16

غریب طلباء وطالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم کیوں

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ہونے والے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کرنے والوں میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شنکیاری کی طالبہ بشریٰ بھی شامل ہے‘ میٹرک آرٹس میں ٹاپ کر کے سرکاری سکولوں کا نام روشن کرنے والی بشریٰ سے جب ان کی کامیابی اور مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ شب و روز محنت،لگن،اساتذہ کی مکمل رہنمائی تعاون اور والدین کی دعاؤں سے بورڈ امتحان میں پوزیشن لینے میں کامیابی تو ملی پر میرا خواب پورا نہیں ہوا۔ بشریٰ ڈاکٹر بننے کاخواب دیکھ رہی تھی اور اسے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا مگر گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شنکیاری میں نہ تو سائنس کلاس تھی اور نہ ہی ٹیچر۔ جس کے باعث بشریٰ کو مجبوراً آرٹس میں داخلہ لیکر تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنا پڑااور یوں ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔بورڈ امتحان میں ٹاپ کر کے بشریٰ نے تو یہ ثابت کر دیا کہ غریب بچوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اگر انہیں سہولیات اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں تو یہ کسی بھی میدان میں آگے نکل سکتے ہیں مگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں سہولیات کون فراہم کرے گا۔نہ جانے اس ملک میں بشریٰ جیسی کتنی غریب بچیاں اور بچے ایسے ہیں کہ سہولیات نہ ہونے کے باعث جن کی اعلیٰ تعلیم اور ڈاکٹرز‘ انجینئر ز اور سائنسدان بننے کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں۔ ملک کے اندر فروغ تعلیم میں سرکاری تعلیمی اداروں کا یقینا بہت بڑا کردار ہے اور اسی وجہ سے ان اداروں سے غریب طبقات نے بہت سی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں اس لئے بورڈ میں ٹاپ کر کے ان سرکاری سکولوں کا نام روشن کرنے والی بشریٰ کا ادھورا خواب وقت کے حکمرانوں اور محکمہ تعلیم کے حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ تعلیم جاگیرداروں‘ سرمایہ داروں اور امیروں کے ساتھ غریب بچوں کا بھی بنیادی حق ہے پر اس بد قسمت ملک میں اس حق سے غریب بچے تاحال محروم ہیں۔ غریب بچوں کو تعلیم دینے کے نام پر بظاہر اس ملک کی گلیوں اور محلوں میں تو یہ سرکاری سکولز قائم کئے گئے ہیں لیکن قیام پاکستان سے لیکر آج تک یعنی 64سالوں میں بھی ان سرکاری سکولز کے ذریعے غریب عوام کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی ہے۔ غریب بچے آس و امید لئے علم کی پیاس بجھانے اور اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے روزانہ ان سرکاری تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کے خواب پورے نہیں ہوتے۔ حکمرانوں کی لا پرواہی‘ عدم توجہی اور محکمہ تعلیم کی غفلت نے پوزیشن ہولڈر بشریٰ کے سہانے خواب کو بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا۔ بشریٰ اپنی شب و روز محنت اور لگن سے میٹرک کے امتحان میں ٹاپ کر کے سرکاری سکولوں کی لاج رکھنے میں تو ضرور کامیاب ہوئی پر غربت کے ہاتھوں اسے اپنے خواب کی تعبیر نہیں مل سکی۔ آخر غریب بچے کب تک اعلیٰ تعلیم کے صرف خواب ہی دیکھتے رہیں گے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سکولوں کے ذریعے غریب بچوں کو بھی ہر ممکن تعلیمی سہولیات فراہم کرکے ان پر اعلیٰ تعلیم کے لئے دروازے کھولے جائیں جن سرکاری سکولوں میں سائنسز کی کلاسز نہیں وہاں فوری طور پر کلاسز کا اجراء کیا جائے تا کہ امراء کے ساتھ غریبوں کے بچے بھی ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنسدان بن کر ملک وقوم کی خدمت کر سکیں۔
ایٹا ٹیسٹ بد انتظامی کا نوٹس لیا جائے
محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے لئے ہزارہ کے دیگر اضلاع کی طرح ایبٹ آباد‘ مانسہرہ اور ہریپورمیں بھی ایٹا ٹیسٹ کا انعقاد کیاگیا۔ ایٹا ٹیسٹ کیلئے امیدواروں سے پہلے ہی پیسے جمع کروائے گئے تھے۔ چار سو روپے فی امیدوار وصول کرنے کے باوجود تینوں اضلاع میں ایٹا ٹیسٹ ناقص انتظامات کے باعث بد انتظامی کا شکار رہا جس کے باعث ہزاروں امیدوار سراپا احتجاج بنے رہے۔ بے روزگار نوجوانوں سے پیسے لینے کے باوجود ٹیسٹ کے لئے مناسب انتظامات نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ اول تو محکمہ تعلیم کو بھرتیوں کے لئے امیدواروں سے پیسے نہیں بٹورنے چاہیے تھے کیونکہ جن نوجوانوں کا کوئی روزگار ہی نہیں ان سے نوکریوں کے نام پر پیسے لینا ہر گز مناسب نہیں خیر جن امیدواروں نے پیسے جمع کروادیئے تھے پھر چاہیے تو یہ تھا کہ ایٹا ٹیسٹ کے لئے بھرپور انتظامات اور موثر اقدامات اٹھائے جاتے تا کہ کسی امیدوار کی حق تلفی نہ ہوتی۔ بعض امیدواروں سے 20منٹ بعد ٹیسٹ پیپر واپس لینا ان امیدواروں کی حق تلفی اور ظلم نہیں تو اورکیا ہے۔ اس لئے محکمہ تعلیم کو ایٹا ٹیسٹ کے دوران ہونے والی بد انتظامی کا فوری نوٹس لیکر انکوائری کمیٹی تشکیل دینی چاہیے تا کہ ایٹا ٹیسٹ میں شرکت کر نے والے امیدواروں کے غم و غصے کو کم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں