18

نقل کے ہاتھوں قوم کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر حمایت اللہ خان

پینل انٹرویو:محمد وسیم عباس
عمر خان جوزوی
سردار ایاز
صفدر حسین

نقل ہمارے معاشرے کاایک ناسور بن چکا ہے جو طلباء و طالبات کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈسپلن کی کمی ہے۔منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ہمارے طلباء معیار پر پورانہیں اتر رہے ہیں۔
فروغ تعلیم میں نجی تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہے لیکن اداروں کے مالکان کو دولت کو ہی مقصد نہیں بنانا چاہیے بلکہ دل میں خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے،بورڈ کا سسٹم اس طرح بنا دیا ہے کہ اب اس میں کنٹرولر کیا کہ میں بذات خود بھی کوئی مداخلت نہیں کر سکتا
سروس اب اختتام کے قریب ہے لیکن جب تک دانہ پانی ہے ایبٹ آباد میں ہی رہوں گا، یہاں کے عوام نے مجھے بے پناہ پیا ردیا۔لوح و قلم انٹرنیشنل کو باقاعدگی اور شوق سے پڑھتا ہوں۔چیئرمین ایبٹ آباد بورڈ کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے دلچسپ گفتگو

بطور چیئرمین ایبٹ آباد بورڈ میرٹ کو ہر چیز پر مقدم رکھا، سیاسی دباؤ، رشوت اورسفارش کے کلچر کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا، شروع میں کچھ لوگ اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جب میں نے میرٹ کو بطور ہتھیار استعمال کیا تو نظام سے خرابیوں کا خود بخود خاتمہ ہو گیا۔
اس بار میٹرک گزٹ میں طلباء و طالبات کی آسانی کیلئے سرکاری وپرائیویٹ اداروں میل اور فی میل کوالگ الگ کر کے نتائج تیار کیے ہیں تا کہ طلباء و طالبات کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے
اس سال طلباء و طالبات نے جس سنٹر سے امتحان دیا ہو گا ان کو ان کی ڈی ایم سی وہاں سے ہی ملیں گی،انہیں بورڈ آفس آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

شعبہ کوئی بھی ہو محنت، لگن، خلوص اور ایمانداری کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ جن لوگوں نے محنت، لگن، خلوص اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیئے اور اپنی کامیابی کو ملک و قوم کی کامیابی کے تابع کیا ایسے لوگ کبھی بھی ناکام نہیں ہوئے۔ نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر شخص اپنی ذات و مفاد بارے سوچ رہا ہے ایسے میں آج بھی ایسے عظیم اور قابل رشک لوگوں کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں جو ملک و قوم کی کامیابی کو اپنی کامیابی قرار دے کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ انہی لوگوں میں ایک نام ڈاکٹر حمایت اللہ خان کا بھی ہے۔ ڈاکٹر حمایت اللہ تعلیم کے ذریعے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے زندگی کی کئی قیمتی بہاریں لٹا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی دل میں اس ملک و قوم کیلئے مزید کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر حمایت اللہ پچھلے تین سال سے ابتدائی و ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد میں بطور چیئرمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ہنستے مسکراتے چہرے اور نرم لب و لہجے کے مالک ڈاکٹر حمایت اللہ سے پچھلے دنوں ہفت روزہ لوح و قلم انٹرنیشنل کی ایک خصوصی نشست ہوئی جس کا احوال نذر قارئین ہے۔
ڈاکٹر حمایت اللہ نے جب ابتدائی و ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد کا بطور چیئرمین چارج سنبھالا تھا تو اس وقت ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا تھا ڈاکٹر حمایت اللہ نے یقینا مختصر عرصے میں انقلابی اصلاحات و اقدامات کے ذریعے نہ صرف ان مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا بلکہ بورڈ پر کافی حد تک عوام کا اعتماد بھی بحال کیا لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر حمایت اللہ اپنی زبان سے تعلیمی بورڈ کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا کریڈٹ نہیں لینا چاہتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ عوام ہی کریں گے کہ میں نے بطور چیئرمین ایبٹ آبادتعلیمی بورڈ کیلئے کیااچھا کیا کیا برا……؟ اپنے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ میرا تعلق چارسدہ کے قریب واقعہ رجڑ نامی گاؤں سے ہے لیکن آج کل ہم ورددہ کے علاقے میں رہ رہے ہیں۔ زمینداری ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔ قریبی رشتہ داروں میں تو کوئی باقاعدہ سرکاری ملازم نہ تھا لیکن والد کے چچا زاد بھائی جہانزیب جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے سے متاثر ہو کر میں نے گاؤں سے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر حمایت اللہ کہتے ہیں کہ گاؤں سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے اسلامیہ کالج پشاور، کالجیٹ اور پشاور یونیورسٹی سے مزید تعلیم حاصل کی۔ پشاور یونیورسٹی سے آرکیالوجی میں ایم اے کرنے کے بعد 1977ء میں ایبٹ آباد ڈگری کالج نمبرون میں لیکچرار تعینات ہوا۔ اس دوران میں 5 سال تک ہاسٹل کا وارڈن بھی رہا۔1977ء سے 1982 تک ایبٹ آباد میں مختلف عہدوں پر فرائض سرانجام دینے کے بعد میں 1982ء میں اعلیٰ تعلیم کیلئے یونان چلا گیا۔ جہاں سے 1987 میں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپس آکرچارسدہ پھر تنگی کالج کا تین سال تک پرنسپل رہا۔ اس کے بعد پشاور بورڈ کا کنٹرولر ایگزامینیشن مقرر ہوا اور اس کے بعد پھر مجھے ایبٹ آباد بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ سروس اب اختتام کے قریب ہے مگر جب تک دانہ پانی ہے ایبٹ آباد میں ہی رہوں گا کیونکہ یہاں کی عوام نے مجھے بے پناہ پیا ردیا۔
ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ پیشے کے ساتھ نہ کبھی خیانت کی اور نہ ہی کسی کو خیانت کرنے کی اجازت دی۔ بطور چیئرمین ایبٹ آباد بورڈ میرٹ کو ہر چیز پر مقدم رکھا، سیاسی دباؤ، رشوت اورسفارش کے کلچر کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا، شروع میں کچھ لوگ اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن جب میں نے میرٹ کو بطور ہتھیار استعمال کیا تو نظام سے خرابیوں کا خود بخود خاتمہ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سسٹم خراب نہیں ہوتا۔ ہم خود خراب ہوتے ہیں پھر الزام سسٹم کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ سے ہٹ کر آج تک کوئی سنٹر الاٹ نہیں کیا۔ تمام اضلاغ کے اے ڈی اوز اور سکول پرنسپل امتحانی سنٹرز میں ڈیوٹی لگانے کیلئے لسٹیں فراہم کرتے ہیں ان لسٹوں کی روشنی میں پھر ہم ڈیوٹیاں لگاتے ہیں۔ میٹرک امتحانات کیلئے ہم نے 315سنٹرز قائم کیے تھے۔ سب کوپتہ ہے کہ میں میرٹ پر کمپرومائز نہیں کرتا اس لیے کسی نے سنٹرز کے قیام کیلئے کوئی سفارش نہیں کی۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ نقل ہمارے معاشرے کاایک ناسور بن چکا ہے جو طلباء و طالبات کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے لیکن نقل کرنے میں طلباء و طالبات اکیلے نہیں اس سلسلے میں ان کو والدین کا بھی بھرپور سپورٹ حاصل ہوتا ہے۔ جو انہیں نقل کیلئے اضافی پیسے دیتے ہیں۔ بعض لوگ نقل کے فروغ کیلئے مہمان نوازی کا اہتمام بھی کرتے ہیں جبکہ ان کے ساتھ پاکٹ گائیڈ نقل کے فروغ میں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جن کے باعث نقل کے ہاتھوں قوم کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔اس لیے امتحانات کے دوران ان مسائل و اسباب کو سامنے رکھتے ہوئے ہم منصوبہ بندی کرتے ہیں اس سلسلے میں ایک تو لسٹوں کے مطابق میرٹ پر ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں دوم ہم خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دیتے ہیں جو امتحانی سنٹرز کی نگرانی کرتی ہیں اس کے علاوہ میں خود بھی امتحانی سنٹروں کا دورہ کرتا ہوں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ انسپکٹر روزانہ امتحانی سنٹروں کا دورہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نقل کی بیماری نہ ہوتی تو امتحانی سنٹرز کیلئے ایک دو افراد ہی کافی ہوتے۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ ہم نے نظام کوکافی تبدیل کر دیا ہے سابقہ ادوار میں ایک ایک آدمی سال میں چار بار امتحانی ڈیوٹی کرتا تھا لیکن اب سال میں ایک استاد ایک ہی بار ڈیوٹی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار میٹرک گزٹ میں طلباء و طالبات کی آسانی کیلئے سرکاری وپرائیویٹ اداروں میل اور فی میل کوالگ الگ کر کے نتائج تیار کیے ہیں تا کہ طلباء و طالبات کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات نے جس سنٹر سے امتحان دیا ہو گا ان کو ان کی ڈی ایم سی وہاں سے ہی ملیں گی۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ نے کہا کہ فروغ تعلیم میں نجی تعلیمی اداروں کا یقینا اہم کردار ہے لیکن نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو دولت کو ہی مقصد نہیں بنانا چاہیے جو شخص سکول کھول رہا ہے وہ پیسہ تو کمائے گا ہی۔لیکن دل میں خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔فیسوں میں کمی بارے انہوں نے کہا کہ مالکان نے سپریم کورٹ سے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف رجوع تو کر لیا ہے لیکن ابھی تک سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جاری نہیں کیا۔ اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلے تک ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اب جب تک سپریم کورٹ کوئی حکم نہیں دیتا اس وقت تک ہم ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے پابند ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیسوں میں کمی سے نجی تعلیمی اداروں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پہلے ہی ان اداروں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ ٹیکسٹ بورڈ والے نئی کتابیں لانچ کر رہے ہیں میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ نئی کتابیں لانچ کرنے سے پہلے اساتذہ کی ٹریننگ کرائی جائے اگر اساتذہ کی ٹریننگ کیے بغیر نئی کتابیں لانچ کر دی گئیں تو موجودہ تعلیمی سسٹم بھی تباہ ہو کر رہ جائے گا اس لیے نئی کتابوں کو لانچ کرنے سے پہلے اساتذہ کرام کی ٹریننگ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈسپلن کی کمی ہے۔منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ہمارے طلباء معیار پر پورانہیں اتر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پرائمری سکولوں میں کوالیفائیڈ ٹیچر تعینات نہیں کیے جاتے اس وقت تک ہمارے طلباء انگریزی پر عبور حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ پرائمری سکول ہی تعلیم کی پہلی سیڑھی ہے۔ڈاکٹرحمایت اللہ نے کہا کہ انگریزی زبان کیلئے سکولوں میں الگ سے خصوصی کلاسوں کا اجراء کرنا ہو گا ورنہ ہمارے بچے کبھی بھی انگریزی نہیں بول سکیں گے۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ میٹرک امتحانات میں پوزیشن لینے والے طلباء و طالبات میں وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی خود انعامات تقسیم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میٹرک نتائج کا اعلان انشاء اللہ 15 جون تک کر دیا جائے گا۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ ہفت روزہ لوح و قلم انٹرنیشنل کو اس لیے باقاعدگی اور شوق سے پڑھتا ہوں کہ اس کے اندر سب خبریں ہماری اپنی یعنی تعلیم کے بارے میں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ کا سسٹم اس طرح بنا دیا ہے کہ اب اس میں کنٹرولر کیا کہ میں بذات خود بھی کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر حمایت اللہ نے کہا کہ ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ پر عوامی اعتماد کی بحالی میری سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر کوئی ایک روپیہ کی کرپشن بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں نے امانت میں خیانت تو درکنار کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں