17

تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،امبر علی خان

انٹرویو مشتاق احمد آزاد
ضیاء الرحمن قاضی
عکاسی،ابرار حسین شاہ

جس دن ہماری شرح خواندگی 80% سے اوپر ہوجائے گی ہمارے 80% مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے۔ تعلیم کی کمی تمام مسائل کی بنیاد ہے،طلباء اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول پر صرف کریں ملک کو ان کی ضرورت ہے
لوح وقلم انٹرنیشنل کا اجراء ایک انقلابی قدم ہے۔یہ اخبار یقینا تعلیم کی بہتری کیلئے کلیدی کردار اد اکرے گا،تعلیم سے وابستہ افراد اس کا مطالعہ ضرور کریں،ڈی سی او مانسہرہ امبر علی خان کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو
)DCOڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر(کی پوسٹ بڑی اہم ہوتی ہے کیونکہ ضلع کی انتظامی امور کی ذمہ داریاں جوئے شیر لانے کے مترادف ہیں۔ ڈی سی او مانسہرہ امبر علی خان یہ ذمہ داریاں بڑے احسن انداز سے نبھا رہے ہیں۔ ڈی سی او امبر علی خان کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے۔ ان کا شمار ان آفیسر ز میں ہوتا ہے جو خالص میرٹ پر اس عہد ے تک پہنچے ہیں۔شاندار تعلیمی پس منظر کے حامل انتہائی نفیس انسان ہیں ان کے کام میں ان کی نفاست کا عکس نظر آتا ہے۔ان کے ڈی سی او مانسہرہ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد مانسہرہ میں انتظامی امو ر میں بہت بہتری نظر آئی۔ انہیں مانسہرہ کے بتیسویں (32) ڈی سی جبکہ تیرویں (13) ڈی سی اوہونے کا اعزاز حاصل ہے۔وہ اپنی ان کامیابیوں کو تعلیم کے مرہون منت قرار دیتے ہیں۔تعلیم نے ان کی زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے اور ان کو عروج بخشا یہ جاننے کے لیے لوح و قلم انٹرنیشنل نے ان سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا ہے جو قارئین کی نظر ہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل: اپنے پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیے۔
ڈی سی او مانسہرہ: میرا تعلق ضلع مردان کے گاؤں لوند خوڑ کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔میں نے ابتدائی تعلیم لوندخوڑ تحصیل تخت بھائی ضلع مردان سے حاصل کی۔کیڈٹ کالج زرمک سے ایف ایس سی امتیازی نمبروں سے پاس کی۔ ایم بی بی ایس خیبر میڈیکل کالج سے مکمل کیا۔ فیڈرل پبلک سروس کمشن کے امتخانات میں امتیازی پوزیشن حاصل کی۔ضلع اٹک سے بطور اے سی سروس کا آغاز کیا۔ ا ٓٹھ (8) سال پنجاب میں خدمات انجام دیں۔ 2008 میں صوبہ خیبر پختونخواہ ٹرانسفر ہوئی اور ڈائریکٹر جنرل ایکسائیز تعینات ہوا اس کے بعد ایک سال تک صوبے کے چیف اکانومسٹ کی خدمات سرانجام دیں۔
لوح وقلم انٹرنیشنل : عوامی خدمت کے اس شعبے کا انتخاب کس وجہ سے کیا؟
ڈی سی او: دیکھئے اصل میں خدمت کاجذبہ اگر موجود ہو تو راہیں خود بخود کھلتی رہتی ہیں۔ اپنی بات کو روکتے ہوئے کہا۔دیکھئے! پہلے میں آپ کو یہ گوش گزار کروں کہ یہاں تک پہنچنے کیلئے بہت محنت کرنا پڑی اور اس کی بنیادی اکائی تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کی بنیاد پر آ ج یہاں براجماں ہوں۔ میں اپنی بات دھراؤں گا کہ تعلیم کے بغیر انسان بینائی کے ہوتے ہوئے بھی اندھا ہوتا ہے۔ ہم بات کر رہے تھے اس جانب آنے کی تو خدمت کا جذبہ مجھے اس جانب لے کر ا ٓیا میں نے MBBS کیا، وہاں بھی خدمت کے بڑے مواقع تھے تاہم اس سیٹ پر رہ کر آپ ہر شعبے کی خدمت کرسکتے ہو میر ی خواہش رہی ہے کہ میرے وطن کے لوگ آسودہ حال ہو ں، ترقی کے، ملازمت کے اور آگے بڑھنے کے مواقع انہیں میسر ہوں۔ یہ پور ی دنیا میں عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھے اور جانے جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے وطن کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہو۔ اس لئے ایجوکیشن سائیڈ پر میری زیادہ تر توجہ رہتی ہے او ر میں علاقہ کے ای ڈی او، ڈی او اور پرائیویٹ سیکٹرکے ساتھ میں گفت و شنید، اوران کی مانیٹرنگ کرتا رہتا ہوں تا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل : پاکستان کے بنیادی مسائل کیا ہیں اور ان کا حل آپ کی نظر میں کیا ہے۔
ڈی سی او: دیکھیں جی پاکستان کے مسائل اٹھا کر دیکھیں تو تعلیم کی کمی سارے مسائل کی جڑ ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کے بنیادی مسائل کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ دیکھیں!کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا تعلیمی ریشو 95% سے 100% تک رہتا ہے۔ اس لئے ان ممالک میں مسائل نہ ہونے کے برابر اور وسائل بے انتہاہوتے ہیں۔ اس لیے میں آپ کے اخبار کے توسط سے اس بات کو پھر دھراؤں گا کہ تعلیم کی کمی یا دوسرے معنی میں تعلیم سے دوری ہمارے بنیادی مسائل ہیں۔ جس دن ہماری شرح خواندگی 80% سے اوپر ہوجائے گی ہمارے 80% مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل :ڈی سی او کی ذمہ داریاں کیا کیا ہوتی ہیں۔ تاکہ قارئین ایک ڈی سی او کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوسکیں۔
ڈی سی او: دیکھیں جی ڈی سی او کے لغوی معنی تو آپ جانتے ہیں District Coordinator Officer (ضلعی رابطہ آفیسر)یعنی عام فہم میں یو ں کہیں گے کہ ضلع کا انتظامی امور کا آفیسر۔ جواپنے ضلع کے جملہ انتظامی اُمور کو دیکھتا اور مختلف محکموں کی ضلع کی سطح پر دوسرے محکموں کے ساتھ رابطہ کرانے کا ذ مہ دار ہوتا ہے۔ڈی سی او کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پرنسل اکاؤنٹ آفیسر بھی ہوتا ہے ضلع میں جاری تمام ترقیاتی کاموں کی فنڈنگ اس کی اپروول سے ہوتی ہے۔ جبکہ ایجوکیشن، زراعت، انڈسٹری، محکمہ مال، صحت، غرض تمام امور کا نگراں ڈی سی او ہوتا ہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل :نظام کی بہتری کیلئے آپ کے پاس کیا تجاویز ہیں،یانظام کی بہتری کیسے ممکن ہے۔
ڈی سی او: دیکھیں جی میں پہلے بھی یہ بات دھرا چکا ہو ں کہ نظام کی بہتری بہترین تدریسی عمل سے ہی ممکن ہے۔ ہمارے ہاں ایک المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے (زیادہ تر) ڈگریوں والے بنارہے ہیں۔ تعلیم یافتہ اورباشعور انسان نہیں بناتے۔ جس کی وجہ سے نظام مزید خرا ب ہوتا جار ہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ زیادہ تر ”ڈگریوں“ والے ہی سسٹم کی خرابی اور مسائل کے بنیادی وجہ بن رہے ہیں، یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ”پڑھے لکھے“ لوگ ہمارے یہاں ملک کو زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔سسٹم کی بہتری تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم بہترین تدریسی ادارے بنائیں۔ یہاں پر آنے والے طالب علموں کو ان خطوط پر تعلیم دی جائے کہ جو ملک و قوم کی ترقی کیلئے مفید ثابت ہو تب ہی جا کر سسٹم کی بہتری ممکن ہے وگرنہ ہماری تباہی کے اسباب سامنے نظر آرہے ہیں۔مجھے نظام میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی جو لوگ نظام کو چلارہے ہیں اُ ن کی کوالٹی کو بہتر بنانا ہوگا تب ہی ہم ایک بہترین انتظام چلانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
لوح وقلم انٹرنیشنل : آئندہ زندگی کے بارے میں آپ کے عزائم کیا ہیں۔
ڈی سی او:میں تو جس دن اس جانب آیا۔ اپنے آپ سے عہد کیا کہ ملک و قوم کے کسی کام آسکوں اس لئے جب تک بھی اس عہدے پر رہا ملک و قوم کیلئے جو ہوسکا کرتا رہوں گا۔ میں اب تک جہاں بھی تعینات رہا میری کوشش رہی کہ کرپشن کو کم سے کم کیا جائے تعلیم کو عام کیا جائے۔ لاء اینڈ آرڈر کے مسائل کوکنٹرول میں رکھا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کی عزت نفس کو کوئی محکمہ یا اہلکار مجروح نہ کرے یہی میرے عزائم ہیں۔ مجھے اللہ نے جو عزت دی اور ذمہ داری سونپی میری پوری کوشش ہوگی کہ میں ان کو بطور احسن نبھاؤں۔ میری کوشش رہے گی کہ تعلیم کی بہتری کیلئے کچھ نیا اور بہتر کرسکوں اس کے علاوہ ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں میں بڑے گھمبیر مسائل رہے ہیں ان مسائل کے حل کیلئے بھی مجھ سے جو ہو سکے گا میں نے پہلے بھی کیا اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ہمارے ہاں پولیس سے لوگ بہت متنفر رہتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ پولیس اور عوام کے درمیان جو خلا بنا ہوا ہے وہ کسی طریقے سے کم ہوسکے۔ ملک و قوم کی بہتری کیلئے جدوجہد میں لگے ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ ہمیں خاطر خواہ کامیابی نصیب کرے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل کے متعلق کیا کہیں گے؟
ڈی سی او:میں سمجھتا ہوں کہ لوح وقلم انٹرنیشنل ہماری ذمہ داریاں کافی حد تک نبھا رہے ہیں۔ میرا بھی یہ مائنڈ ہے کہ معیاری تعلیم عام ہو اور لوح و قلم بھی تعلیم ہی کی بہتری کیلئے کام کر رہاہے۔ میں لوح و قلم انٹر نیشنل کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اتنا معیار ی اخبار کا اجراء کیا.یہ اخبار یقینا تعلیم کی بہتری کیلئے کلیدی کردار اد اکرے گا۔میری خواہش ہے کہ تعلیم سے وابستہ تمام افراد اس اخبارکا مطالعہ ضرور کریں۔
لوح وقلم انٹرنیشنل: طلباء اور مانسہرہ کے عوام کو کیا پیغام دیں گے؟
ڈی سی او: میرا تو یہی پیغام ہے کہ ہر انسان اہم ہے اور چاہے تو ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ میں آپ کے اخبار کے توسط سے یہی کہوں گا کہ ہم تعلیم کو عام کریں اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت پر توجہ مرکوز رکھیں تو ایک دن ضرور آئے گا کہ مانسہرہ ماڈل ضلع کا درجہ پا لے گا۔ یہاں مسائل نہیں ہوں گے بلکہ بفضل تعالیٰ وسائل ہی وسائل ہو ں گے۔طلباء اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول پر صرف کریں ملک کو ان کی ضرورت ہے۔میرے آفس کے دروازے سارے لوگوں کیلئے کھلے ہیں آپ کا جو مسئلہ ہو ا ٓپ آئیں مجھ سے کہیں میں کوشش کروں گا کہ ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرسکوں۔کسی قوم وملک کی ترقی کی ایک بنیاد ی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ متحد رہیں اس لئے میری تمام لوگوں سے کہوں گاکہ جب تک آپ متحد ہیں آپ کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس شعر پہ کیا۔
اب تو جیسے بھی ہوں حالات میرے پیارے لوگو
خود کو تقسیم نہ کرنا میرے سارے لوگو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں