18

تعلیم سے ڈگریاں نہیں بلکہ کردار کی تشکیل مقصود ہے،اے ڈی اوطاہرہ جبین کی باتیں

اساتذہ اپنی ذمہ داری کا خیال کریں
پرائمری لیول تک طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیے خواتین اساتذہ زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہیں

لڑکیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اسلام نے مرد اور عورت کو گو د سے لے کر گور تک علم حاصل کرنے کی تعلیم دی ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے اگر ماں پڑھی لکھی ہو گی تو بچے کی بہتر تربیت کرے گی

کچھ لوگ پیدائشی محنتی، جفاکش اور قوم کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں اے ڈی او فی میل سرکلر پھلڑہ طاہرہ جبیں کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے ان کا ماٹو ہے کام، کام اور صرف کام یہ آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتیں،اس کی گواہی پورا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی دیتا ہے انتہائی محنتی، دیانتدار اور قوم کا درد رکھنے والی یہ خاتون پچھلے دنوں منعقدہونے والی تقریب سلام ٹیچرز ڈے میں بیسٹ اے ڈی او منتخب ہو چکی ہیں۔ جس پر انہیں سیاسی سماجی اور تعلیمی حلقوں نے بڑی مبارکباد دی، طاہرہ جبیں اپنی اس کامیابی کو اللہ کا فضل اور والدین کی دعاؤں کے ساتھ اپنے شوہر کے تعاون کی وجہ قرار دیتی ہیں۔مانسہرہ کی اس تعلیمی شخصیت سے گذشتہ روز لوح و قلم انٹرنیشنل نے ایک نشست کا اہتمام کیا جو قارئین کی نظر ہے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران بتایاکہ میرا تعلق ضلع مانسہرہ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم مانسہرہ ہی سے حاصل کی اور فرسٹ پوزیشن لیتی رہی جبکہ ثانوی تعلیم میں سیکنڈ ڈویژن حاصل کی اسکی وجہ یہ تھی میں شروع سے نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں میں سرگرم عمل رہی اور وہاں بھی کامیابی کا لوہا منوایا۔مختلف کھیلوں میں جس میں والی بال، ٹینس،اوردیگر انڈورگیمیں شامل ہیں میں Best Playerرہی ہوں۔ میں نے ایم اے پشاور یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر کیا چونکہ میرے والد ٹیچر تھے۔جس نے مجھے ٹیچنگ کی طرف شوق دلایا۔ میٹرک ا کے بعد جلد شادی ہوگئی۔شادی کے بعدمیں نے پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا اور کچھ حالات بھی میرے ناساز گارتھے بہرحال میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اپنے شوق اور لگن اور جذبے کے ساتھ تعلیم کے میدان میں پیش پیش رہی اس میں میرے والدین کی مجھے بہت زیادہ Sportرہی جس کا نتیجہ یہ ملا کہ میں ماشاء اللہ پبلک سروس کمیشن کے طفیلADOسلیکٹ ہوئی میرے Husbandآرمی سے منسلک ہیں وہ بھی اصولوں کے پابند ہیں مجھے بھی انکی Guide Lineاور Cooprationنے اصولوں پر چلنا سکھایا ہے وقت ضائع نہیں کرتی جو کام ملتا ہے اسے احسن طریقے سے مکمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں نے ہر کام کو جوش و جذبہ کے ساتھ اوراحساس ذمہ داری سمجھ کر کیا ہے کبھی کام کو بوجھ نہیں سمجھا آج کا کام کل پر نہیں چھوڑا اسوقت تک نیند نہیں آتی جب تک دن کے تمام کام نمٹا نہ لوں میں سمجھتی ہوں کہ ٹیچرز فرض شناس ہونا چاہئے۔
تعلیم کی بہتری کے لیے انہوں نے کہاکہ معیار تعلیم کو بہتر بنایا جائے Refresherloursesکا اہتمام کیا جائے۔مفت تعلیم دی جائے داخلے معاف کئے جائیں،ہر لحاظ سے ٹیچرز کو بھی اور طالبعلموں کو بھی Facilitalteکیا جائے ٹیچرز کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔نئی پالیسی بنائی جائے،سلیبس سسٹم کو ختم کیا جائے سلیبس ایک لیول کا ہو،پرائمری لیول تک بوائز کو بھی Female Teacherایجوکیٹ کریں۔اعلیٰ کارکردگی پر انعامات دیئے جائیں تاکہ اساتذہ کی اور طالبعلموں کی حوصلہ افزائی ہو اور خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں۔صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا خصوصی اہتمام کیا جائے جس سے خود اعتمادی اور مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا۔
تعلیم کی خامیوں کو دور کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تعلیم سے صرف ڈگریاں حاصل کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اخلاقیات، انسانی کردار کی تشکیل مقصود ہو۔ امتحانات میں نقل کا خاتمہ،میرٹ کو ترجیح اور محکمہ تعلیم سے سیاسی مداخلت کا خا تمہ کیا جائے۔ علم و عمل میں تضاد نہ ہو۔اساتذہ کرام کے لیے پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلمی پیغمرانہ پیشہ ہے اس کے تقدس کا خیال رکھیں۔اپنے پیشے کو بہترین انداز سے ادا کریں۔ فرض شناسی ہی اساتذہ کا طرہ امتیاز ہوتی ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستار
اپنے مضمو ن پر دسترس رکھنا ضروری ہے کیونکہ انہوں نے قوم کی تربیت کا فرض انجام دینا ہو گا ذہانت، دیانتداری، لگن، سچائی اور قومی درد ہی اساتذہ کرام کا ماٹوں ہونا چاہئے۔بچوں اور والدین کے لیے پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچے اپنا وقت مت ضائع کریں،گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔وقت کی قدر کریں تعلیم حاصل کریں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر کے اپنے ملک کا مستقبل روشن کریں۔والدین اپنے بچوں پر بھر پور توجہ دیں اور انہیں احساس دلائیں کہ وہ مستقبل کا پاکستان ہیں۔انکی بھرپور مدد کریں اور انکی حوصلہ آفزائی کریں۔لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لڑکیاں خدا کی رحمت ہوتی ہیں اسلام نے مرد اور عورت کو گو د سے لے کر گور تک علم حاصل کرنے کی تعلیم دی ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے اگر ماں پڑھی لکھی ہو گی تو بچے کی بہتر تربیت کرے گی اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مجھے پڑھی لکھی ماں دو میں تمھیں پڑھا لکھا معاشرہ دونگا۔انہوں نے بچیوں کے والدین سے درخواست کی کہ وہ بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں انہیں ہرگز نظرانداز نہ کریں۔ان ہی کی بدولت معاشرہ نیکی کی طرف گامزن ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں