17

ایک طالبہ کی گزارشات،دی اربن پبلک سکول منڈیاں‌ایبٹ آباد

عاصمہ صمصام
کلاس نہم
سکول دی اربن پبلک سکول منڈیاں ابیٹ آباد
میرا نام عاصمہ ہے اور میں جماعت نہم کی طالبہ ہوں میں اس وقت ایک بہترین درس گاہ میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہوں جس کا نام دی اربن پبلک سکول ہے۔میرے اساتذہ کرام بہت محنتی ہیں اور پرنسپل صاحب تو مجھے بیٹی کی طرح چاہتے ہیں۔میرے اساتذہ نہایت ہی محنتی اور قابل ہیں۔تمام طلباء کو اپنی اولاد کی طرح رکھتے ہیں۔آج کل تعلیم اگر چہ عام ہے ہر گلی کوچے میں سکول موجود ہیں لیکن اس کے باو جود ایک بچے کیلئے کئی مسائل ہیں جوکہ نہایت قابل توجہ ہیں۔ جب بچہ تین سے چار سال کا ہو جاتا ہے تو اسے سکول سے واسط پڑتا ہے بعض بچے خوشی خوشی سکول جا تے ہیں لیکن بعض بچوں کو زبردستی سکول بھیجنا پڑتاہے ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد پڑھ لکھ کر اپنی زندگی آرام وسکون سے گزارے۔میری آج کی تحریر کا موضوع یہ ہے کہ 9 سے18سال کے بچوں کے کیا مسائل ہوتے ہیں۔بچہ تو بچہ ہوتا ہے اس میں اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ بڑے آدمی کی طرح سوچ رکھے اس لیے اسے بعض اوقات سخت مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔
9سال کا بچہ تقریبا پانچویں اور چھٹی کا طالب علم ہوجاتا ہے اس کے سر پر کتابوں کا بوجھ،روزانہ کی پڑھائی،ہوم ورک کلاس ٹیسٹ کی تیاری، گھر میں کام کاج، رشتہ داروں کے ہاں فنکشن میں شرکت یہ وہ کام یا مصروفیات ہیں جن میں ان کا وقت بہت گزر جاتا ہے۔اگر بچوں پر والدین کی طرف سے معقول توجہ نہ دی جائے اور سکول میں اساتذہ کی طرف سے ڈانٹے اور مارو سزا کا سلسلہ جاری رہے تو وہ بچہ کند ذہن غبی ہو جائے گا اور مستقبل میں وہ کلاس میں ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کاشکار ہوگا۔والدین اور اساتذہ کرام کو اس دور کے بچوں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ ان کے ساتھ ہمدردی کا رویہ رکھنا چاہیے بعض اوقات ہلکی سی بھی ہمدردی کا رگر ثابت ہوسکتی ہے۔
9سال سے 18 سال کی عمر کا دور انتہائی اہم ہوتا ہے۔ جس میں بچہ نشونماپاتا ہے اس کا جسم ہر دن بڑھتا ہے اس عمر کے بچوں کے ذہن میں محتلف قسم کے خیالات،شعور میں تبدیلی آتی ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے کہ جس میں طبیعت میں ہیجان پیداہوتا ہے بچہ اپنی سوچ کو سب سے افضل سمجھتا ہے۔دوسروں کو بیوقوف تصور کرتا ہے۔ دین سے دوری آنے لگتی ہے۔ شیطانی خیالات میں تیزی آجاتی ہے جس نے اس دور کو قابو میں کر لیا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے قابو میں نہ کیا وہ گمراہی کی طرف چلاگیا۔
اس عمر کے بچو ں کی ہر فرما ئش پوری نہیں کر نی چاہیے اس عمر کے بچوں کے بگڑنے کی زیادہ تر وجوہات ٹی وی، موبائل،انٹرنیٹ ہے جہاں دیکھوہر گھر میں ٹی وی، موبائل،انٹرنیٹ لگا ہوتاہے بچوں کے خراب ہونے کی زیادہ وجہ میڈیاہے۔کیونکہ اس عمر کے بچے زیادہ شوق سے کارٹون دیکھتے ہیں آج کل کارٹون میں بھی پیارو محبت کی کہانیاں ہیں چھوٹے بچے اسی چیز سے سیکھتے ہیں ان کی مائیں بہت خوش ہوتی ہیں کہ ہمارے بچے کارٹون دیکھ رہے ہیں لیکن اصل میں وہ اپنی زندگی خراب کر رہے ہوتے ہیں اور اس طرح وہ گہرائی میں چلے جاتے ہیں اس لیئے اس عمر کے بچوں کو ہر گز اکیلانہ چھوڑاجائے اور میری میڈیا سے گزارش ہے کہ بچوں کو اس طرح کے پروگرام نہ دکھائیں۔کئی خاندان ایسے ہوتے ہے جس میں لڑکیوں کو تعلیم نہیں دی جاتی اور انہیں دین کی طرف زیادہ راغب کیا جاتاہے لیکن بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم بھی دینی چاہیے آ ج کل کسی گھر میں ماں باپ خود نمازنہیں پڑھتے اور وہ بچوں کو بھی نماز کا نہیں کہہ سکتے ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بچوں کو پانچ وقت نماز کی عادت ڈلوائیں کیونکہ اس عمر کے بچوں کیلئے نمازبہت ضروری ہوتی ہے نماز بے حیائی سے روکتی ہے اس عمر کے بچوں پر والدین کو خاص تو جہ دینی چاہیے کہ وہ کن دوستوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں کیونکہ دوستوں کا انسان پر بہت اثر ہوتا ہے۔آجکل پاکستان میں بچوں کے نہ پڑھنے اور بگڑنے کی وجہ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ ہے کیونکہ یہ میرے ساتھ بھی ہوتا ہے میں گھر میں جب پڑھنے لگتی ہوں تو لائٹ چلی جاتی ہے اور میں کتاب بند کر دیتی ہو ں اس لیے میری حکومت سے گزارش ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم کر دیں تاکہ بچے آرام و اطمینان سے تعلیم حاصل کر سکیں اور پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکے۔یہ عمر بچوں کی ایسی ہوتی ہے جس میں بچے یا تو بنتے ہیں یا تو بگڑتے ہیں اس عمر کے بچوں سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ یہ بڑے ہوکر پاکستان کا روشن مستقبل بن سکیں گے یا پھر پاکستان کو مزید تاریکیوں کی طرف لے جائیں گے۔آج کل پاکستان جن حالات سے دوچارہے اس کی بنیاد ی وجہ بھی نوجوانوں کی بے راہ روی ہے۔بہر حال اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے میں اپنی گزارشات میں لکھو گی کہ تمام بہنوں، اور بھائیوں کو اپنی زندگی اجیرن بنانے کے بجائے کامیاب زندگی کی طرف گامزن ہونا چاہیے اور اساتذہ سے معذرت کے ساتھ درخواست ہے کہ ڈنڈے کے بجائے پیار کا ہتھیار اپنا کرقوم کے نونہالوں کوایک بہترین انسان اور محب الوطن پاکستانی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں