18

دل کی فریاد

عمر خان جوزوی
وزیروں اور مشیروں سے لیکر وزیر اعظم و صدر تک اس بد قسمت ملک میں تعلیمی انقلاب کے نعرے تو سب لگا رہے ہیں مگر اس ملک میں تعلیم کے ساتھ کیا ہو رہاہے اس کی کسی کو خبر تک نہیں۔اگر خبر ہوتی تو یقینا تعلیم طوطے کی طرح پنجرے میں بند نہ ہوتی۔ اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا اور انصاف کی نظروں سے دیکھا جائے تو ہم نے اس ملک میں تعلیم کو کسی بد قسمت پرندے کی طرح پنجرے میں بند کر کے صرف شہروں تک محدود کردیا ہے۔ دیہی علاقوں میں تعلیم کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے اس کا نہ تو ہمیں پتہ ہے اور نہ ہی اس سے ہمیں کوئی غرض۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیہی علاقوں کے مکین اس وطن کے باشندے نہیں۔۔۔۔؟ کیا تعلیم حاصل کرنا ان کا حق نہیں۔۔۔؟ اگر نہیں پھر تو ٹھیک ہے ان علاقوں سے تعلیم کا جنازہ اسی طرح دھوم دھام سے نکالنے دو۔ لیکن اگر دیہی علاقوں میں رہنے والے اسی ملک کے باسی اور تعلیم حاصل کرنا ان کا بھی بنیادی حق ہے تو پھر خداراحکمرانوں ذرہ سوچو تم ان غریبوں کو اس حق سے کیوں محروم کر رہے ہو۔ شہروں میں روزانہ صبح کے وقت معصوم اور پھول جیسے بچے بستے ہاتھ میں لئے سکولوں کی طرف جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر دل باغ باغ اور ایک امید سی پیدا ہوتی ہے کہ مستقبل کا سرمایہ محفوظ ہے لیکن اکثراوقات شہری بچوں کو سکول جاتے دیکھ کر دل میں خیال سا آجاتا ہے کہ ان معصوم اور پھول جیسے بچوں کا کیا ہوگا جو شہروں سے کوسوں دور دیہی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔شہری بچوں کے ساتھ دیہی علاقوں میں رہنے والے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس اور غربت کے سائے تلے زندگی کے شب و روز گزارنے والے یہ بچے بھی ہمارا مستقبل اور اس ملک کا قیمتی سرمایہ و اثاثہ ہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھ اور سوچ رہا ہے کہ ان غریب بچوں کو چھوڑ کر شہری بچوں کو تعلیم دینے سے ہمارا حق ادا اور مستقبل محفوظ ہوگا تو یہ ان کی بھول ہے۔ہمارا مستقبل تب تک محفوظ ہو ہی نہیں سکتا جب تک ہم ان غریب بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ نہیں کرتے۔ وزیروں۔۔مشیروں اور صدرو وزیراعظم کے بچے تو باہر سے تعلیم حاصل کرکے سیاسی خلاء پر کر سکتے ہیں پر ملک و قوم کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو غریبوں کے بچے ہی ملک کی بقاء و سلامتی کی خاطر قربان ہوئے۔ مشکل گھڑی میں تو پھر امیروں کے شہزادے بلٹ پروف گاڑیوں نکل کربلٹ پروف کمروں کے اندر گھس جاتے ہیں۔ایسے میں پھر یہی دیہی علاقوں کے غریب شہزادے جنہیں ہم کسی کھاتے میں شمار نہیں کرتے آگے بڑھتے ہیں اور وطن پر خود کو قربان کرتے ہیں۔ اب خود سوچئے اگر ہم ان غریب شہزادوں کو تعلیم کے حق سے محروم اور نظر انداز کرتے رہیں گے تو ہمارا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا۔۔۔؟ انہی غریب گھرانوں کے چشم و چراغوں نے ہی تو فوجی۔۔۔ڈاکٹر۔۔۔انجینئر۔۔۔سائنسدان۔۔۔۔عالم دین۔۔۔وکیل۔۔۔جج۔۔۔صحافی وغیرہ بن کر اس ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے اب اگر یہ تعلیم سے محروم رہیں گے تو کیا اس ملک و قوم کی حفاظت ہو سکے گی۔۔۔۔؟ قیامت خیز زلزلے نے مجھے آبائی شہر بٹگرام سے دور کر دیا ہے اب تقریباًسال بعد آبائی گاؤں جوز جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔گاؤں اور آبائی شہر بٹگرام سے جڑی بچپن کی یادیں اور زمانہ طالبعلمی کا وہ حسین دور اور گزرے ایام کے حسین شب وروز کا لمحہ لمحہ تو آج بھی دل و دماغ میں ایک خوبصورت فلم کی طرح ریکارڈ ہے مگر آبائی گاؤں میں کیا ہورہاہے اور میرے گاؤں کے مکینوں کو کن حالات اور مسائل کا سامنا ہے اس بارے میں مجھے زیادہ علم نہیں۔ ہمارے گاؤں سے کچھ دور گاؤں کے کنارے ہی اس وقت گورنمنٹ ہائی سکول جوز ہوا کرتا تھا جس کو جانے کے لئے چاروں اطراف سے راستہ تھا صبح ہوتے ہی چاروں اطراف سے سکول جانے کے لئے اساتذہ اور طلباء کی خوشنما قطاریں لگ جاتیں جسے دیکھنے کے لئے گاؤں کے وہ بزرگ جنہوں نے تحریک آزادی پاکستان میں بے شمار قربانیاں دی تھیں بے قرار ہوتے۔ سکول کے اساتذہ قاری محمد حسن،ماسٹر محمد سراج جو اب اس دنیا میں نہیں اور حافظ مطیع اللہ، مولانا محمد امین، حضرت یوسف راجمیرہ‘ عبدالباقی‘ سیف الرحمان، عرفان،قاری سعد ملوک اور دیگر اساتذہ جن کے نام اب مجھے یاد نہیں کی اخلاص اور محبت کا نتیجہ تھا کہ سورج نکلتے ہی ہزاروں طلباء سکول کی طرف دوڑتے چلے آتے۔ کچھ دن قبل بٹگرام کے گردونواح سے ایک قاری نے کال کرکے یہ شکوہ کیا کہ جس سکول سے آپ نے تعلیم حاصل کی اور جس ادارے کی بدولت آپ لکھنے پڑھنے کے قابل ہوئے آج آپ نے اس ادارے کو بھی بھول دیا ہے۔ شہرو گاؤں جاتے ہوئے کسی نہ کسی استاد سے تو ملاقات اب بھی ہوتی ہے مگر جب سال دو تک گاؤں و شہر کا چکر ہی نہیں لگے تو پھر ایسے میں احسان فراموشی کا داغ لگنا لازمی امر ہے۔ میں مانتا ہوں کہ صحافت سے تعلق کے باوجود میں نے سکول اور ادارے کا حال احوال نہ پوچھ کر بہت بڑا جرم کیا ہے۔ یہ چند سطور اسی جرم کے کفارہ کے طور پر لکھ رہا ہوں کہ میرا نام احسان فراموشوں کی فہرست میں شامل نہ ہو۔ درحقیقت اس گمنام قاری کے کال کے بعد میری نیندیں حرام اور میرا ضمیر خود سے ہر وقت یہ سوال کرتا دکھائی دے رہا ہے کہ کیا میں احسان فراموش نہیں۔۔۔۔؟میں نے جس ادارے سے لکھنا پڑھنا سیکھا۔۔خود کو پہچانا۔۔حرام و حلال میں تمیز کی آج اسی ادارے کا نام و نشان تک نہیں۔۔۔قیامت خیز زلزلے سے سکول کی عمارت ضرور متاثر ہوئی تھی پر مکمل طور پر تباہ تو نہیں ہوئی تھی۔مگر ایرا پیرا اور محکمہ تعلیم کا کمال دیکھئے زلزلے کے6سال بعد بھی آج گاؤں کے اس کنارے سکول کا نام و نشان تک نہیں۔از سر نو تعمیر کے نام پر سکول کی عمارت کو تو 6سال قبل گرایا گیا لیکن 6سال میں سکول کی عمارت تعمیر نہ ہو سکی۔ میں آج جب شہر میں بچوں کو سکول جاتے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے گاؤں کے بچے یاد آنے لگتے ہیں۔ وہ سکول جہاں ہم علم کی پیاس بجھاتے تھے آج وہ نہیں ایسے میں میرے گاؤں کے بچے کیا کریں گے اوران کے مستقبل کا کیا ہوگا۔۔۔۔؟ لگتا ہے اس بارے میں محکمہ تعلیم کے افسران کو بھی کوئی فکر نہیں۔۔میرے گاؤں کے سکول جیسے بہت سکول ایسے ہیں جن کو زلزلے کے بعد ملیا میٹ تو کیاگیا پر 6 سال گزرنے کے بعد بھی وہ ابھی تک تعمیر نہیں ہو سکے ہیں۔ ان معصوم بچوں کا کیا قصورہے جن پر تعلیم کے دروازے بند کئے گئے ہیں۔محکمہ تعلیم کے افسران کو ہوا دار کمروں سے نکل کر ان دیہی علاقوں کا رخ کرنا چاہیے جہاں معصوم وپھول جیسے بچے آج بھی تعلیم کا شوق لئے محکمہ تعلیم کی نا اہلی۔۔ لا پرواہی اور بے حسی پر خون کے آنسو رورہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کو دیہی علاقوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور گورنمنٹ ہائی سکول جوز سمیت جتنے سکول بھی ابھی تک تعمیر نہیں ہوئے فوری طورپر تعمیر کرنی چاہیے تا کہ ملک کا مستقبل محفوظ اور غریبوں کے بچے بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں