18

طلبہ قوم کا مستقبل ہیں،وحید شاہ

انٹرویو : سرفرازترین،توقیر الحسن
متاثرین تربیلہ ڈیم کے بچوں کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچانے اور ان کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ادارے کا قیام عمل میں لایا۔
بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے معروف تعلیمی ادارے قائد اعظم پبلک سکول اینڈ کالج کے پرنسپل کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے گفتگو
وحید شاہ کا تعلق متاثرین تربیلہ ڈیم کی بستی کھلابٹ ٹاؤن شپ کی اعلٰی تعلیم یافتہ سادات فیملی سے ہے۔سادات فیملی کے افراد تعلیم اور بیوروکریسی سمیت دیگر شعبو ں میں اعلٰی عہدوں پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں۔ زرعی یونیورسٹی پشاور کے سابق وائس چانسلر اقبال شاہ،یو ای ٹی کے سابق وائس چانسلر مسرت شاہ،رجسٹر ارہزارہ یونیورسٹی سید مقرب شاہ،پرنسپل نتھیاگلی کالج عالمزیب شاہ،لیاقت شاہ ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن،عالمگیر شاہ ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ،جمال الدین شاہ کمشنر افغان مہاجرین سمیت کئی اہم شخصیات کا تعلق وحید شاہ کی فیملی سے ہے۔وحید شاہ نے اپنی ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں کندریالہ بان ڈہ سے حاصل کی میٹر ک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ون پشاور کینٹ سے جبکہ ایف ایس سی ایڈورڈزکالج پشاور سے کی پوسٹ گریجویٹ کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد دنیا کی پہلی سو جامعات میں شامل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی کیمسٹر ی کا امتحان اعزازی حیثیت میں پاس کیا اس کے بعد گیارہ سال تک پاک چائینہ فرٹیلائزر میں ڈپٹی مینیجر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے بعد ریٹائر منٹ لے لی۔وحید شاہ کے ادارے قائد اعظم پبلک سکول کی طالبات نے امسال ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد کے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ٹاپ 20 میں سے پانچ پوزیشنیں حاصل کیں اس حوالے ان سے لیاگیا خصوصی انٹرویو ہفت روزہ لوح و قلم کے قارئین کی نذر کیا جاتاہے۔
قائد اعظم پبلک سکول اینڈگرلز کالج کھلابٹ ٹاؤن شپ کے پرنسپل وحید شاہ نے لوح وقلم سے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ پا ک چائینہ سے گولڈن ہینڈ شیک لینے کے بعد جس چیز نے انھیں سکول کھولنے پر ابھارہ وہ معیار ی تعلیم کا فقدان تھا جسکی وجہ سے کھلابٹ ٹاؤن شپ کا بہترین ٹیلنٹ ضائع ہورہا تھا لہٰذا انھوں نے فی صلہ کیا کہ متاثرین تربیلہ ڈیم کے بچوں کے لیے ایسے معیاری تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں پر انھیں معیاری تعلیم دے کر ان کے ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور ان کا مستقبل محفوظ بنایا جائے۔ اسی مقصد کے حصول کی خاطر 1995ء میں پرائمری سطح سے قائد اعظم پبلک سکول کی ابتدا کی گئی اس کے بعد بتدریج 2000ء میں مڈل کلاسز اور 2002سیکنڈری کلاسز کا آغاز کیا گیا۔ سیکنڈری کلاسز کے اجراء کے صرف ایک سال بعد ہی سکول کی طالبہ ثاقبہ شاہ نے 850میں سے 744نمبر لیکر طالبات میں ایبٹ آباد بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کرلیاوحید شاہ نے بتایا کہ ان کے ادارے میں پرائمری کے بعد گرلز اور بوائز کے سیکشن الگ کردیے جاتے ہیں جبکہ انٹر سائنس کالج میں صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ قائد اعظم پبلک سکول اینڈ کالج کی تمام فیکلٹی پروفیشنلی ٹرینڈ ہے جبکہ تقریباً نوے فیصداساتذہ ایم اے ایم ایس سی ہیں۔انھوں نے کہا کی ان کا ماٹو مقدار نہیں معیار ہے یہی وجہ ہے وہ طلبہ و طالبات کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہر سال صرف محدود نشستون پر انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر ایڈمشن کرتے ہیں امسال ان کے ادارے کی ستاون فیصد طالبات نے اے ون گریڈ حاصل کیا ہے جوکہ ہزارہ بھر میں ان کے ادارے اور متاثرین کھلابٹ ٹاؤن شپ کے ہونہار بچوں کا ایک منفرد اعزاز ہے۔قائد اعظم انٹر سائنس کالج کی طالبات قرۃ العین رولنمبر 51684نے939نمبر لیکر ٹاپ 20میں 6ویں پوزیشن اور پری انجنیئرنگ میں تیسر ی پوزیشن،مریم خالد رولنمبر51679نے 926نمبر لیکر ٹاپ 20میں 13ویں پوزیشن اور پری میڈیکل میں تیسری پوزیشن،انمول ارشادرولنمبر51672نے 925نمبر لیکر ٹاپ 20میں 14ویں پوزیشن،اقراء سعید رولنمبر51688پر ی انجئنیر نگ گروپ نے 922نمبر لیکر ٹاپ 20میں 17ویں پوزیشن اور نورالعین رولنمبر51687پر ی انجنیئر نگ گروپ نے920نمبر لیکر ٹاپ 20میں 19ویں پوزیشن حاصل کی۔وحید شاہ نے بتایا کہ ان کے ادارے کے طلبہ و طالبات ہر سال پروفیشنل کالجز میں داخلہ حاصل کرتے ہیں اور اس وقت متعد د طلبہ و طالبات اعلٰی سرکاری عہدوں پر فائزہوکر ملک وقوم کی خدمت فریضہ سرانجام دے رہے ہیں انھوں نے کردار سازی اور رہنمائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا مناسب تربیت اور رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی کثیر تعد اد معاشرے میں اپنا موثر کردار اداکرنے سے محروم رہ جاتی ہے اگرپروفیشنل کالجز میں داخلوں سے محروم رہ جانے بچوں کو مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں وحید شاہ نے کہا کہ ان کے ادارے کے قیام کا مقصد ایسے طلبہ و طالبات معاشرے کے مہیا کرنا ہیں جو اعلٰی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاق و کردار کی دولت سے بھی مالا مال ہوں اورزندگی کے مختلف شعبوں میں ملک وقوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے سکیں اور انھیں یقین ہے کہ متاثرین تربیلہ ڈیم اتنے قابل اور باصلاحیت لوگ ہیں کہ اگر ان کی تعلیم پر صحیح توجہ دی جائے ان سے گوہر نایاب تلاش کیے جا سکتے ہیں انھوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی دولت اور وقت کی سرمایہ کاری اپنی اولاد پر کریں کیونکہ یہی بچے ان کا سرمایہ حیات اور ملک وقوم کا مستقبل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں