17

ہزارہ یونیورسٹی کو ملک بھرمیں سر فہرست لانا چاہتا ہوں،پروفیسر سید سخاوت شاہ

اس وقت ہزارہ یونیورسٹی سے ایک لاکھ اکیس ہزار 593 طلباء و طالبات اور65 تعلیمی ادارے استفادہ حاصل کر رہے ہیں، ہزارہ یونیورسٹی خیبرپختونخواہ کی تیسری بڑی یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے جبکہ ملکی سطح پر 16 ویں یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔
نونہالان قوم کو جدید اور معیاری تعلیم ان کی دہلیز پر فراہم کرنا چاہتا ہوں،ایبٹ آباد میں بھی اگر مخیر حضرات یونیورسٹی کے لیے جگہ مہیا کریں تو جلد ہی کیمپس کا قیام عمل میں لائیں گے،وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو

پینل انٹرویو:
محمد وسیم عباس
لیاقت خان راحت
مشتاق احمد آزاد
عکاسی۔فہد خالد

اس وقت یونیورسٹی میں 382 اساتذہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان میں سے85 اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں۔ اور 52 کو پی ایچ ڈی کیلئے جلد بھیجا جا رہا ہے۔ آئندہ تین سالوں میں ہم امید کرتے ہیں کہ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 300 تک ہو جائے گی۔
یونیورسٹی کسی فرد واحد کی نہیں اور نہ ہی اس کے سربراہ مالک ہوتے ہیں یونیورسٹی طلبہ اور عوام کی ہوتی ہے۔ سربراہان اور ملازمین اس کے رکھوالے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی طلباء کی ملکیت ہے اور اس کی دیکھ بھال، تعمیر و ترقی کی ذمہ داری بھی ان سمیت ہم سب پر فرض ہے۔ آگے آئیں اور اپنے آنے والی نسلوں کی اس قیمتی امانت کا تحفظ کرکے اتنی ترقی دیں کہ اس کو تاریخ سنہری حروف سے رقم کرے

ہزارہ کی سر سبز و شاداب اور خوبصور ت دھرتی پر 2002ء میں قائم ہونے والی اپنی نوعیت کی جدید اور خوبصورت ترین یونیورسٹی”ہزارہ یونیورسٹی“ اس وقت اپنے تعلیمی اہداف کے حصول اور معیاری اور جدید تعلیم کے حوالے سے ملک کی 16 ویں اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی تیسری یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ اتنے قلیل عرصے میں اس درجہ کمال تک پہنچنے والی شایدیہ ملک کی پہلی یونیورسٹی ہو۔ یونیورسٹی بلند و بالا عمارت کا نام نہیں بلکہ یونیورسٹی کی پہچان وہاں علم کی پیاس بجھانے والے اور پیشہ پیغمبری سے وابستہ شخصیات سے ہوتی ہے۔ جو نہ صرف علم کی اشاعت کر کے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کرتے ہیں بلکہ نئی نسل کو تعمیر و ترقی میں در پیش چیلنجز سے نمٹنے کا گر سکھاتے ہیں۔ ہزارہ یونیورسٹی اس حوالے سے خوش قسمت ترین یونیورسٹی ہے جس کے سربراہان نے اس کی دیکھ بھال اور تعمیر و ترقی اپنی استطاعت سے کئی گناہ بڑھ کر ہمت، لگن، حوصلہ اور کام کام اور مسلسل کام سے کی۔ ان ہی معتبر اور با ہمت شخصیات میں ایک نام پروفیسر ڈاکٹر سید سخاوت شاہ کا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید سخاوت شاہ نے ہزارہ یونیورسٹی کے چوتھے وائس چانسلر کی حیثیت سے فروری 2010 کو یہاں کا چارج سنبھالا۔آپ کی شخصیت ہر پہلو سے معتبر اور قابل تقلید ہے۔ خوبصورت مزاج اور دوستانہ رویے کی حامل یہ شخصیت اپنے اند رعلم و دانش کا سمندر لیے ہوئے اپنے شاگردوں اوریونیورسٹی کی تعمیر و ترقی کیلئے دن رات کام کر رہی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر سید سخاوت شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سکندرہ پورہریپور سے حاصل کی۔ آپ نے گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے BSC کی۔بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی آپ نے پاکستان کی قابل ذکر یونیورسٹی قائد اعظم یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم فل کیا اور اعلیٰ تعلیم کیلئے جرمنی چلے گئے۔ آپ نے جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ 1978ء کو وطن عزیز کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر واپس چلے آئے اور مادر علمی قائد اعظم یونیورسٹی میں بطور استاد تعینات ہوئے۔ آپ شبانہ روز محنت اور لگن اور قابلیت کی بناء پر مرحلہ وار آگے بڑھتے ہوئے پروفسیر کے عہدے پر پہنچے آپ نے اس دوران کئی تعلیمی دورے کیے۔ جرمنی، جاپان، برطانیہ، تھائی لینڈ، انڈیا، ترکی، بلغاریہ، ملائشیاء، چائنہ، کوریا کے دورے کیے اور بین الاقوامی سیمیناروں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ آپ کو کیمسٹری کے شعبہ میں کارہائے نمایاں سرنجام دینے پر 2002-03 میں حکومت پاکستان نے تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا۔ آپ نے ملائشیا میں دو سال جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی میں 32 سال تک قوم کے نونہالوں کی تعلیمی نگہداشت کی۔ آپ کو فروری2009 کو ہزارہ یونیورسٹی کا چوتھا وائس چانسلر تعینات کیا گیا آپ کی تعیناتی سے یونیورسٹی نے نصابی طور پر بے پناہ ترقی کی اور تعلیمی معیار کے اعتبار سے ملکی مایہ ناز یونیورسٹیوں میں شمار ہونے لگی۔ گزشتہ دنوں پروفیسر ڈاکٹر سید سخاوت شاہ سے ہفت روزہ لوح وقلم انٹرنیشنل کی خصوسی نشست ہوئی جس کی تفصیلات قارئین کی نظر ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پروفیسر صاحب ہمارے قارئین کو ہزارہ یونیورسٹی کے قیام اور کارکردگی کے حوالے سے کچھ بتائیں؟
پروفیسر سید سخاوت شاہ: ہزارہ یونیورسٹی ہزارہ کے پانچوں اضلاع مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہریپور، بٹگرام اور کوہستان و کالا ڈھاکہ کے طلباء و طالبات کی تعلیمی مشکلات کو مد نظر رکھ کر قائم کی گئی یہ ہزارہ کی پہلی پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے ہزارہ کے پانچوں اضلاع بالخصوص اس سے مستفید ہو رہے ہیں مگر اس کا دائرہ افادیت اس سے کئی گناہ بڑا ہے۔ یہ شمال میں گلگت، چترال، سوات، بونیر، مغرب میں راولپنڈی اور جنوب میں آزاد جموں و کشمیر تک تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہے اور علم کے پیاسوں کی پیاس بجھا رہی ہے۔ 10 اکتوبر 2001ء میں قائم ہونے والی اس یونیورسٹی نے طلباء، اساتذہ، اور شعبہ جات کے حوالے سے بے پناہ ترقی کی ہے۔ اس وقت 1,21,593 طلباء و طالبات، 65 تعلیمی ادارے اس یونیورسٹی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 5812 طلباء و طالبات اس وقت گارڈن کیمپس میں زیر تعلیم ہیں جبکہ اس یونیورسٹی کی دو سٹیلائیٹ کیمپس ہریپور حویلیاں میں قائم کی گئی ہیں اب تک 4839 گریجویٹ اس ادارے سے ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ ہزارہ یونیورسٹی خیبرپختونخواہ کی تیسری بڑی یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکی ہے جبکہ ملکی سطح پر 16 ویں یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔
اس وقت یونیورسٹی میں 382 اساتذہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ان میں سے85 اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں۔ اور 52 کو پی ایچ ڈی کیلئے جلد بھیجا جا رہا ہے۔ آئندہ تین سالوں میں ہم امید کرتے ہیں کہ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 300 تک ہو جائے گی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پروفیسر صاحب تعلیمی سہولیات کے حوالے سے یونیورسٹی کی خدمات پر روشنی ڈالیں۔
پروفیسر سید سخاوت شاہ:یونیورسٹی حدود اربعہ اور آب و ہوا کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس وقت سات تعلیمی بلاک جبکہ تین انتظامی بلاک کام کر رہے ہیں۔یونیورسٹی کا اپنا کیمپس ریڈیو ایف ایم 98.6 کام کر رہا ہے جہاں شعبہ ابلاغ عامہ کے طلباء و طالبات اپنے علم کو عملی طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یونیورسٹی میں ایک بہترین ملٹی پرپز ہال، ٹیچرز سٹوڈنٹس سنٹر، طباء و طالبات کیلئے علیحدہ علیحدہ ملکی معیار کے مطابق ہاسٹلز موجود ہیں جبکہ غیر ملکی فیکلٹی ممبرز کیلئے بین الاقوامی معیار کی رہائش گاہ بھی موجود ہے یونیورسٹی کا اپنا عجائب گھر ہے۔ جبکہ نیشنل سنٹر فار کوآپریٹیو ریسرچ اینڈ ٹریننگ سنٹر بھی قائم کیا گیاہے۔
یونیورسٹی کے ہر شعبہ میں ان کے نصاب کے مطابق لائبریری قائم کی گئی ہے جبکہ ایک مرکزی لائبریری بھی ہے جہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد کتب موجود ہیں۔ یہ لائبریری کمپیوٹرائزڈ ہے اور ایم فل، پی ایچ ڈی لیول کے طلباء کو جدید ترین ذریعے سے بین الاقوامی طرز کی ریسرچ میں مدد دیتی ہے۔ یونیوسٹی کا ایک بہترین اور جدید ترین سینٹ ہال ہے جہاں اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی تقریبات ہوتی ہیں اور ریڈیو کانفرنس نشست منعقد ہوتی ہے۔ پوری یونیورسٹی میں انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پروفیسر صاحب یونیورسٹی نے اس وقت تک کیا کارنامے نمایاں سرانجام دیئے ہیں؟
پروفیسر سید سخاوت شاہ:ہزارہ یونیورسٹی کے ریسرچ کرنے والے طلباء و طالبات کے ریسرچ بین الاقوامی جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ اب تک 350 ریسرچ پیپرز شائع ہو چکے ہیں۔ ہمارے فیکلٹی ممبر کے 3 ریسرچ جرنلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔ جبکہ ہزارہ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز نے پانچ کتابیں لکھی ہیں۔حکومت پاکستان نے ہزارہ یونیورسٹی کو تمغہ حسن کاکرردگی بھی دیاہے جبکہ ایک فیکلٹی ممبر کو تمغہ امتیاز بھی دیا گیاہے۔ہزارہ یونیورسٹی کئی بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے رابطے میں ہے ان میں گلاسکو یونیورسٹی، یسٹر یونیورسٹی برطانیہ،گارڈن یونیورسٹی،ایکسٹر یونیوسٹی، سیرے یونیورسٹی سمیت برطانیہ کی دوسری نامی گرامی اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ ہزارہ یونیورسٹی نصابی پروگراموں کے حوالے سے ہمہ وقت ان سے رابطہ میں رہتی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پروفیسر صاحب آپ نے اپنی تعیناتی کے بعد یونیورسٹی کی ترقی اور طلبہ کی بہتری کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
پروفیسر سید سخاوت شاہ: میری تعیناتی سے قبل یونیورسٹی میں جاری تعمیراتی کام رک گئے تھے شاید فنڈز کی وجہ تھی یا کوئی اور ٹیکنیکل مسئلہ تھا میں نے سب سے پہلے ان ٹھیکیداروں کو ان کی رکی ہوئی رقوم دلوائی اور ان کو تعمیراتی کام تیزی سے مکمل کرنے کی خصوصی ہدایات دیں۔ اس طرح ان پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔یونیورسٹی میں اردو اور شماریات کے دو نئے ڈیپارٹمنٹ اور انکے ساتھ ساتھ ”ہزارہ چیئر“ کا قیام عمل میں لایا۔ ہزارہ چیئر کا مقصد ہزارہ کے کلچر، رسم و رواج اور زبانوں سے متعلق ریسرچ کرنا ہے اور اس کی ترویج کیلئے عملی کوششیں کرنا ہے اس طرح ہمارے اساتذہ نے قلیل وقت میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔
کسی بھی ملک کی یونیورسٹی کی رینکنگ ریسرچ کے کاموں پر ہوتی ہے اس وقت تک 120 ریسرچ پیپرز لکھے جا چکے ہیں۔ اور یہ سب سے زیادہ ہیں۔ دس ریسرچ پراجیکٹس پر کام ہو رہا ہے اس طرح یہ ملک کی 16 ویں بڑی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی تیسری یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ میری تعیناتی کے بعد میں نے طلباء کو ریلیف دیا اور سیکورٹی فیس میں کمی کی۔ مختلف سکالر شپ کا اجراء کرایا تا کہ غریب نادار اور ذہین بچے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس یونیورسٹی کا بجٹ 30% اور زیادہ سے زیادہ 35% ہوتا ہے جبکہ میری تعیناتی کے بعد اسے 38% تک بڑھایا گیامگر یہ صرف ایک بار ہوا اس طرح بقیہ اخراجات ہم اپنے ذرائع سے پورا کرتے ہیں ریسرچ کے حوالے سے چاول اور سرسوں کی نئی ورائٹی پر ہماری یونیورسٹی نے ریسرچ کی ہے۔ اور سرسوں کی نئی ورائٹی حکومت کو دی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے حوالے سے آپ کے آئندہ کے عزائم اور ارادے کیا ہیں؟
پروفسیر سید سخاوت شاہ: ہزارہ یونیورسٹی کا حدود اربعہ اور آب و ہوا کسی بھی آئیڈیل یونیورسٹی کی سی ہے تا ہم اس وقت یونیورسٹی کو مزید ترقی کی ضرورت ہے اسے دوستوں کی ضرورت ہے۔ جو درد دل رکھتے ہوں اور ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہوں اور تعلیم عام کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو انہیں آگے آنا چاہیے۔ مالی لحاظ سے، اراضی کے لحاظ سے، تجربات اور خیالات کے اور تکنیکی مدد فراہم کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہزارہ یونیورسٹی ہزارہ کے پر فکر پر ہو۔ اسی وجہ ہریپور، حویلیاں میں کمیپس قائم کیے ہیں۔ مستقبل میں ایبٹ آباد، کوہستان اور جہاں بھی ہم سٹیلائٹ کیمپس قائم کریں تا کہ ہزارہ یونیورسٹی پورے صوبے میں تعلیمی اعتبار سے آگے ہو۔ میری خواہش ہے کہ ہزارہ یونیورسٹی رینکنگ کے لحاظ سے دنیا بھر کی اعلیٰ ترین یونیورسٹی میں شمار ہو۔ تمام سٹاف سے بات چیت کر رہا ہوں تا کہ وہ ریسرچ میں مزید دلچسپی لیں اور یہ عمل تیز کریں تا کہ بین الاقوامی طور پر اس کی رینکنگ اپ ہو اس حوالے سے ہمیں کوالیفائیڈ لوگ درکار ہیں۔ جو حضرات PHD اور بیرون ممالک سے جدید علوم لیکر آتے ہیں ہم انہیں ملازمت کے مواقع مہیا کرتے ہیں ایبٹ آباد میں بھی اگر مخیر حضرات جگہ مہیا کریں تو وہاں جلد ہی کیمپس کا قیام عمل میں لائیں گے ہم اپنے بچوں کو جدید اور معیاری تعلیم سب کی دہلیز پر دینا چاہتے ہیں۔ 2015 میں ہماری کوشش ہے کہ طلباء کی تعداد 15 ہزار تک چلی جائے اس طرح اساتذہ کی تعداد 600 تک ہو گی۔ ہم ریسرچ کلچر کو فروغ دینے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تا کہ حکومت اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ طلباء اور قارئین کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
پروفیسر سید سخات شاہ: ہزارہ یونیورسٹی فرد واحد کی یونیورسٹی نہیں اور نہ ہی اس کے سربراہ مالک ہوتے ہیں یونیورسٹی طلبہ اور عوام کی ہوتی ہے۔ سربراہان اور ملازمین اس کے رکھوالے ہوتے ہیں اور اس مقدس امانت کی حفاظت آنے والی نسلوں کیلئے کرتے ہیں یونیورسٹی طلباء کی ملکیت ہے اور اس کی دیکھ بھال، تعمیر و ترقی کی ذمہ داری بھی ان سمیت ہم سب پر فرض ہے۔ آگے آئیں اور اپنے آنے والی نسلوں کی اس قیمتی امانت کا تحفظ کرکے اتنی ترقی دیں کہ اس کو تاریخ سنہری حروف سے رقم کرے ہمیں ”فرینڈز آف ہزارہ یونیورسٹی“ ہزارہ یونیورسٹی کے دوستوں کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے یہ بات ضرور کروں گا کہ صرف منفی پہلو کو اجاگر نہ کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مثبت پہلو بھی سامنے لائیں منفی پہلو کے ساتھ آراء اور تجاویز بھی ہوں تا کہ اس کمی کو پورا کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں