18

مجھے کیا ملا اس چاہت میں ان مٹ سے فاصلے ملے

ہزارہ کی پروین شاکر کا اعزاز رکھنے والی شاعر ہ عذرا کنول کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو

ضروری نہیں کہ ہر ادیب یا شاعر کو وہ سہولتیں میسر ہوں جو دورانِ تخلیق میسر ہوتی ہیں جیسے تخلیق کار کا ذہنی طور پر پر سکون ہونا، یک سوئی، خاموشی اور جسمانی طور پر آرام دہ ماحول جیسے جاڑے میں گرم کمرہ اور موسمِ گرما میں ایئر کنڈیشنڈ روم وغیرہ۔ ان تمام سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود اگر کوئی تخلیق کار تخلیق عمل سے گزرتا ہے تو وہ لائق تحسین اس لیے ہے کہ حقیقی ادب تخلیق کر رہا ہے۔ اسی طرح شاعر مشکل حالات میں بھی الفاظ کی مالا پرو کر ایک خیال کو شعر کا روپ دے رہا ہوتا ہے۔ بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ہزارے وال کی پروین شاکر کا خطاب حاصل کرنے والی شاعرہ عذرا کنول بھی ایک ایسی شاعرہ ہیں جنہوں نے بہت تنگ دستی اور مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک ایسا مقام حاصل کیا جس مقام کی ہر ایک کو تمنا ہوتی ہے۔ عذرا کنول اپنی اس کامیابی کا سہرا اپنے ماں، باپ اور بہت محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کو دیتی ہیں۔
4th کلاس میں انہوں نے پہلا شعر لکھا اور لکھنے کا شوق اس قدر تھا کہ دو سال بعد جب وہ 6th کلاس کی طالب علم تھی تو ایک مکمل غزل لکھ ڈالی اور ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی میدان میں بھی کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی رہی پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر اپنی ایک کتاب (دھندلے خواب) کو مکمل کیا اور عذرا کنول کو ہزارہ کی پہلی خاتون شاعرہ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
2003 میں ”دھندلے خواب“کے بعد 2006ء میں ”ان آنکھوں سے تھی امیدیں“پھر 2007 ء میں ”ادھوری منزلیں“ اور ابھی دھندلے چہرے پر کام کر رہی ہیں جو اسی سال 2011ء میں مکمل ہو کر منظر عام پر آ جائے گی۔ اپنے پسندیدہ شاعروں کا ذکر انہوں نے کچھ اس طرح کیا کہ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، پروین شاکر اور جتنے بھی اچھا لکھنے والے ہیں وہ سب میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
ایک بہت ہی خوبصورت غزل جس غزل کو پڑھنے کے بعد ایک مشاعرے میں عذرا کنول کو ہزارے کی پروین شاکر کا اعزاز دیا گیا وہ یہ غزل ہے۔
ہم نے دنیا کا ہو کے دیکھا ہے
اس کی خاطر بھی رو کے دیکھا ہے
چھوڑ دیتے ہیں رونے والوں کو
ہم نے دامن بھگو کے دیکھا ہے
داغ پھر بھی تو رہ ہی جاتے ہیں
دل کے زخموں کو دھو کے دیکھا ہے
نہ ملا کسی بھی طور ہمیں
ہم نے خود کو بھی کھو کے دیکھا ہے
خواب میں بھی تو بس وہی تھا کنول
ہم نے کچھ دیر سو کے دیکھا ہے
اردو شاعری کے ساتھ ساتھ بے شمار ہندکو گیت بھی لکھے اور تمام ہندکو سنگرز نے ان کے لکھے ہوئے گیتوں اور ماہیوں کو گا کر خوب شہرت حاصل کی اور ان میں بہت سے گانوں کی کمپوزیشن بھی عذرا کنول نے خود کی۔ ایک شاعرہ ہونے کے علاوہ اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے وقف کرنے والی شاعرہ عورتوں کے حقوق کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں غریب عورتوں اور یتیم بچیوں کے ساتھ جہاں تک تعاون ہو سکتا ہے ان کی مدد بھی کر رہی ہیں ایک عورت شاعرہ اور فلاح و بہبود کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کی تمام ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھانے والی عذرا کنول کہتی ہیں کہ آج کے اس انٹرویو میں میری تمام قارئین سے گزارش ہے کہ اگر زندگی میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو تعلیم ضرور حاصل کریں کیوں کہ اگر آ پ کے پاس تعلیم جیسی تیز دھار والی تلوار موجود ہے تو آپ کو اپنی منزل پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مجھے کیا ملا اس چاہت میں ان مٹ سے فاصلے ملے
بے ربط سے نشاں ملے پر خار راستے ملے
کبھی اس طرف کبھی اس طرف یک طرفہ سی محبت ملی
عجب سے کئی بکھرے ہوئے خوابوں کے سلسلے ملے

روز ہوتی ہے بد نام جوانی میری
روز بنتی ہے نئی ایک کہانی میری
روز ہوتی ہے میرے غم کی نمائش لوگو
روز بکتی ہے کوئی شام سہانی میری
آہی جائے نہ کتابوں میں کہیں قصہ غم
لو چلو آج سنو بات زبانی میری
میرے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو نہ دیکھا اس نے
نہ کبھی بات اس نے ہے مانی میری
میرے چہرے پہ تھے آثار ندامت کے بہت
آگئی ہے اسے اب یاد دہانی میری
زندگی کو تو میری اس نے سنوارہ نہ مگر
سچ تو یہ ہے کہ کوئی قدر نہ جانی میری
راز ہر اک پہ ہنس ہنس کے عیاں کرتا ہے
اس کو آئی نہ کوئی بات چھپانی میری
رہ گئے بجھ کے میری ساری امیدوں کے چراغ
رہ گئی زیست کی بس شمع بجھانی میری
اب تو ہر بات مری اس کو بری لگتی ہے
جس کو بھائی تھی کبھی شعلہ بیانی میری
میں بھی تتلی کی طرح اڑتی ہوں پھولوں پر
اب یہ بکھرے ہوئے کچھ پر ہیں نشانی میری
میں نے آئینے میں دیکھا ہے بڑھاپا اپنا
اس کی آنکھوں میں نظر آئی جوانی میری
ہر نئے روپ میں دنیا نے کیا پیش مجھے
وہی قسمت ہے وہی بحث پرانی میری
کھلتے دیکھا ہے کنول جھیل میں تم نے لیکن
بہتے دریا میں کبھی دیکھ روانی میری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں