15

ہندکو ادب کے نظیر اکبر آبادی پرواز تربیلوی سے یادگار ملاقات

انٹرویو: توقیر الحسن دربندی
جب وطن عزیز کو روشن کرنے اور اس کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے ڈیم کی ضرورت محسوس کی گئی تو اہل ہزارہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقوں کو قربانی کے لیے پیش کیا اور اپنے پیاروں کی قبروں، زمینوں اور گھروں کو پانی کی نذر کر کے تربیلہ ڈیم کی تعمیر میں بنیادی اور تاریخی کردار ادا کیا اور ان علاقوں سے وابستہ حسین یادوں کی گھٹڑی اٹھا کر کھلابٹ ٹاؤن شپ میں متاثرین بن کر قیام پذیر ہوئے ان چوراسی گاؤں کے باشندوں کا ایک جگہ اکھٹا ہونا ایسے ہی ہوا گویا کہ چوراسی قسم کے پھول اکھٹے ہو گئے اور ان میں سے ہر ایک کی خوشبو بھی الگ الگ ہے ان متاثرین اور زیر آب بستیوں نے ایسے ہیرے و جواہرات پیدا کیے کہ جنہوں نے مسائل کے باوجو دملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور بلا شبہ کھلابٹ اور متاثرین کو ایسی شخصیات پر فخر ہے انہی شخصیات میں سے ایک درویش منش طبعیت کی مالک شخصیت عزیز محمد عرف پرواز تربیلوی ہیں۔ پرواز تربیلوی ہندکو شاعری و ادب کا بہت بڑا نام ہے اور ان کی دو کتابیں ہندکو شاعری پر مشتمل منظر عام پر آ چکی ہیں ایک کا نام پھل تے کنڈے 1984ء میں شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب لکھ تے ککھ 2000ء میں منظر عام پر آئی، ہفت روزہ لوح و قلم انٹرنیشنل نے ان سے خصوصی انٹرویو لیا جو کہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتائیں۔
پرواز تربیلوی: میرا تعلق تربیلہ کے ایک بستی ”جھاڑ“ سے ہے جو کہ ایک تربیلہ جھیل کی نذر ہو چکی ہے اور اسی جگہ 1936ء کو میں پیدا ہوا میرے والد چونکہ آرمی میں ملازم ہے اس لیے ہندوستان کے مختلف شہروں میں ان کے تبادلے ہوئے جن میں دہلی، علی گڑھ، حیدر آباد اور شہداد پور وغیرہ شامل ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: شاعری کا شوق کیسے پروان چڑھا؟
پرواز تربیلوی: میں نے شاعری کا باقاعدہ آغاز شہداد پور سے کیا یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، اس زمانے میں روزنامہ جنگ میں بچوں کا صفحہ شائع ہوتا تھا مجھے بھی وہیں سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا پہلے پہل میں نے اردو میں شاعری کی بعد ازاں 1975ء میں تربیلہ ڈیم بننے کے بعد اپنے گاؤں آیا تو یہاں سے میں نے ہندکو شاعری کی ابتداء کی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کا ذریعہ معاش کیا تھا؟
پرواز تربیلوی: تعلیمی سلسلے کے اختتام کے بعد میں حیدر آباد اور پاکستان اسٹیل مل کراچی میں ملازمت کرتا رہا وہی میرا ذریعہ معاش تھا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کے میدان میں آپ کن لوگوں کو استاد مانتے ہیں یعنی کن لوگوں نے آپ کی حوصلہ افزائی کی؟
پرواز تربیلوی: میں نے جب ہندکو میں شاعری شروع کی تو اس وقت یہاں صوفی عبدالرشید، پروفیسر صادق زاہد، حیدر زمان حیدر، عبدالغفور ملک، آصف ثاقب، اور سلطان سکون وغیرہ بڑے نام تھے انہوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کی دو کتابیں شائع ہو گئی اس پر حکومت نے آپ کی حوصلہ افزائی کی؟
پرواز تربیلوی: میری پہلی کتاب 1984ء میں ”پھل تے کنڈے“ شائع ہوئی اور اس کتاب کو اس سال ہندکوتصانیف میں اول قرار دے کر اباسین آرٹس کونسل پشاور مین اس وقت کے وزیر اعلیٰ ارباب جہانگیر خان نے اعزاز دیا 2007ء میں بھی اباسین آرٹس کونسل نے ادبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی شیلڈ دی ہے اس کے علاوہ مختلف جرائد و اخبارات میں میرا کلام شائع ہوتا رہا اور ریڈیو پاکستان پشاور و ایبٹ آباد میں بھی بلایا جاتا رہا اور میری ہندکو شاعری و ادب کی خدمات پر صوفی عبدالرشید نے ہندکو ادب کے نظیر اکبر آبادی ہونے کا لقب بھی دیا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: ہزارہ میں ہندکو زبان اور ادب کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
پرواز تربیلوی: ہندکو ادب کے حوالے سے بڑا کام ہوا ہے اور اس میں بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں سلطان سکون نے ہندکو لغت ترتیب دے کر بہت بڑا کام کیا ہے۔ ہندکو ادب کو تحریک دینے کی بہت کوشش حیدر زمان نے کی اور انہوں نے ایک کتاب ”ہندکو دے رنگو رنگ نذارے“ تصنیف کی ان کے بعد بہت سی شخصیات سے اس کام کو آگے بڑھایا اور ”جمہوز“ کے ایڈیٹر غلام جان خان خیلی نے اپنے اخبار میں سب سے پہلے ہندکو زبان و ادب کے لیے ایک صفحہ مختص کی اتھا اس صفحہ کی بدولت بہت سے نئے لکھاری اور شاعری متعارف ہوئے اور لوگوں میں ہندکو ادب اور شاعری لکھنے کا شوق پیدا ہوا میری بھی ابتدائی تحریریں ”جمہوز“ کی وجہ سے لوگوں کے سامنے آئیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: مستقبل میں ہندکو ادب کی ترقی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
پرواز تربیلوی: مستقبل میں ہندکو ادب بہت ترقی کرے گا مختلف ادبی تنظیموں میدان عمل میں آ چکی ہیں اور تصنیفی میدان میں بھی نئی کتابیں منظر عام پر آ رہی ہیں مشاعرے بھی ہو رہے ہیں۔ کھلابٹ میں بھی تناول ویلفیئر کے زیر اہتمام یہ کاوش ہوتی رہتی ہے البتہ پروفیسر بشیر احمد سوز نے ہندکو زبان و ادب کی تاریخ مرتب کر کے تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کل کیا مصروفیات ہیں؟
پرواز تربیلوی:
وقت طلو ع دیکھا، وقت غروب دیکھا
اب فکرِ آخرت سے دنیا کو خوب دیکھا
پیرانہ سالی میں وقت گزار رہا ہوں اور مختلف بیماریوں نے بہت محدود کر دیا ہے اور یہی بیماریاں اور موارضات کی وجہ سے ادبی محفلوں میں شرکت نہیں ہو سکتی۔ تاہم دعوت نامے موصول ہوتے رہتے ہیں بس اب ان محفلوں کو آباد کرنے کی حسرت ہی رہے گی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: نئے لکھاریوں اور شاعروں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
پرواز تربیلوی: میرا ان حضرات کے لیے یہ پیغام ہے کہ اپنی تحریروں اور شاعروں میں حقیقت کا رنگ بھریں، حقیقی اور مثبت شاعری اور تحریر لکھیں کہ جس میں معاشرے کی صحیح طور پر عکاسی ہو اور اس کے مسائل اجاگر ہو سکیں۔
جو راہی راستوں کے تانے بانے ڈھونڈ لیتے ہیں
وہ اپنی منزلیں اپنے ٹھکانے ڈھونڈ لیتے ہیں
ارادے جن کے پختہ، حوصلے بھی جن کے اونچے ہوں
زمین کو چیر کر مخفی خزانے ڈھونڈ لیتے ہیں
پروں میں جن کی قوت ہو قفس کو توڑ کر پنچھی
شب تاریک میں بھی آشیانے ڈھونڈ لیتے ہیں
چھپائے خود کو پنچھی تیر کی زد سے کہاں ممکن
شکاری بھی شکاری ہیں نشانے ڈھونڈ لیتے ہیں
بہت کرتے ہیں کوشش اپنے عیبوں کو چھپانے کی
مگر اہل نظر کیسے نہ جانے ڈھونڈ لیتے ہیں
بہت پرواز چھپتے ہیں رقیبوں کی نگاہوں سے
ہمارے حوصلے پھر آزمانے ڈھونڈ لیتے ہیں

امن دا گیت
گیت امن دے گانداں جلاں
اپڑاں من پرچانداں جلاں
شوم سخی دی پرکھا جوکھے
پھس فقیری پانداں جلاں

مہنگائی
مہنگائی نے سکائی استدی
ہڈ چم رہیانہ ہی دم رہیا
بناتی آئی دے مار دا خوف استدا
نس نس وچ خون بھی جم رہیا
گل پے گئی موت دا پھاہ بٹن کے
گچی کہوپ کے کڈھری اساہ اسدے
جل ملک الموت توں کر چھٹیاں
پٹن اتھے تیرا کیڑا غم رہیا

سبحان اللہ
دنیا دے سہارے کل چہوٹھے اک سچ سہارا اللہ دا
جیندا رہ بندیا ہر ویلے، بس نام پیارا اللہ دا
اوہ خالق مالک تہرتی دا، اس جگ دی ہر شے استدی انے
ہر شے وچ جلوے اسدے نے سنسارا اہہ سارا اللہ دا
چن شکے کھبکن تارے بھی، سورج دی چک سبحان اللہ
کے ترقی کے استماناں نے، ہر گم نیارا اللہ دا
پرواز! اوہ آپ نئیں دسدا پر قدرت اسدی دسدی اے
توں جیڑے پاسے کر نظراں، دسدائے نظارا اللہ دا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں