16

اقبال کے شاہین پاکستان کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں

ہمارا امتحانی نظام درست نہیں،تعلیمی نظام میں جدیداصلاحات کی ضرورت ہے،ملک عبد الوہاب نصاب تعلیم کو تبدیل کئے بغیرہم کسی بھی طور پرتعلیمی میدان میں انقلاب برپا نہیں کرسکتے،دانیال سجاد
ہمار ی تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ کامیاب معاشرے کی تشکیل ہونا چاہیے۔تنزیلہ ارشاد،نظام تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے شاگرد اور استاد کے درمیان حائل خلیچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،حمزہ سعید قریشی،طلبہ و طالبات محنت اور لگن سے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھیں،انشاء اللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی،انعم صلاح الدین
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد کے تحت ہونے والے ایف اے /ایف ایس سی کے سالانہ امتحانات برائے 2011ء میں پہلی دس پوزیشنیں حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ و طالبات کے اعزاز میں لوح وقلم انٹرنیشنل اور ہزارہ ڈاٹ کا م ڈاٹ پی کے کی جانب سے منعقدہ تقریب کی جھلکیاں

انٹرویو:ابو محمد قریشی /طاہر محمود اعوان
عکاسی /عبدالعلی مشتاق
وطن عزیز اس وقت لاتعداد مسائل کا شکارہے۔ہر طرف بد امنی اور بے چینی نظر آرہی ہے۔مایوسی کے سائے گہر ے ہوتے جارہے ہیں۔ایسے میں طلبہ ہی امید کی وہ کرن ہیں جن کی کامیابیوں کو دیکھ کر یہ امید پید ا ہوتی ہے کہ اس تاریک شب کا سویرا ہونے ہی والا ہے۔چند دن قبل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈسیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آبادنے ایف اے /ایف ایس سی کے نتائج کا اعلان کیا۔امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے مستقبل کے درخشندہ ستارے وطن عزیز کو مسائل کی دلدل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کیا ارادے اور عزائم رکھتے ہیں۔یہ جاننے کے لیے لوح وقلم انٹرنیشنل نے ٹاپ 10پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کے اعزاز میں hazara.com.pkکے اشتراک سے ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کیاجس میں ان کے مستقبل کے حوالے،پاکستان کے تعلیمی نظام اور دیگر کئی اہم موضوعات پر ان کے خیالات قلم بند کیے گئے۔پوزیشن ہولڈرز سے ہونے والی گفتگوکا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ہونے والے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد کے ہونہار طالب علم ملک عبد الوہاب نے 958نمبر لے کر بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔بورڈ ٹاپ کرنے والے ملک عبد الوہاب مانسہرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ملک عبد الوہاب نے اپنی کامیابیوں کو اپنے والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپردینے کے بعد مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں پہلے پانچ پوزیشن حاصل کرنے والوں میں ضرور شامل ہوں گا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے میری محنت کا صلہ دیا اور میں بورڈ ٹاپ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔بورڈ ٹاپ کرنا ایک خواب تھا جسے اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں بدل دیا۔ملک عبد الوہاب نے کہا کہ گھر میں سب ہی افراد میری کامیابی کے لیے دعاگوتھے لیکن میری دادی ماں نے سب سے بڑھ کر میرے لیے دعائیں کیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی دعائیں رنگ لائی ہیں۔میں ذاتی طور پر ہر طرح کے ماحول میں ایڈجیسٹ ہو جانے والا بندہ ہوں۔گھر والوں کے ساتھ رویہ دوستانہ ہے۔پڑھائی کے لیے تنہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک مطالعہ میں یکسوئی نہیں ہو گی تو بات دماغ کی گہرائیوں میں نہیں اتر سکتی۔نصابی کتب کے علاوہ میں سائنس،فزکس،ریسرچ ورک اور سائنسدانوں کی سوانح عمری پڑھتا ہوں۔فزکس میر ا پسندیدہ مضمون ہے۔کھانے میں گوشت اور مرغن غذاؤں کے بجائے سبزیاں زیادہ شوق سے کھاتا ہوں۔عام دنوں میں پڑھائی کی ایک مستقل روٹین ہے تاہم امتحانات کے دنوں میں محنت زیادہ کر تاہوں۔ملک عبد الوہاب کا کہنا تھا کہ انسان کو محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔اگر کوئی طالبعلم امتحانات میں کم نمبر حاصل کرتاہے تو اسے بجائے کسی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے یہ مان لینا چاہیے کہ اس سے محنت میں کہیں کمی رہ گئی ہے۔ملک عبد الوہاب نے اپنے مسقبل کے اہداف کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مکینیکل کے شعبے میں آگے جانا چاہتے ہیں اور مکینیکل انجینئر بن کر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔تعلیمی نظام میں پائی جانے والی خرابیوں کے متعلق بات کرتے ہوئے ملک عبد الوہاب نے کہا کہ ہمارا امتحانی نظام درست نہیں،پروفیشنل ادارے ہمارے امتحانی نظام پر ٹرسٹ نہیں کرتے اس کی دلیل پروفیشنل اداروں میں انٹری ٹیسٹ کی شرط ہے۔ہمارے امتحانی نظام کو اس قدر مضبوط ہونا چاہیے کہ ہمارے پروفیشنل اداروں کو دوبارہ انٹری ٹیسٹ کی ضرورت پیش نہ آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا چاہیے اس سے ان کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں گی۔کتاب اور قلم طالب علم کی زندگی کا حصہ ہیں انہیں خود سے جد انہ کریں۔ایک سوال کے جواب میں ملک عبد الوہاب نے کہا کہ ہمارے پاس آگے بڑھنے کے کافی مواقع ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے طلبہ بجائے مثبت سوچ اور رویہ اپنانے کے منفی سوچ کو زیادہ اپنا رہے ہیں۔جس کی زندہ مثال موبائل اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے۔ہمارے طلبہ کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اپنے پیغام میں انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقت کی قدر کرتے ہوئے،پاکستان کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار اداکرنے کے حوالے سے مخلص ہو کر سوچیں۔پاکستان کو ہماری ضرورت ہے۔
ایبٹ آباد بورڈ میں مجموعی طورپر دوسری اور پری میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلم دانیال سجاد کا تعلق بھی مانسہرہ سے ہے۔القرآن پبلک سکول اینڈ کالج مانسہرہ کے یہ ہونہار طالبعلم مستقبل میں ڈاکٹر بن کر قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔دانیال سجا د کا کہنا ہے کہ کامیابی کے حصول کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں۔سب سے پہلے ذاتی کوشش اس کے بعد والدین کی دعائیں اور اساتذہ کی محنت یہ تینوں عناصر کامیابی کی ضمانت ہیں۔انہوں نے کہا میرے تمام اساتذہ نے میرے ساتھ خوب محنت کی لیکن ہمارے فزکس کے ٹیچر سر ادریس کا میری کامیابی میں کلیدی کردار ہے۔ان کی ہر دم حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی بدولت میں بورڈ ٹاپ کرنے میں کامیاب ہوا۔دانیال سجا د کا کہنا تھاکہ وہ ہر ویک اینڈ پر لائبریری جاتے ہیں اور ہر ہفتے کسی ایک موضو ع کی کتابوں کاخوب دلجمعی سے مطالعہ کرتے ہیں۔اپنے پسندیدہ رائٹر زمیں انہوں نے سلیمان علی ندوی اور طاہرالقادری کا نام لیا۔اے لیول اور او لیول کی کتابیں پڑھنا بھی ان کا شوق ہے۔دانیال سجا دنے پاکستان میں موجود تعلیمی نصاب کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے موجودہ تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے ہمار ا نصاب وہی ہے جبکہ دنیا کہاں کی کہاں پہنچ چکی ہے۔ہمارے طلبہ اور اے لیول اور او لیول کے طلبہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ہمار ا نصاب تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ پاکستان میں پڑھنے والے طالبعلم اور امریکہ اور برطانیہ میں پڑھنے والے طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں میں کوئی فرق باقی نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے امتحانی نظام میں پریکٹیکل کے نمبر بہت کم ہیں انہیں 50فیصد ہونا چاہییے یعنی 50نمبر تھیوری کے اور 50نمبر پریکٹیکل کے ہوں۔پریکٹیکل کے نمبر کم ہونے کی بنا پر طلبہ کو آگے چل کر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں معیاری اور مکمل سامان سے لیس لیبارٹریز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں انگلش پر صحیح طور پر توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے طالبعلم انگریز ی زبا ن میں موجود تحقیقی مواد سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔دانیال سجا دنے کہا کہ وہ مستقبل میں ڈاکٹر بن کر اپنی قوم اور علاقے کے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا گھرمانسہرہ کے دور دراز علاقے میں واقع ہے جہاں پر مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت میسرنہیں جس کی وجہ سے کئی مریض ہسپتال پہنچے سے قبل دم توڑ جاتے ہیں۔میری کوشش ہے کہ میں اپنے علاقے کے اس مسئلہ کو حل کروں۔اس کے ساتھ دانیال سی ایس ایس کر کے بیوروکریٹ بننے کا عزم بھی رکھتے ہیں۔دانیال سجا دنے لوح وقلم انٹرنیشنل کے قارئین کو اپنا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک کیا جائے۔بانی پاکستان محمد علی جناح ؒ نے طلبہ کو مخاطب کر کے کہاتھاکہ وہ دوران تعلیم سیاست سے دور رہیں۔تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت نے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے سرکاری خرچہ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے بیرون ممالک کام کو ترجیح دینے والے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے طلبہ کو سوچنا چاہیے کہ پاکستان نے ان کوسب کچھ دیا ہے اور وہ بدلے میں پاکستان کو کیا دے رہے ہیں۔میر ی سب طلبہ سے یہی گزارش ہے کہ وہ پیسوں کے بجائے پاکستان کی خوشحالی کو ترجیح دیں۔پاکستان ہی ہماری شناخت ہے اس کے بغیر ہم ادھورے ہیں۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد میں مجموعی طور پر چوتھی اور پری انجنیئرنگ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ہزارہ پبلک سکول اینڈکالج ہری پور کی طالبہ تنزیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کامیابی پر بہت خوش ہیں اور اپنی کامیابی کو والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی محنت کا صلہ قرار دیتی ہیں۔تنزیلہ ارشادنے اپنے تین اساتذہ سر طاہر،سر ندیم اور سر ناصر کانام لیتے ہوئے کہا کہ میری کامیابی میں ان اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ملک میں یکساں نظا م تعلیم کی خواہش رکھنے والی تنزیلہ ارشاد نے کہا کہ میں اربا ب اختیار کی خدمت میں درخواست کروں گی کہ پورے ملک میں ایک نصاب اور ایک ہی امتحانی نظام بنایا جائے۔یکساں تعلیمی نظام اورنصاب نہ ہونے کی وجہ سے عام تعلیمی بورڈز کے طلبہ اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ کے نتائج میں نمایاں فرق ہوتاہے۔تنزیلہ ارشا د نے کہا کہ وہ مسقبل میں ائیرو ناٹک انجنیئر نگ کے شعبہ میں کام کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بچپن میں راشد منہاس شہید کی ایک مووی دیکھی تھی جس کے بعد میں نے اسی دن فیصلہ کیا کہ میں ایئر فورس جوائن کروں گی۔تنزیلہ ارشاد خود بھی شاعر ہ ہیں اور شاعری سے بے حد لگاؤ رکھتی ہیں۔ غالب اور علامہ محمد اقبال ان کے پسندیدہ شاعرہیں۔انٹرویو کے دوران تنزیلہ ارشاد نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا ایک شعر
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیر ی رضا کیا ہے
پڑھتے ہوئے کہا کہ اقبال ؒ کی شاعری میں سے یہ شعر مجھے سب سے زیادہ پسندہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اقبال ؒ کی شاعری ضرور پڑھنی چاہیے اس میں ان کے لیے زندگی گزارنے کے سنہری اصول ہیں۔تنزیلہ نے بتایا کہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ لڑکیوں کو گھر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔پڑھائی کے اوقات کے متعلق تنزیلہ کا خیال ہے کہ رات کے اوقات دن کی بنسبت زیادہ موزوں ہیں اور وہ خود بھی رات کو ہی پڑھتی ہیں۔طلباء کے نام اپنا پیغام دیتے ہوئے تنزیلہ ارشاد نے کہا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پریکٹیکل پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی بدولت طلبہ و طالبات کے اندر وہ صلاحیتیں نہیں پید اہو پاتیں جس کی قوم کو ضرورت ہے۔طلبہ وطالبا ت کتابوں کے خاص خاص اسباق پڑھنے کے بجائے پوری کتاب کو کامل یکسوئی سے پڑھیں۔ہمار ی تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ کامیاب معاشرے کی تشکیل ہونا چاہیے۔
پری انجنیئرنگ میں تیسری اور بورڈ میں نویں پوزیشن حاصل کرنے والے پاکستان انٹرنیشنل پبلک سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد کے درخشندہ ستارے حمزہ سعید قریشی نے کہا کہ انہیں پورا یقین تھا کہ ان کا نام ٹاپ ٹوئنٹی میں ضرور آئے گا۔پری انجنیئرنگ میں تیسری پوزیشن ملنے پر اس قدر خوش ہوں کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی محنت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔میری کامیابی میں خصوصی طور پر اسلامیات کے ٹیچر سر مظہر،اور اردو کے ٹیچر سر گلفراز کی خصوصی محنت شامل ہے۔میں اپنے ادارے کو بھی مبارکباد پیش کرتاہوں جس نے بورڈ میں سب سے زیادہ پوزیشنیں حاصل کر کے نمایاں مقام حاصل کیا۔مستقبل میں NUSTسے میکا ٹرونکس انجنیئرنگ کرنے کا ارادہ ہے۔پاکستان میں اس شعبہ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔حمزہ سعید قریشی نے کہا کہ طلبہ نصابی سرگرمیو ں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں۔میں خود ایبٹ آباد کرکٹ ٹیم کا حصہ رہاہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے شاگرد اور استاد کے درمیان حائل حجاب کی خلیچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ برائے راست بغیر کسی پریشانی کے اساتذہ سے مستفید ہو سکیں۔جب تک استاد اور شاگرد کے درمیان رابطہ استوار نہیں ہوتا ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔حمزہ سعیدنے طلبہ و طالبات کو مخاط ب کرتے ہوئے کہا کہ آپ محنت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔اللہ تعالیٰ محنت کا صلہ ضرور دیتے ہیں۔
ثانوی تعلیمی بورڈ میں دسویں پوزیشن حاصل کرنے والی خیبر پبلک سکول اینڈ کالج مانسہرہ کی طالبہ انعم صلاح الدین نے کہا میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میری وجہ سے میرے گھر والوں کو پورے خاندان کی طرف سے مبارکباد موصول ہو رہی ہے۔اس موقع پر میں اپنے کالج کے پرنسپل سر نسیم اختر سواتی کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے مجھے اس مقا م پر پہنچایا۔میرے پسندیدہ مضمون میتھ ہے۔مستقبل میں ایر و ناٹک انجنیئر بن کر ایئر فورس کو جوائن کروں گی۔انعم صلاح الدین نے طلبہ و طالبات سے کہا کہ وہ محنت اور لگن سے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھیں۔انشاء اللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں