35

علم عروض‌کے ماہر،خوبصورت لب ولہجہ کے شاعر قاضی بختیار کے ساتھ خصوصی نشست

انٹرویو،عمر علی دائم

شاعر کی مثال کسی بھی ملت کے اندر دل کی مانند ہوتی ہے اور جس ملت کے اندر شاعر نہ ہوں اس کی مثال مٹی کے ڈھیر جیسی ہوتی ہے۔ شاعر کسی بھی معاشرے کا بہترین عکاس ہوتا ہے وہ معاشرے کی تمام اچھائیوں اور برائیوں کو محسوس کرتا ہے اور انہیں لفظوں کا جامہ پہنا کر عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور جو کام لمبی لمبی تقاریر سے نہیں ہو پاتے وہ شاعر کے قلم سے نکلے ہوئے چند الفاظ کر دکھاتے ہیں۔ اس کی زندہ مثالیں چین اور روس کا انقلاب ہیں۔ پرانے وقتوں میں کئی شعراء کے کلام جنگ میں ہونے والی یقینی شکست کو فتح میں بدلنے کا سبب بنے۔ شاعری کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے خطۂ ہزارہ کو خصوصی طور پر نوازا ہے اور اس خطے نے ادب کی دنیا میں وہ نام پیدا کیے جنہوں نے اپنی شاعری کا لوہا پوری دنیا میں منوایا۔ ہفت روزہ لوح و قلم انٹرنیشنل نے ہزارہ کے ایک ایسے شاعر سے نشست کا اہتمام کیا جو کہ ایک انجمن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شاعر کو اتنی خوبیوں سے نوازا ہے کہ جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔بحیثیت شاعر دیکھیں تو اپنے فن میں ید طولیٰ، بحیثیت انسان دیکھیں تو انتہائی مخلص، ملنسار، غرور اور تکبر جسے چھو کے بھی نہیں گزرا جس محفل میں جائے تو اس کی جان بن جاتا ہے۔ ہماری مراد قاضی ناصر بختیار ہیں۔ ان سے جو گفتگو ہوئی وہ نظرِ قارئین ہے۔
مختصر تعارف:
نام:۔ ناصر بختیار
تعلیم:۔ایم اے اردو، بی ایڈ، ڈپلومہ ان مکینیکل انجینئرنگ
سکونت:۔ گاؤں ڈھوڈیال، نواں شہر ایبٹ آباد
پیدائش:۔ 7 اپریل 1968؁ء
لوح و قلم انٹرنیشنل:۔ اپنی شاعرانہ زندگی کے بارے میں بتائیں کہ شاعری کی ابتداء کب ہوئی؟
ناصر بختیار:۔ ایسے تو میں نے پانچویں جماعت سے شعر کہنا شروع کیا لیکن جسے آپ باقاعدہ شاعری کہہ سکتے ہیں اس کی ابتداء کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ہم آٹھویں جماعت میں تھے کہ سکول کی طرف سے ایک ٹور پہ جانا ہوا واپسی پر استاد محترم نے سب بچوں سے کہا کہ کل سب نے اس سفر کی روداد لکھ کے لانی ہے۔اگلے دن سب بچوں نے سفری روداد نثر کی صورت میں لکھ کے لائی جبکہ میں منظوم سفری روداد لکھی جسے تمام اساتذہ نے بے حد سراہا اور میری بھرپور حوصلہ افزائی کی تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کن کن زبانوں او رکن کن اضاف سخن میں شاعری کرتے ہیں؟
ناصر بختیار: ہندکو اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کرتا ہوں اور جن جن اضاف میں طبع آزمائی کی ہے ان میں حمد، نعت، غزل، نظم، رباعی، ترائیلے، ہائیکو، ماہیا، سائنٹ، چاربیتہ، چوبندا، چوبولا، انمل، دوھے، دوہڑے، دہا، کافی، حرفی، گیت، بہاریہ گیت، لوک گیت، بولیاں، لغت بولیاں، بارہ ماسے، کنڈلیاں، چھبہ، نظمانہ،دو غزلہ، سہہ غزلہ اور پہیلی وغیرہ شامل ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: سنجیدہ شاعری ہی کرتے ہیں یا طنز و مزاح بھی لکھتے ہیں؟
ناصر بختیار: سنجیدہ اور طنز و مزاح دونوں ہی میں لکھتا ہوں طنز و مزاح مجھے ورثے میں ملا ہے کیوں کہ میرے استاد جناب نیاز سواتی(مرحوم) کا طنز و مزاح میں ایک بہت بڑا نام تھا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کا پسندیدہ شاعر کون ہے؟
ناصر بختیار: ساغر صدیقی میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پسندیدہ صنف شاعری کونسی ہے؟
ناصر بختیار: نعتِ رسول مقبول ؐ
لوح و قلم انٹرنیشنل: لباس کونا پہننا پسند کرتے ہیں؟
ناصر بختیار:شلوار قمیص
لوح و قلم انٹرنیشنل: کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں؟
ناصر بختیار:(ہنستے ہوئے) وہ ر چیز جس میں مرچ تیز نہ ہو۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: اب تک کتنے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں؟
ناصر بختیار: اردو شعری مجموعہ”بالشِ غم“ 2000؁ء میں منظر عام پر آیا۔ جبکہ ہندکو مجموعہ ”چھکے بچ پھل“ 15/08/2011ء کو انشاء اللہ آپ کے ہاتھوں میں ہو گا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: اپنی پسند کا کوئی شر یا رباعی سنائیں؟
ناصر بختیار اپنی ایک رباعی تمام قارئین کی نذر
سو شکر خدا پاک نے ہر وقت دیا ہے
مانگے بھی ملا ہے بنا مانگ عطاء ہے
ہاتھوں کو سمیٹا ہے تو دامن کو پسارا
دامن کو سمیٹا ہے تو پھر اور ملا ہے
رمضان کے حوالے سے مزاحیہ اشعار
وہ روز ہی دوپہر کو مہمان ہونا چاہیے
لیکن ہماری شرط ہے رمضان ہونا چاہیے
دن کو روزہ ہو نہ ہو افطاریاں ہوں دھوم سے
اب اس قدر تو صاحبِ ایمان ہونا چاہیے
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کے پہلے مجموعہ کی ادبی حلقوں میں کچھ پذیرائی ہوئی کیا؟
ناصر بختیار: اللہ کا برا احسان ہے میرے پہلے مجموعے کو پاکستان ٹیلنٹ کونسل ایوارڈ کے علاوہ دیگر ادبی تنظیموں کی طرف سے چھ سے زائد ایوارڈ مل چکے ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کہاں کہاں بحیثیت شاعر شمولیت کا موقع ملا؟
ناصر بختیار:P.T.V پشاور، شمال ٹی وی، FM.99.4، ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد، جیو، براق ریڈیو پر شرکت کرتا رہتا ہوں۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل مثلاً شعر و سخن مانسہرہ، دوڑ کنارے حویلیاں اور اخبارات میں نوائے وقت، سرحد نیوز و دیگر مقامی اور ملکی اخبارات میں کلام شائع ہوتا رہتا ہے۔ روزنامہ شمال میں مسلسل چھ ماہ تک مختلف اضافِ سخن پر ہفتہ وار تنقیدی مضامین لکھتا رہا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: ایبٹ آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں؟
ناصر بختیار: جی ہاں ایبٹ آباد کے علاوہ اسلام آباد، مانسہرہ، کوہاٹ، پشاور، ہریپور، واہ کینٹ اور دیگر شہروں میں اکثر مشاعروں میں شرکت کرتا رہتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کن کن ادبی تنظیموں سے منسلک ہیں؟
ناصر بختیار:1984؁ء میں بزمِ اہلِ سخن نواں شہر سے بطور ممبر وابستہ ہوا اور 1996؁ء سے اب تک بطورِ صدر بزمِ اہل سخن خدمات سرانجام دے رہا ہوں اس کے علاوہ قلم کارواں حویلیاں، بزمِ علم و فن ایبٹ آباد، حلقہ باراں شنکیاری مانسہرہ اور دیگر ادبی تنظیموں سے بھی وابستگی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: یہاں کی مقامی ادبی تنظیموں کا شاعری کے فروغ کے حوالے سے کیا کردار ہے؟
ناصر بختیار:یہاں کی مقامی ادبی تنظیمیں شاعری کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور نوجوان شعراء کے لیے وجہ تحریکِ شاعری بن رہی ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:ہزارہ میں شاعری کا معیار کیا ہے؟
ناصر بختیار:بوجہ تنقید یہاں شاعری کا معیار بہت ہی اچھا ہے۔ یہاں کے مقامی شعراء کلام میں سے بیش تر کے اشعار علمِ عروض، علمِ بدیع، علمِ بیان اور حشو ملیح کی بہترین مثالیں ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: نوجوان شعراء کے لیے کوئی پیغام؟
ناصر بختیار: حسد سے پاک اور شعر کے پیچھے شاعرانہ تجربہ اور حقیقت پسندانہ شاعری کریں۔ اور شاعرکے علاوہ بحیثیتِ انسان اچھا ہونا بہت ضروری ہے۔
یہ تھی ہزارہ کے معروف شاعر ناصر بختیار خان کے ساتھ خصوصی نشست امید ہے کہ آپ کو پسند آئی ہو گی۔ آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا ہمیں اپنی آراء سے ضرور آگاہ کیجئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

علم عروض‌کے ماہر،خوبصورت لب ولہجہ کے شاعر قاضی بختیار کے ساتھ خصوصی نشست” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں