18

احمد کے چوزے

احمد ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جس سے والدین بہت زیادہ پیار کرتے تھے، مطلب وہ والدین کا لاڈلا بیٹا تھا احمد تھا تو چھوٹا سا پر اسے جانوروں بالخصوص مرغیوں او رپرندوں سے بہت پیار تھا۔ احمد جب دو سال کا تھا تب بھی احمد کوئی مغربی یا پرندہ دیکھتا تو فوراً اس کے پیچھے بھاگ پڑتا۔ مرغی یا پرندہ تو احمد کے ہاتھ نہ آتا لیکن احمد ان کے پیچھے بھاگ کے جانوروں سے اپنی محبت کا اظہار کر لیتا۔ پھر ہوا یوں کہ احمد جب ذرا بڑا ہوا تو ان کے پڑوس میں ان کے ہم عمر بچوں نے اپنے لیے مرغی کے کچھ چوزے لائے یہ دیکھ کہ احمد کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور وہ موقع پاتے ہی گھر سے چوزے دیکھنے پڑوسیوں کے گھر پہنچ جاتا۔ مگر ہر روز احمد پڑوسیوں کے گھر سے ناکام اور مایوس لوٹ آتا کیونکہ پڑوسیوں کے بچے اپنے چوزوں کے ساتھ احمد کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیتے۔ احمد کی مرغیوں اور پرندوں سے محبت کا یہ منظر دیکھ کر احمد کے ابو سے رہا نہ گیا اور انہوں نے فوری طور پر بازار سے احمد کیلئے دو چوزے لائے۔ ابو کے ہاتھوں میں دو خوبصورت سے چوزے دیکھ کر احمد اتنا خوش ہوا جیسے اس کو دنیا کا کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ گھر لائے گئے خوبصورت چوزوں کی مہمان نوازی احمد نے کچھ اس طرح سے کی کہ خود تو کچھ کھایا پیا نہیں لیکن چوزوں کا اس طرح خیال رکھا کہ ایک منٹ کیا ایک سیکنڈ بھی ان کے پاس سے ادھر ادھر نہیں ہوا۔ اب احمد ہر وقت چوزوں کے پاس ہوتا۔ رات کو بھی احمد چوزوں کو قریب پنجرے میں رکھ کر سوتا لیکن پھر ایک دن احمد کیلئے بھاری ثابت ہوا اور ایک کالا کوا ایک چوزے کو اٹھا کے لے گیا کالے کوے نے معصوم احمد کا ذرہ بھی خیال نہیں کیا۔ اس کے بعد احمد پر جو گزری اس پر وہ کوے سے بچنے والا چوزا بھی آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس کے بعد احمد کے ابو نے دوسرا چوزا پڑوسیوں کے بچوں کو دے دیا تا کہ دوسرے چوزوں کے ساتھ یہ خوش رہے لیکن احمد کا چوزے پالنے کا شوق آج بھی پورا نہیں ہوا ہے وہ آج بھی جب گھر سے باہر نکلتا ہے تو ہر آنے والے سے پوچھتا رہتا ہے کہ میرے چوزے کدھر گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں