18

پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کو انٹر میڈیٹ سطح تک ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے،محمد فاروق

مشتاق احمد آزاد
ٹیکس کابوجھ تعلیمی اداروں اور والدین دونوں کو متاثر کر رہا ہے،۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں

نقل کا رجحان پاکستان بھر میں بہت غلط رُخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مخصوص طبقہ اپنی سال بھر کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے نقل کا سہارا لے رہا ہے۔
ملک میں یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کی ضرورت ہے، اچھے نتائج کے حصول کے لیے قومی زبان کو فروغ دیا جائے،مہنگی تعلیم معیار کی ضمانت نہیں ہے

حقیقی معنوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ادارہ قائم کیا،القرآن بیکن سسٹم آف سکولز کے ایم ڈی اور پرنسپل کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو

القرآن بیکن سسٹم آف سکولز اینڈ کالجز مانسہرہ ایک تحریک کا نام ہے۔ جو دوباتوں کو سامنے رکھ کر شروع کیا۔ اول طبقاتی اونچ نیچ کو ختم کرتے ہوئے اچھی تعلیم کے مواقع سب کو فراہم کیئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ادارے کے میرٹ پر پورا اترنے والے کسی بچے کو مالی و سائل کی کمی کی وجہ سے واپس نہیں کیا جاتا اور الحمد للہ ایسے سینکڑوں طلباء اس سکول سسٹم میں زیر تعلیم ہیں۔ دوم اسلامی و مشرقی اقدار کے عین مطابق طلباء و طالبات کی تربیت کی جائے تاکہ وہ اچھے مسلمان اور محب وطن پاکستانی بن سکیں۔

القرآن بیکن سسٹم آف سکولز سے فارغ التحصیل ہونے والے درخشاں ستارے
میجر شاہین، کیپٹن محسن علی شاہ، کیپٹن سعد نواز، لیفٹیننٹ واصف نواز، لیفٹیننٹ سہیل، لیفٹیننٹ وقاص خان، لیفٹیننٹ عامر حسین خان، پائیلٹ آفیسر عبدالقدیر، ڈاکٹر مشتاق، ڈاکٹر سراج، ڈاکٹر طیبہ، ڈاکٹر فرح، ڈاکٹر رفاقت، ڈاکٹر میمونہ، ڈاکٹر سعد، ڈاکٹر مرینہ، ڈاکٹر مہناز، ڈاکٹر احسن، ڈاکٹر اویس، ڈاکٹر صلاح الدین، ڈاکٹر، سمیعہ سید، ڈاکٹر عمران ان جیسے طالب علموں پر ادارے کو ہی نہیں بلکہ پوری قوم کو فخر ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر میں کچھ ادارے ایسے ہیں کہ جنہوں نے صحیح معنوں فروغ علم میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اور ملک و قوم کے تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔ انہیں اداروں میں القرآن بیکن سسٹم آف سکولز اینڈ کالجز مانسہرہ/سانڈے سر علاقہ بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ادار ہ ہے جس پر لوگ اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ اس ادارے نے ماضی میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ ماضی میں اس ادارے کے بچوں نے میٹرک بورد میں پوزیشن لی تھیں اور حال میں اسی ادارے کے ایک طالب علم دانیال سجاد نے انٹر میڈیٹ بورڈ پری میڈیکل میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ادارے کی اس شاندار کارکردگی پر لوح و قلم انٹر نیشنل نے ادارے کے ایم ڈی محمد فاروق اور پرنسپل جاوید احمد سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا جو کہ قارئین کی نظرہے، القرآن بیکن سسٹم آف سکولز اینڈکالجز مانسہرہ/سانڈے سر کے ایم ڈی محمد فاروق اور پرنسپل جاوید احمد نے کہا کہ ہم نے اس ادارے کا قیام صرف اس لئے عمل میں لایا کہ اپنے لوگوں کو حقیقی معنوں میں میعاری تعلیم دیں سکے۔ ہمارا خواب ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کی روشنی سے محروم نہ ہو۔ ہم بچوں کی کردار سازی پر بھر پور توجہ دیتے ہیں۔ انہیں احساس دلاتے ہیں کہ پاکستان کو ان کی ضرورتہے۔ یوں تو پرائیویٹ اور گورنمنٹ سیکٹر میں سکولوں اور کالجوں کی کمی نہیں لیکن جب بات معیاری تعلیم کی کی جائے تو پھر چند ایک نام ہی رہ جاتے ہیں۔ لیکن وہاں تک صرف امراء کی ہی رسائی ہے کیونکہ بھاری فیس درمیانے و نچلے طبقے کے بس کی بات نہیں جبکہ پاکستان میں کم و بیش اسی (80) فیصد طبقہ اسی درمیانے و نچلے درجے سے تعلق رکھتا ہے۔ القرآن بیکن سسٹم آف سکولز اینڈ کالجز مانسہرہ ایک تحریک کا نام ہے۔ جو دوباتوں کو سامنے رکھ کر شروع کیا۔ اول طبقاتی اونچ نیچ کو ختم کرتے ہوئے اچھی تعلیم کے مواقع سب کو فراہم کیئے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ادارے کے میرٹ پر پورا اترنے والے کسی بچے کو مالی و سائل کی کمی کی وجہ سے واپس نہیں کیا جاتا اور الحمد للہ ایسے سینکڑوں طلباء اس سکول سسٹم میں زیر تعلیم ہیں۔ دوم اسلامی و مشرقی اقدار کے عین مطابق طلباء و طالبات کی تربیت کی جائے تاکہ وہ اچھے مسلمان اور محب وطن پاکستانی بن سکیں۔ اس ادارے کے طلباء نے میٹرک و انٹر میڈیٹ سطح پر اپنے قیام سے ا ٓ ج تک بہترین نتائج دیئے۔ میٹرک و انٹر میڈیٹ سطح پر کئی بار ٹاپ ٹونٹی (ٹاپ 20) میں پوزیشنز لیں۔ میڈیکل، انجینئرنگ، عدلیہ، تعلیم، افواج پاکستان، سول سروسز، الغرض کوئی ایسا باعزت شعبہ زندگی نہیں جہاں اس ادارے کے طلباء و طالبات موجود نہ ہوں۔ اس سکول سسٹم کا سال اول کا نتیجہ 100فیصد جبکہ سال دوم کے نتائج 98فیصد (اٹھانوے فیصد) رہے۔ ادارے کے طالب علم دانیا ل سجاد نے 946نمبروں کے ساتھ پری میڈیکل ٹاپ کیا مجموعی طور پر بورڈ میں دوسری پوزیشن لی۔ تین دوسرے طلباء جواد احمد 912، رئیس احمد 912 اور دانش زمان 906 ٹاپ ٹونٹی سے چند مارکس کے فاصلے پر رہے۔ 60(ساٹھ) فیصد سے زائد طلباء و طالبات نے A اور A+ گریڈ حاصل کئے۔ہم نصابی سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ تاکہ بچوں کی Personality Develop ہوسکے۔ کھیل، بزم ادب، سٹڈی ٹورز ہم نصابی سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہیں۔ ادارہ مستحق طلبہ کو ان کی ضرورت کے مطابق مکمل سپورٹ کرتا ہے۔ اس ادارے کے سینکڑوں طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم سے فارغ ہو کر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہو کر قومی و بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں۔ بیسیوں ڈاکٹرز، جنہوں نے اس ادارے سے ابتدائی /سیکنڈری /ہائر سیکنڈری تعلیم حاصل کی آج ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ 2005کے زلزلہ کے موقع پر ادارے کا رول منفرد رہا۔ بوائز کیمپس کی بلڈنگ چارماہ تک بلا معاوضہ زلزلہ زدہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے اداروں کے پاس رہی۔ جبکہ ادارے کے سٹاف و طلباء اور مخیر حضرات کی مدد سے متاثرہ لوگوں کی غذائی و طبی مدد کی گئی۔ یہی نہیں بلکہ دو مختلف علاقوں میں دو مڈل سکول قائم کیئے گئے جہاں تین سال تک طلبہ کو بلا معاوضہ تعلیم دی گئی آج بھی اس ادارے کے ایسے دو مختلف پروگرام اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں۔ نقل کی روک تھام کیلئے ایبٹ آباد بورڈ کی موجودہ انتظامیہ چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر حمایت اللہ خان کی نگرانی میں جو کاوشیں کر رہی ہے وہ قابل تعریف اور اس میں انھیں بھر پور کامیابی ملی ہے۔ دراصل نقل کا رجحان پاکستان بھر میں بہت غلط رُخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مخصوص طبقہ اپنے سال بھر کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے نقل کا سہارا لے رہا ہے۔ کسی بھی تعلیمی بورڈ کی نقل کی روک تھام کی کوششیں تب ہی سو فیصد کامیاب ہوں گی جب کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان بھی تعاون کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے۔ اچھے نتائج تب ہی مل سکتے ہیں جب قومی زبان کو فروغ دیا جائے۔ پنجاب کی طرح خیبر پختونخواہ حکومت بھی میٹرک سپلیمنٹری امتحان پاس کرنے والے طلباء کو ریگولر داخلے لینے کی اجازت دے۔ اچھے اچھے طلباء کا قیمتی سال ضائع ہوجاتا ہے۔ اور وہ تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں۔ Re-totalling کے وقت پہلے کی طرح طلبہ کو ان کا پیپر دکھایا جائے تو بورڈ ز پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پرائیویٹ تعلیمی سیکٹر کو کم از کم انٹر میڈیٹ سطح تک ٹیکس سے مستثنیٰ (آزاد) کردے۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔ اور تعلیم کے بہتر معیار کا سبب بن رہے ہیں۔ ٹیکس کابوجھ سکول انتظامیہ اور والدین دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ادارہ اپنے قیام سے لیکر اب تک تعلیمی و تدریسی میدان میں مسلسل ترقی کی منازل طے کر رہاہے۔ اس کا شما ر بورڈ کے پوزیشن ہولڈر اداروں میں ہوتا ہے۔ اس ادارے کے سینکڑوں طلباء و طالبات یہاں سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ منسلک ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس ادارے کی فیس زیادہ ہوگی اس کا معیار بھی بہتر ہوگا۔ اس ادارے نے انتہائی کم فیس کے ساتھ وہ تعلیمی معیار دیا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت وہ سینکڑوں سابقہ طلباء/طالبات ہیں جو آج بطور ڈاکٹر / انجینئر/ کمیشنڈ آفیسر/پروفیسر و لیکچرار / بینک آفیسرز کے کام کر رہے ہیں۔ اس وقت اس سکول سسٹم کی 4 برانچز ہیں جہاں 6000 سے زیادہ طلباء وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اپنے ادارے کی خصوصیات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وسیع اور خوبصور ت بلڈنگز، سائنسی آلات اور کمپیوٹرز سے مزین لیبارٹریز، کوالیفائیڈ ٹیچنگ سٹاف، مناسب فیس، لائق و ذہین طلباء کیلئے سکالر شپس، ٹرانسپورٹ کی سہولت، کمزور طلباء و طالبات ایکسٹرا کوچنگ، قرآن مجید ناظرہ و تجوید، ترجمہ و حفظ کی سہولت، اسلامی تعلیمات وپرسکون ماحول، گرلز اور بوائز کیمپس علیحدہ علیحدہ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارے القرآن بیکن سکولز اینڈ کالجز سسٹم مانسہرہ کا آغاز 1995میں مین کمیپس مانسہرہ سے ہوا۔ آج یہ سکول سسٹم القرآن بیکن سکول وکالج مانسہرہ اور القرآن بیکن سکول وگرلز کالج سانڈے سر سمیت پانچ برانچز پر مشتمل ہے۔ مانسہرہ کیمپس پری پرائمری و پرائمری سکول، ہائی سکول، انٹر میڈیٹ کالج اور یونیورسٹی کیمپس پرمشتمل ہے۔ بوائز و گرلز کیلئے علیحدہ علیحدہ بلڈنگ ہیں۔ سکول و کالج کا الحاق تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد کے ساتھ ہے جبکہ یونیورسٹی کلاسز ورچوئل یورنیورسٹی آف پاکستان کے ساتھ ہیں جس میں دو سالہ بی اے /بی ایس سی چارسالہ آنرز پروگرامز اور دوسالہ ایم اے / ایم ایس سی پروگرامز شامل ہیں۔ ایم ڈی، مانسہرہ کیمپس کے پرنسپل محمد فاروق اعوان، ایم ایس سی فزکس اور ایم اے اُردو ہیں۔ تین سال تک بطور لیکچرار کام کیا ار پھر 1995 میں یہ سکول سسٹم شروع کردیا۔ سانڈے سر کیمپس کے پرنسپل محمد جاوید اعوان ایم اے انگلش، ایم ایڈ اورایم فل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں