرف ایک جملہ کہا ”ایسا لگتا ہے کہ ہٹلر کہ پرائمری تعلیم اچھی نہیں“۔
آج کی دنیا میں جو ممالک مختلف اقسام کے علوم میں آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں،اس کے پیچھے یہ راز ہے کہ،انہوں نے تعلیم،خصوصی طور پر پرائمری تعلیم پر بے پناہ توجہ دی اور دے رہے ہیں،اور سب سے زیادہ رقم تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔جب تک معاشرے کے قابل ترین لوگ پرائمری سکولوں کے ٹیچر ز کی حیثیت سے نہیں چُنے جائیں گے،تب تک آپ معیار تعلیم بلند نہیں کر سکتے۔عمارت وہ ہی مضبوط ہوا کرتی ہے،جس کی تعمیر میں جو پہلی اینٹ رکھی جائے وہ ٹیرھی نہ ہو۔مشہور ماہرنفسیات سگمنڈ فرائڈ کا دعٰوی تھا کہ”تم 6ماہ کا بچہ حوالے کر دو،میں اسے جو بھی بنانا چاہوں،بنا دوں گا“۔ہر بچے یا بچی کی زندگی کے پہلے دس بارہ برس اثر پزیر عمر کے ہوتے ہیں۔اس عرصے میں وہ انسان بھی بن سکتے ہیں اور حیوان بھی۔دیکھنایہ ہوتا ہے کہ ان کو کس قسم کی تربیت اور تعلیم دی جارہی ہے؟ہمارانظام تعلیم بچے کے چھپی ہو ئی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لارہا ہے یا ان کو لکیر کا فقیر بنا رہا ہے؟کیا ہم ایک مذہب اور صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ نسل پروان چڑھا رہے ہیں یا اخلاق اور مقاصد سے عاری قوم ہیں؟یہی عمر ہوتی ہے،جو بچے کو خود کش بمبار بھی بناتی ہے اور انسان سے محبت کرنے والا بھی!تمام اچھائیاں،برائیاں وہ اسی عمر کے دوران سیکھتا ہے۔جو سبق اس کو اس کا استاد زہن نشین کوادیتاہے یا اس کے ماں باپ اس کے کانوں میں جو بات ڈال دیتے ہیں،وہ پھر عمر بھر اس کو بھولتی نہیں اور اس کو حرف آخر تصور کرتا ہے۔لیکن افسوس!پاکستان میں تعلیم کسی بھی حکومت کی آج تک اولین ترجیح نہ بن سکی۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پرائمری تعلیم کو انتہائی بے معنی رکھاگیا ہے۔بدقسمتی سے وطن عزیز میں اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کرنے اور ایک مضبوط قوم بننے کیلئے صرف پالیسیوں کو ہی تواتر کے ساتھ تبدیل کیا جاتا رہا،کبھی بنیادی مسائل کی جانب توجہ ہی نہیں دی گئی۔1973 ء کے آئین اور پھر اٹھارویں آئینی ترمیم میں تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر کے اسے لازمی قرار دیا گیا۔5 سے14 برس تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کا ہدف حاصل کر سکا نہ ہی سو فیصد پرائمری شرح۔شعبہ تعلیم کا سب سے اہم جزو پرائمر ی تعلیم آج بھی چار دیواری اور چھت کے بغیر دو کمروں والے (ہزاروں ادارے)سکول میں صرف میٹرک پاس استاد کے ذریعے جاری ہے۔جہاں پانی،بجلی،ٹائلٹ،ڈیسک جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ہمارے ہاں سیاستدانوں اور اعلٰی سرکاری حکام کی فرائض سے روایتی غفلت،سازوسامان،تحقیق اور اعلٰی تعلیم یا فتہ اساتذہ کی کمی سکول سےٖ غیر حاضری،قومی زبان سے دوری،طبقاتی تفریق،تعلیم کا ترجیحی پالیسی میں شامل نہ ہونا،جاگیرداروں اور زمینداروں کا طرز عمل،معاشی حالات اور دیگر عوامل کہ وجہ سے ترکِ تعلیم،نجی تعلیمی اداروں کی بھاری فیس،تعلیمی پالیسیوں کے نقائص اور ان پر عملدرآمد کا نہ ہونا،درسی کتب کی عدم دستیابی جیسے بہت سے عوامل معیاری اور سو فیصد شرح داخلہ کے ساتھ پرائمری تعلیم میں رکاوٹ ہیں۔
بنیادی تعلیم کے بارے میں روزنئی پالیسی اور حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔مگر تا حال یہ گتھی سلجھائی نہیں جاسکی کہ ان پالیسیوں کے خاطر خواہ نتائج کیوں برآمد نہیں ہو رہے ہیں؟ایک دوسرے کو موزو الزام ٹھرانے سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکتا۔پنجاب کے پرائمری سکولز کے بارے میں اب ایک نئی پالیسی لانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔صوبہ بھر کے سرکاری پرائمری سکولوں میں ای ایجوکیشن پروگرام نا فذکرنے کا فیصلہ کیاگیا،جس کے تحت ننھے طالبعلموں کے کندھوں سے بستوں کا بوجھ ختم کر کے ان کو کمپیوٹر پر تعلیم فراہم کی جائے گی۔اس بارے میں ایجوکیشن کمیشن نے اپنے شفارشات مکمل کر لی ہیں،جن کی حتمی منظوری وزیر اعلی پنجاب دیں گے۔سکولوں میں معیار تعلیم بہتر بنانے کے لیے جسٹس خلیل الرحمان خان ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا ہے،کمیشن نے تمام سٹیک ہولڈرز سے فروغ تعلیم کی غرض سے مشاورت کے بعد حال ہی میں ہونے والی اپنی میٹنگ میں طے کیا ہے کہ صوبہ بھر کے سرکاری سکولوں کو ای ایجوکیشن کی جانب رواں دواں کیا جائے اور پہلے مرحلے میں تمام پرائمری سکولوں کو ای ایجوکیشن کی سہولت فراہم کی جائے،جس کے تحت بچوں کے کندھوں سے بستوں (بیگز)کا بوجھ اتارکر ان کو بذریعہ کمپیوٹر تعلیم دی جائے گی۔اس ذریعہ تعلیم میں بچوں کو کسی کاپی اور پنسل کے استعمال کی ضرورت نہیں رہے گی۔بچوں کو کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم دور جدید کا تقاضا ہے،لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی بجٹ،سیکورٹی انتظامات،کرپشن کے ناسور اور گھٹن زدہ معاشرہ میں بچوں کی کم ذہنی استعداد،اس ذریعہ تعلیم کو فروغ اور کامیاب ہونے دے گی؟۔نئی پالیسی پر عملددآمدسے قبل ان پہلوؤں پر غور و فکر نہایت زروری ہے۔
پاکستان میں سو فیصد شرح داخلہ کے ساتھ معیاری پرائمری تعلیم کا مسئلہ کسی خاص انقلاب کا متقاضی نہیں،بلکہ صرف چند گھنٹوں کی فکر و تدبیر سے حل کیا کا سکتا ہے۔حکومت سرکاری سکولوں پر قومی پیداوار کا محض ڈیڑھ فیصد خرچ کر رہی ہے اور یہ خرچ اس سبسڈی سے بھی کم ہے۔ جو پی آئی اے،پاکستان سٹیل ملز اور پیسکو کو دی جاتی ہے۔پرائمری تعلیم کی بہتری کے لئے تقاریر،لفاظی اور جھوٹے وعدوں کے بجائے عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لئے مختص اور اس شعبہ کو سیاست سے پاک کردیا جائے،تو ہم مستقبل میں ایک ایسی نسل کی نسو ونما کر سکیں گے،جو ہمارے لئے قابل فخر ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں