17

عوام سے کیا قلم و کتاب کا وعدہ پورا کر رہاہوں،سردار حسین بابک

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوامیں بہتری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔انتظامی و تدریسی کیڈرز کی علیحدگی،اساتذہ کیلئے سروس سٹرکچر کی تشکیل،اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی،کلسٹر سسٹم کا نفاذ،خالی نشستوں پر اساتذہ کی تعیناتی اورٹاپ ٹین طلبہ و طالبات کے لیے وظائف کے اعلان سمیت محکمہ میں متعدد اصلاحات کا نفاذ بلا شبہ صوبائی محکمہ تعلیم کا انقلابی قدم ہے۔محکمہ تعلیم کو بہتری کی جانب گامزن کرنے میں سب سے اہم کردار صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم سردار حسین بابک نے ادا کیا۔لوح وقلم انٹرنیشنل نے محکمہ تعلیم میں کی جانے والی تبدیلوں، اس کے نتائج اور سردار حسین بابک کی ذاتی زندگی کے متعلق ان سے خصوصی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
سردار حسین بابک نے اپنے تعلیمی سفر کے متعلق بتاتے ہوے کہا کہ میں نے تعلیم کا آغا ز اپنے آبائی گاؤں بونیر کے علاقہ طوطالئی کے سرکاری سکول سے کیا۔بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی اور ایم اے جرنلزم کی تکمیل کی۔میں چونکہ سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے سیاست میں آنے کی وجہ خاندانی سیاسی وابستگی بنی۔میں نے چونکہ گریجویشن کر رکھی تھی اس وجہ سے ذرا جلد ی سیاست میں آگیاتاہم پارلیمانی سیاست کو پسند کرتا ہوں۔ہماری خاندانی وابستگی خدائی خدمت گار تحریک سے تھی۔خدائی خدمت گار تحریک میں سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا جاتا۔اس دو ر میں بھی اس تحریک نے آزاد مدرسہ کے نام پر لوگوں کے حجروں میں متعدد چھوٹے چھوٹے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ہماری جماعت نے بھی عوام سے قلم اور کتاب کا وعدہ کیا ہے اور میں اس وعدے کو پور اکرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہوں جب وزارت کا قلمدان سنبھالاتوشعبہ تعلیم کی صورتحال بہت زیادہ خراب تھی لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور دن رات ایک کر کے تعلیم کے شعبہ کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش میں لگا رہا۔دوست احباب میری حالت دیکھ کر مجھے کہتے کہ اس نظام کو درست کرتے کرتے تم پاگل ہو جاؤ گے۔میں نے وزارت ملنے کے فوراً بعد محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں انتظامی و تدریسی کیڈرز الگ کرنے، اساتذہ و کلرکوں کیلئے ملازمتی ڈھانچے کی تشکیل اور اساتذہ کے انتخابات سمیت دیگر اصلاحات کا فیصلہ کیا اور صوبے میں علاقائی زبانوں کو اہمیت دی۔میں نے تعلیم کے شعبہ کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اختیارات پبلک سروس کمیشن کو منتقل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیااس کے ساتھ ساتھسیلاب اور دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کی تعمیرو بحالی کا کام سرانجام دیا۔اساتذہ کو جدید اسلوب پر ٹریننگ دی۔ساتویں تا بارہویں تک مفت تعلیم کو عام کیا۔4ہزار خالی پوسٹوں پر تعیناتی کا عمل شروع کیااور اب صوبے میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کی کوششیں جار ی ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے کہا کہ کہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے مطابق انتظامی اور تدریسی کیڈر کو علیحدہ کرکے پورے پاکستان میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے قدم اٹھایا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی کا تقاضا ہے کہ نظامت تعلیم کو انتظامی عملے کے سپرد کیا جائے کیونکہ تدریسی شعبے کے پاس وہ مہارت اور تجربہ نہیں ہوتا جس کو بروئے کار لاکر موجودہ حالات اور نئے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جا سکے لہٰذا تعلیم کے میدان میں کہنہ مشق تجربہ کار اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے انتظامی کیڈر کی انتہائی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی کیڈر سے تعلیم کے شعبے میں کافی بہتری آ جائے گی اس شعبے میں افسران دل جمعی سے کام کریں گے کیونکہ انتظامی اور تدریسی شعبہ جات کے علیحدہ ہونے سے اب ان افسران کا ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں تبادلہ نہیں ہو سکے گا۔ مزید براں اب ان افسروں کا احتساب بھی ہو سکے گا جس سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ امید ہے کہ اس کیڈر کے آنے سے بچوں کوان کا تعلیمی حق ملے گاجس سے وہ پہلے محروم تھے اورمحکمہ تعلیم ہر قسم کی مداخلت سے پاک ہو جائے گاعلاوہ ازیں اس کیڈر کے افسران سے تعلیمی انقلاب برپا ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہخیبر پختونخواحکومت کی جانب سے صوبے کے ایک لاکھ 70ہزار اساتذہ کیلئے سروس سٹرکچر کی تشکیل اور انگریز سامراج کے بنائے ہوئے قانون کو ختم کرکے انتظامی و تدریسی کیڈرز پر عمل درآمد بلا شبہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔۔ صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ تعلیم کے فروغ میں کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہونگے تمام سرکاری سکولوں میں غریبوں کی بچیاں اور بچے پڑھ رہے ہیں لہٰذایہاں پر معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے نہایت سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے موجودہ صوبائی حکومت کی اصلاحات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محکمہ تعلیم سے رانگ پوسٹوں کو ختم کیا اور جو لوگ غلط پوسٹوں پر بیٹھے تھے انہیں معطل کیا۔
خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع میں اساتذہ کی خالی نشستوں پر شروع ہونے والی بھر تیوں سے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استاد ایک بڑا محترم نام ہے۔اس کی بھر تی بھی بڑے محترم طریقے سے ہونی چاہیے۔ اساتذہ کی پوسٹنگ انتہائی شفاف طریقے سے ہو گی۔ اس میں کسی بھی وزیر یا دیگر افسران کا عمل دخل نہیں ہو گا۔جس کے لیے ہم نے ایٹا ٹیسٹ کی شرط رکھی۔اس کے ذریعے اچھے اور ذہین لوگ سامنے آئیں گے۔ایٹا کا انتخاب اس لیے کیا کہ آج تک ایٹا پر ایک اعتراض بھی سامنے نہیں آیا۔اس کا سہر ا بھی ہماری حکومت کو جاتا ہے کہ بھرتیو ں کے لیے سیاسی مداخلت سے پاک نظام کو متعارف کروایا۔خالی نشستوں پر بھرتی کے لیے درخواستیں جمع کروانے والوں سے 400روپے کے ڈرافٹ کی شرط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایٹا کی ٹیمیں جب امتحان کے لیے مختلف علاقوں میں جائیں گی تو ان کو ان کی خدمت کا معاوضہ انہی پیسوں سے ادا کیا جائے گا۔صوبائی وزیر تعلیم خیبر پختون خواہ سردار حسین بابک نے کہاکہ ہماری اولین ترجیح نہ صرف صوبے میں تعلیم عام کرنا ہے بلکہ مفت فراہم کرنا ہے۔ آئندہ سال 45 لاکھ سکول کے بچوں میں مفت یونیفارم دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال”ستوری دا پختونخواہ“(پختونخواہ کے ستارے)کے نام سے ایک پروگرام کا انعقاد کرتے ہیں جس میں اس سال صوبے کے آٹھوں تعلیمی بورڈوں کے ٹاپ ٹین طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو وظائف دیے جائیں گے۔میٹرک کے 80طلبہ و طالبات کو فی کس 10ہزار جبکہ ایف اے کے 80ٹاپ ٹین طلبہ کو 15ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔صوبائی وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم سردار حسین بابک نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت تعلیم کے فروغ کو اولیت دے رہی ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔موجودہ حالات میں نوجوان نسل سے قوم نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔نوجوان خود کو جدید علوم و فنون کے اسلحہ سے لیس کرکے قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔انتظامی کیڈر کے حوالے سے بتاتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے صوبے کی پسماندگی دور کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے یہی وجہ ہے کہ صوبہ کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے کہا کہ لوح وقلم انٹرنیشنل کا اجراء نہ صرف ایک اچھا آئیڈیا ہے بلکہ ایک عمدہ کاوش ہونے کے ساتھ ساتھ عوا م اور حکومت پر احسان ہے۔جب تک مسائل کی نشاندہی نہیں ہوتی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔لوح وقلم انٹرنیشنل تعلیم کے شعبہ میں موجود مسائل کی نشاندہی کرے حکومت ان مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ میں لوح وقلم انٹرنیشنل کے ذریعے طلبہ،اساتذہ اور والدین کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہطلبہ وقت کی قدر کریں اور ایک لمحہ بھی ضائع کرنے سے گریز کریں۔اساتذہ اپنے شعبے کے ساتھ مخلص ہو کر کام کریں۔استاد بڑا معتبر اور محترم نام ہے اس کی لاج رکھیں۔استاد جس دن استاد بنے گا میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن انقلاب کا دن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم کو بہتر بنانا صرف اساتذہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے مانیٹرنگ کا کام کریں اور اساتذہ کے برابر اپنے بچوں پر توجہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں