18

تعلیم کبھی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں رہی ،معظم خان

انٹرویو ،مشرف ہزاروی،
دفاع کا بجٹ اگر تعلیمی میدان میں خرچ ہو تو ملک سے دہشت گردی سمیت تمام مسائل ختم ہو جائیں
جس ملک میں تعلیمی شعبے کے ساتھ تمام با اختیار ادارے امتیازی سلوک روا رکھیں وہ تعلیمی شعبے میں کیسے آگے بڑھے گا
پبلک سروس کمیشن کی طرز پر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جو صرف ایجوکیشن میں شفاف بھرتی کا ذمہ دار ہو
انتظامی وتدریسی کیڈر کوعلیحدہ کرنے سے تعلیمی نظام میں کافی بہتری آئی،اچھے نتائج کیلئے سکول پرنسپلز کے اختیارات میں اضافہ کرناہوگا
قاضی محمد اسد نے کالجز کی حدتک تعلیم کے فروغ کیلئے بہت کام کیا، سیاسی مداخلت کی وجہ سے محکمہ تعلیم میں بھرتی کا طریقہ کار بھی معیاری نہیں
سبجیکٹ سپیشلسٹ ایسوسی ایشن سے ون مین شوکاخاتمہ کرکے توقعات سے بڑھ کرتعلیمی ترقی کیلئے اقدامات اٹھائے
سابق صدر سبجیکٹ سپیشلسٹ ایسوسی ایشن ضلع ہریپورمعظم خان کی ہفت روزہ لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو

انٹرویو: معظم خان سابق صدر سبجیکٹ سپیشلسٹ ایسوسی ایشن ضلع ہریپور
معظم خان سابق ضلعی صدر سبجیکٹ سپیشلسٹ ایسوسی ایشن ضلع ہریپور جن کے دور صدارت میں پہلی دفعہ ایس ایس ایسوسی ایشن نہ صرف ضلع ہریپوربلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں صحیح معنوں میں منظم و مؤثر انداز میں ابھر کر سامنے آئی۔ بلکہ انہی کے دور میں ایس ایس ایسوسی ایشن نے تعلیمی مسائل کے حل اور امتحانی نظام میں بہتری کیلئے مؤثر اور قابل عمل تجاویز کے ذریعے اساتذہ کے مسائل کو بہت زیادہ اجاگر کر کے تعلیمی حلقوں میں تہلکہ مچایا اور آج پورے صوبے میں ایس ایس ایسوسی ایشن ضلع ہریپور کو مثالی تنظیم سمجھا جاتا ہے جو صحیح معنوں میں جمہوری عمل کی پیداوار نظر آتی ہے۔یوں تو تعلیمی اداروں میں کئی ایک اساتذہ تنظیمیں اور ان کے نمائندے نظر آتے ہیں مگر ان سے کسی کا بھی موجودہ سیٹ اپ باقاعدہ الیکشن کے ذریعے ممکن نہیں ہوا ماسوائے ایس ایس ایسوسی ایشن کے۔
معظم خان سابق ضلعی صدر ایس ایس ایسوسی ایشن ضلع ہریپور کا تعلق ہریپور کے بہت بڑے اور تاریخی قصبے سرائے صالح سے ہے۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول سرائے صالح سے 1985ء میں سکول بھر میں پہلی پوزیشن حاسل کر کے پاس کیا۔ انٹر اور گریجویشن گورنمنٹ ڈگری کالج ہریپور سے کرنے کے بعد والد محترم اورنگزیب خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیم و تدریس کا شعبہ اپناتے ہوئے گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج ہریپور سے سی ٹی کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کر کے بطور سی ٹی ٹیچر تعینات ہوئے۔ دوران تدریس ایم اے، بی ایڈ، ایم ایڈ کے امتحانات میں کامیابی حاصل کر کے اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھایا۔ 2006 میں پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں کامیابی کے بعد بطور سبجیکٹ سپیشلسٹ مطالعہ پاکستان تعینات ہوئے۔ تعلیمی مسائل پر گہری نظر، اساتذہ کے مسائل اور ان کے حل کی طرف توجہ سے بہت جلد ایس ایس کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور پہلی دفعہ ضلع ہریپور میں بیلٹ ووٹ کے ذریعے عرصہ دراز سے ایسوسی ایشن پر قابض شخصیت کو بھاری اکثریت سے فروری 2009ء میں شکست دے کر ضلعی صدر منتخب ہوئے۔ ذیل کی سطور میں سے ان کے دور صدارت میں ان کی ٹیم کی علمی کاوشوں، مسائل اور ان کے حل کی نشاندہی پر خیالات جانتے ہیں۔
سوال: آپ کو ایسوسی ایشن میں بطور صدر الیکشن لڑنے کا خیال کب اور کیوں آیا؟
جواب: میری اپنی ذاتی خواہش کوئی نہیں تھی کہ میں ایسوسی ایشن میں کوئی کردار ادا کروں۔ہم سے پہلے صدر اور جنرل سیکرٹری صاحبان کے آپس کے ذاتی اختلافات نے ایک علمی تنظیم جس کا مقصد تعلیمی بہتری، مسائل کی نشاندہی اور حل کی کوششیں ہونا چاہیے تھا کو ذاتی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا تھا۔ تو کوئی ایک دوستوں نے جن میں بشارت احمد ایس ایس فزکس، محمد عظمت ایس ایس انگلش، سردار جاوید اختر ایس ایس ریاضی، عامر عتیق ایس ایس فزکس، ایاز اکبر خان ایس ایس کیمسٹری نے مجبور کیا کہ ہم نے ایسوسی ایشن کو بہترین علمی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرنا ہے توذمہ داریوں کا بوجھ مل جل کر اٹھانا ہو گا۔ یہ عہدہ نہیں تھا بلکہ بہت بڑی ذمہ داری آپ کہہ لیں کہ کندھوں پر ڈالی گئی تھی۔ اسی وجہ سے شاید ہمیں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی یہی وجہ تھی کہ حلف اٹھانے سے بھی پہلے ہی مسائل، علمی بہتری کیلئے نشان دہی شروع کر دی تھی۔ ایسوسی ایشن کا اس سے پہلے کوئی آئین نہیں تھا ذمہ داریوں کا تعین نہیں تھا، ٹیم ورک نہیں تھا، ون مین شو تھا اسے ختم کرنا تھا تا کہ جمہوری عمل کے ذریعے انتخاب ہو اور مسائل کی نشاندہی ہو ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی گراوٹ کے اسباب اور س میں بہتری کو اجاگر کرنا تھا، یہاں میں یہ بات بہت زیادہ زور دے کر کہوں گا ہماری کوششیں فردِ واحد نہیں بلکہ پوری ٹیم ورک کا نتیجہ تھا جن میں بشارت احمد اعوان، محمد نیاز، جہانگیر خان ترین، محمد اشرف، محمد حفیظ، طاہر گل، محمد اسلم، سردار جاوید اختر، محمد رفیع اور کئی دیگر حضرات اور پھرخواتین ایس ایس کا بہت بڑا کردار تھا جو وقتاً فوقتاً بر وقت نشاندہی کرتی تھیں۔
سوال:آپ نے فوری طور پر کن مسائل کی طرف ارباب اختیار کی توجہ دلائی اور کس حد تک آپ کو کامیابی حاصل ہوئی؟
جواب: نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں صاحبانِ اقتدار کی ترجیحات میں تعلیم شاید آخری درجہ پر ہے اس لیے تعلیمی شعبہ مسائلستان بنا ہوا ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک اور تہذیب یافتہ ممالک میں پہلی ترجیح صحت اور تعلیم کو ہی دی جاتی ہے۔ یہاں غریب عوام کو پر فریب نعرے تو دیئے جاتے ہیں مگر حقیقی فائدہ جس میدان کے ذریعے دیا جا سکتا ہے اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارے بجٹ کا الفاظ میں محض دو فیصد اور حقیقی معنوں میں 1.5 فیصد بھی تعلیم پر خرچ نہیں ہوتا۔ ہمارا لٹریسی ریٹ بد قسمتی سے بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور کئی ایک پسماندہ ممالک سے بھی کم ہے، آج کے دور میں دفاعِ وطن بھی تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اس لیے دفاع کا بجٹ اگر تعلیمی میدان میں خرچ ہو تو ملک میں دہشت گردی اور کسی دشمن سے ڈر اور خوف ختم ہو جائے۔ دنیا میں کئی ایک ممالک ایسے ہیں جہاں فوج یا تو ہے ہی نہیں یا برائے نام ہے مگر ان کی ترقی دنیا کے لیے نمونہ ہے۔ ہمارا تدریسی طبقہ نہ صرف غیر مطمئن ہے بلکہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے اس میں بھرتی کا طریقہ کار بھی معیاری نہیں۔ لوگوں کی پیشہ ورانہ چناؤ میں آخری ترجیح محکمہ تعلیم ہوتا ہے جس وجہ سے اعلیٰ قابلیت کے حامل لوگ اسے اپناتے ہوئے ترجیح آخر دیتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ Father of the nation، سب سے زیادہ معز سب سے زیادہ ذہانت کے حامل اور سہولتوں کے لحاظ سے بھی بہت سے بہتر طبقہ ہوتا ہے وہ تمام پریشانیوں سے آزاد ہو کر اپنی نئی نسل اور مستقبل کو بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہماری تنظیم چونکہ ضلعی سطح تک محدود تھی پھر بھی ہم نے بہت سے مسائل جو ملکی سطح پر بھی اٹھائے جا سکتے تھے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔
1: فوری طور پر ہم نے عبوری دور میں وزیر جنگلات اعجاز خان درانی کے ذریعے بیورو آف کریکولم جو ایبٹ آباد جیسے تعلیمی شہر سے منتقل کیا جا رہا تھا کو بر وقت آواز اٹھانے پر رکوا دیا۔
2: اسی طرح بار با رسیکرٹری تعلیم، وزیرتعلیم اور صاحبانِ اخیتار کو متوجہ کرتے رہے کہ صوبہ بھر میں بہت بڑی تعداد میں سرکاری سکولز ایسے ہیں جن میں سربراہ ادارہ موجود ہی نہیں فی الفور پروموشن اور ڈائریکٹ سلیکشن کے ذریعے تعیناتی کی جائے تا کہ اداروں میں معیار تعلیم میں بہتری آئے اور سرکاری سکولز جہاں صرف غریب کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں بہتری آئے۔ اقتدار خصوصاً سیاسی لوگوں کی تعلیم کا شعبہ آخری ترجیح بلکہ ترجیح ہے ہی نہیں۔
3: آپ یقین کریں گے کہ ہمارے ہائر سیکنڈری سکولز جہاں پوسٹ ہی سبجیکٹ سپیشلسٹ کی ہوتی ہے آسامیاں پوری طرح پر نہیں ہوتی تو متعلقہ مضمون کو کوئی بھی دوسرا شخص پڑھا رہا ہوتا ہے۔جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں پرائمری سطح تک میں مضامین کے ماہر لوگ ہی متعلقہ مضمون کی تدریس کرتے ہیں۔ ہمارے وہاں ایک نظریاتی ملک ہونے کے باوجود مطالعہ پاکستان اور قومی زبان اردو کیلئے الگ الگ ماہر مضامین کی تعیناتی پچھلے دس سال سے ممکن نہیں ہو سکی۔ جبکہ یہ بات تقریباً ہر میٹنگ میں صاحبانِ اختیار کے نوٹس میں لائی جاتی ہے۔ آج میں آپ کے سامنے یہ بات ثبوت کے طور پر لانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اعجاز خان درانی عبوری دور میں وزیر ماحولیات اور دیہی ترقی، موجودہ وزیر تعلیم برائے ہائر ایجوکیشن قاضی محمد اسد کو بار ہا وزیر تعلیم سردار حسین بابک، قاضی محمد اسد کے ذریعے وزیر اعلیٰ، سیکرٹری تعلیم محمد عارفین خان، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری عطاؤ اللہ خان، ڈائریکٹریس میڈم سیدہ ثروت جہاں، ای ڈی اوز ہر طرح پر یہ نشان دہی کی کہ خدا را ملکی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور قومی زبان اہمیت کے پیش نظر کم از کم ہائر سیکنڈری سطح پر جہاں تعیناتی ہوتی ہی ماہر مضمون کی ہے ان مضامین کیلئے الگ ماہر مضمون تعینات کیے جائیں یقین جانیئے سب اس بات کی اہمیت کو زبانی تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے کانوں پر عملی طور پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہماری اس جدو جہد کے نتیجے میں اب سننے میں آیا کہ اردو کی آسامیاں ہر سکول میں دی جا رہی ہیں۔
4: آج بھی صوبہ بھر میں 500 سے زیادہ سکولوں میں گریڈ 19,18 کی آسامیاں خالی ہیں جن کی طر ف بار بار توجہ دلائی جاتی رہی ہے۔ تا کہ تعلیمی عمل میں بہتری لائی جا سکے۔
5: سب سے اہم ایشو جس پر ہم نے سب سے زیادہ سٹینڈ لیا اور آج بھی حل طلب ہے وہ ہے اساتذہ کی اپ گریڈیشن، جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ہمارے سیاستدان اور ساحبان اقتدار کی تعلیمی میدان ترجیح ہے ہی نہیں، محض عوام اور اساتذہ کو پر فریب نعروں سے لولی پاپ دیا جاتا ہے۔ بلکہ مجھے انتہائی فسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس سلسلے میں ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ سے باقاعدہ از خود نوٹس کیلئے اپیل بھی اگست 2010ء میں دائر کر چکے ہیں اور ارباب اختیار کی خصوصی توجہ کے طالب بھی ہیں تا کہ قومی بہتری آ سکے۔
انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ 2006ء میں سلام ٹیچر ڈے پر وزیر اعظم پاکستان نے عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے یا دنیا کو محض دکھانے کیلئے تمام اساتذہ کو ون سٹپ اپ گریڈیشن کا اعلان کیا۔اعلان تو اساتذہ کیلئے ہوا مگر آئیں میں آپ کو بتاتا ہوں اپ گریڈیشن کن ملازمین کی ہوئی۔
۱۔ سب سے پہلے عدلیہ کے جج صاحبان کو اپ گریڈیشن مل گئی کیونکہ سیاستدانوں کے اقتدار کو اساتذہ سے خطرہ نہیں بلکہ شاید عدلیہ سے نظر آتا ہے۔
۲۔ اپ گریڈیشن کلرکوں کو مل گئی جن میں سے گریڈ پانچ سے سات اور گریڈ گیارہ سے چودہ میں چلے گئے کیونکہ اساتذہ کے پجاریوں کیلئے کاغذات کے پیٹ کلرک حضرات بھرتے ہیں اساتذہ شاید ان کے مذموم مقاصد کا حصہ نہیں بنتے۔
۳۔ اپ گریڈیشن محکمہ فنانس کے اکاؤنٹ آفیسران کو مل گئی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر گریڈ سترہ سے گریڈ اٹھارہ میں چلے گئے۔ اکاؤنٹ آفس کے ایڈیٹر حضرات کو آپ یقین کریں ایک دفعہ نہیں دو دفعہ اپ گریڈیشن دی گئی جو گریڈ نمبر سات سے گریڈ نمبر گیارہ اور پھر گریڈ نمبر چودہ میں چلے گئے یعنی گریڈ نمبر سات والے گریڈ نمبر چورہ میں تعینات ہو رہے ہیں وجہ صرف بادی النظر میں یہ نظر آتی ہے کہ پیسے کا معاملہ ہے کرپشن شاید انہی حضرات کے ساتھ مل کر کی جا سکتی ہو اساتذہ اس معاملے میں کہاں مددگار ہو سکتے ہیں۔
۴۔ سپریم کورٹ نے بھی کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس کے ماتحت اٹھارہ ہزارہ ملازمین کو اپ گریڈیشن کرنے کا حکم تو دے دیا مگر اساتذہ کی اپیل پر از خود نوٹس نہ لیا۔
۵۔ پولیس ملازمین کوبھی اپ گریڈ کر دیا گیا کیونکہ انہیں بھی ہمارے سیاستدان اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں اس لیے ان کی اپ گریڈیشن ضروری تھی مگر اساتذہ کی نہیں۔
۶۔ سی ڈی اے اسلام آباد کے ملازمین بھی اپ گریڈ ہو گئے مگر اساتذہ نہیں۔
اب آپ ہی مجھے بتائیں کہ جس ملک میں تعلیمی شعبے کے ساتھ تمام با اختیار اداریامتیازی سلوک روا رکھیں وہ تعلیمی شعبے میں کیسے آگے بڑھے گا۔ جہاں کبھی بھی بجٹ میں ہنگامی طور پر کٹوتی ہو تو وہ تعلیمی بجٹ میں ہوتی ہے جہاں ملکی سدر کے اخراجات میں اضافہ ہو تو کٹوتی ہائر ایجوکیشن کے فنڈ سے ہو تو کیا رونا نہیں آتا کہ یہ کیسا ملک ہے لیکن ہم پھر بھی ہر سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بہت جلد وکلاء سے مشاورت کے بعد رٹ دائر کریں گے۔
سوال: ہمارے امتحانی نظام میں کیا کیاخرابیاں ہیں ان کیلئے آپ نے کن کن فورم پر آواز اٹھائی اور کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی؟
جواب: تعلیمی معیار کی جانچ کیلئے امتحانی نظام ہوتا ہے۔ ایک تو ہمارے ملک میں کوالٹی کے بجائے صرف کاغذ کی اہمیت زیادہ، امتحانی نظام میں سب سے اہم کردار اساتذہ کا اپنا ہوتا ہے مگر پھر بھی ہمارا محکمہ کئی اور اداروں کا محتاج ہے بلکہ جو ادارے بورڈ اور یونیورسٹی جانچ پڑتال کرتے ہیں ان میں بھی سیاسی مداخلت بہت زیادہ ہو چکی ہے بورڈ اور یونیورسٹی منافع بخش کاروباری ادارے زیادہ نظر آتے ہیں جن میں تعیناتی کیلئے بد قسمتی سے دوڑیں لگی ہوتی ہیں اکرم خان درانی نے فلور آف دی ہاؤس یہ اقرار کیا ان اداروں میں سیاسی لوگوں کی سفارشپر تعیناتی ان کی بہت بڑی غلطی تھی یہاں پر بھی سسٹم کے بجائے شخصیات پر منحصر ہے کہ اگر بورڈ، یونیورسٹی میں کوئی صاحب کاردار شخص خوش قسمتی سے تعینات ہو گیا تو تھوری بہت بہتری نظر آ جاتی ہے لیکن وہ بھی انفرادی طور پر کوشش تو کرتا ہے مگر اس کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں دالی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری ٹیم کی بار ہا ملاقاتیں چیئرمین بورڈ، کنٹرولر امتحانات سے ہوئی ہیں اس سارے عرصے میں جس شخص نے مجھے امانتداری، لگن اور اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتی نظر آئی وہ چیئرمین بورڈ ایبٹ آباد ڈاکٹر حمایت اللہ خان کیہے لیکن یہاں میں بات دھراؤں گا کہ وہ ایک انفرادی شخصیت ہے جب تک سسٹم میں مجموعی کارکردگی میں اضافہ نہیں ہو گا بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے کئی ایک تجاویز پر انہوں نے عمل درآمد کرایا اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے امتحنای پیپرز کے بنوانے اس کی سیکریسی، شفافیت، امتحانی عملے کو سہولیات، بر وقت اساتذہ کرام کو معاوضوں کی ادائیگی اور پیپرز کی شفافیت میں اپنا کردار ادا کیا مگر کئی ایک معاملات میں وہ بھی ہمیں بے بس نظر آئے جن میں ہم نے انہیں دو، تین ایسیت جاویز دیں جن پر عمل درآمد شاید ان کے بس میں نہیں اگر یہ تمام چیئرمین بورڈز دلچسپی لیتے تو ہو جاتی بہت سی تجاویز پر انہوں نے عمل درآمد کروایا۔
۱۔ امتحانی ڈیوٹیوں کے معاوضہ جات انتہائی کم تھے بلکہ اب بھی کم ہیں مگر ہماری تجاویز اور ان کی کوششوں سے سی بی سی میٹنگز میں کئی ایک مد میں معاوضے بڑھے۔
۲۔ پیپرز مارکنگ صرف ایک جگہ ہوتی تھی جس سے دور دراز خصوصاً ہریپور اور مانسہرہ کے اضلاع استفادہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور چیکنگ کے معیار میں بھی فرق پڑتا تھا اور اہل اور ایماندار اساتذہ جو دور علاقوں میں رہتے تھے حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ چیئرمین بورڈ نے اس کے حل کیلئے ہریپور میں اور مانسہرہ میں پیپرز مارکنگ کے سنٹر بنائے۔
۳۔ پیپرز مارکنگ میں اس بات کو بھی ہماری تجویز پر عمل درآمد کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ متعلقہ مضمون کی مارکنگ وہی اساتذہ کرام کریں جو یا تو کلاسز کو پڑھاتے ہوں یا اس مضمون میں کم از کم ایم اے کیا ہو۔
۴۔ کئی ایک اساتذہ ہر امتحان میں ڈیوٹی سرانجام دینے کیلئے کئی ایک راستے استعمال کرتے تھے ہماری تجویز پر چیئرمین بورڈ اور پھر محکمہ تعلیم نے ایک سال میں ایک بورڈ ڈیوٹی سے زیادہ روکنے کی کوشش کی جس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے مگر سو فیصد کامیابی نہیں ہو سکی۔
۵۔ کئی ایک انتہائی ضروری فیصلوں میں شاید ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہم نے بارہا چیئرمین اور سیکرٹریز کو باور کرایا کہ سیکورٹی کے ناقص نظام اور حالات کے پیش نظر امتحانات کے دوران امتحانی عملے بشمول بورڈ عملہ انشورڈ کیا جائے۔ بد قسمتی کہیں یا غفلت ہماری اس تجویز کو بورڈز کے چیئرمین نے ابھی درخواستہنا نہ سمجھا۔
۶۔ اسی طرح امتحانات کی شفافیت کیلئے ایک تجویز یہک بھی دی گئی کہ معروضی سوالات میں آج کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی بدولت پیپرز ایسے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں کہ 15-20 معروضی سوالات کی ترتیب لاکھوں طلباء کے لیے مختلف ہو سکتیہے جس طرح NTS کے ٹسٹ لیے جاتے ہیں اسی طرح نقل کی روک تھام میں بہت مدد ملے گی مگر یہاں بھی بد قسمتی ہے کہ کئی ایک کنٹرولر ساحبان اور چیئرمین بورڈز نے اس بہترین تجویز کی مخالفت کی جس وجہ سے عمل درآمد نہ ہو سکا۔
۷۔ میرے دوست احباب نے جس کی ہمیں بہت زیادہ خوشی بھی ہے اور گورنمنٹ خیبر پختونخواہ یقینا اس سلسلے میں مبارک باد کی بھی مستحق ہے کہ ہماری ٹیم نے بھی سے پہلے وہ کام شروع کیا اور یقینا یہ ہمیں کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے اپنے ھلف اٹھانے کے بعد سب سے زیادہ ایس ایس برادری کے کام کو ہائی لائٹ کیا کہ ہائر سیکنڈری سکولز کے ماہرین مضامین وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے انتہائی کم قابلیت کے طلباء اور بہت زیادہ مسائل کے باوجود اپنے سے زیادہ سہولتوں کے حامل کالجز کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائجدکھائے۔
ہزارہ یونیورسٹی کے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بحیثیت طالب علم بذات خود میں نے ضلع ہریپور کی سطح پر یہ ثابت کیا کہ ہم سہولتوں، میٹرک کی سطح پر کم نمبروں سے کامیاب ہونے والے طلباء نے ایس ایس اساتذہ کی محنت اور لگن سے کالجز کے مقابلے میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی جس کو سیکرٹری تعلیم اور وزیر تعلیم خود تسلیم کر چکے ہیں۔
اسی ریسرچ کی رپورٹ میں یہ تجویز دی گئی اور ہمارے پلٹ فارم سے ایسوسی ایشن کے متعلقہ ذمہ داروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ باقی تمام دنیا ی طرح تعلیم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ۱۔ایلیمنٹری جماعت اول سے آٹھویں تک، 2۔ سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن نہم سے بارہویں تک، 3۔ ہائر ایجوکیشن تا کہ ہمارے ملک کی ڈگریاں بھی مقابلے کی سکت رکھیں اور سنجیدہ حلقے اس پر عمل درآمد کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں۔
میں جس اپنی کامیابی کا ذکر کر رہا تھا کہ ہماری ٹیم نے پہلی دفعہ ضلع کی سطح پر ہائر سیکنڈری سکول کے ٹاپ پوزیشن ہولڈر کو انعام دیا اور پھر ضلعی سطح پر بزنس کمیونٹی کو مثبت سرگرمی کی طرح راغب کر کے غریب اور ہونہار طلباء کو سکالر شپ دینے کا اجراء کیا اس سلسلے میں بزنس مین بابر خان تنولی اور چیمبر آف کامرس کے صدر سجاد اشرف اور ممبر چوہدری محمد اسلم کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کی بدولت ضلع ہریپور کے ہائر سیکنڈری سکولز کے امتحانات میں پہلی تین پوزیشن حاسل کرنے والے طلباء و طالبات میں 20 ہزار تک کی رقم ہمارے دور میں ہر سال تقسیم ہوئی اور اسی سرگرمی کو دیکھتے ہوئیگورنمنٹ خیبرپختونخواہ اب گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکولز میں بورڈز میں پہلی دس پوزیشن ہولڈرز کو سکالر شپ کا اجراء کیا ہے یہ یقینا حکومت مبار باد کی مستحق ہے اور ہمیں خوشی ہے۔
سوال: گورنمنٹ سکولز کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے آپ کیا تجاویز دیں گے؟
جواب: یوں تو گورنمنٹ سکولز کو عمدہ اور احسن طریقہ سے چلانے اور رزلٹ دینے کیلئے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے اور تجاویز اتنی زیادہ ہیں کہ ہماری تجاویز سننے کیلئے بھی ہمارے افسران کے پاس وقت نہیں ہوتا عمل درآمد دور کی بات ہے مگر پھر بھی جب بھی موقع ملتا ہے ہم اپنی تجاویز متعلقہ فورم پر پہنچاتیہیں چاہے وہ زبانی ہو یا آپ جسے دوستوں بھائیوں کی مدد سے میڈیا کے ذریعے بھی بات پہنچ جاتی ہے۔
۱۔ گورنمنٹ سکولز میں چیک اینڈ بیلنس سسٹم اس وقت ناکام نظر آتا ہے۔ ایک تھوڑی سی بہتری حکومت کا مینجمنٹ کیڈر اور تدریسی کیڈر کا الگ الگ کرنے سے نظر آتی تھی اس کا بوریا بستر گول ہوتا نظر آتا ہے اس کی وجہ شاید بلکہ یقیناہمارے سیاستدانوں کو سوٹ نہیں کرتا۔ اگر کسی جگہ پر مینجمنٹ کیڈر سے کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو وہ کوئی انفرادی ہوا ہو گا جب کہ مجموعی طور پر تعلیم میں بہتری نظر آنا شروع ہوئی تھی اسے روکا جارہا ہے۔
۲۔ سکولز پرنسپلز کے اختیارات زیادہ کیے جائیں ان کواپنے ادارے میں فری ہینڈ دیا جائے پھر ان سے رزلٹ کی پوچھ گچھ بھی کی جائے۔ اساتذہ کی کمی فی الفور شفاف بھرتی سے پوری کی جائے۔
۳۔ پرائمری سے ہائر سیکنڈری سطح تک بھرتی کیلئے تعلیمی قابلیت زیادہ کی جائے ایلمنٹری سطح تک اساتذہ کو کم از کم گریڈ نمبر 16 دیا جائیاور ان کی قابلیت کم از کم بی اے/ بی ایڈ ہونی چاہیے۔ جبکہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح کے اساتذہ کی قابلیت کم از کم ایم اے/ بی ایڈ/ ایم ایڈ اور گریڈ نمبر 17 ہو۔ ماہرین مضامین کی بھرتی گریڈ نمبر 18 میں کی جائے۔
۴۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ضروری ہے لیکن چونکہ ہمارا پبلک سروس کمیشن بھرتی کے عمل میں اتنا زیادہ وقت لگاتا ہے کہ ہمارے سیاستدان گریڈ نمبر 17 تک کی تقرری بغیر ٹیسٹ انٹرویو صرف online چھ ماہ کیلئے کرتے ہیں پھر انہیں دو، تین سال تک لٹکا کر اپنی سیاسی پوزیشن بنانے کیلئے مستقل کر دیتے ہیں حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پبلک سروس کمیشن کی طرز پر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے جو صرف ایجوکیشن میں شفاف بھرتی کا ذمہ دار ہو۔
۵۔ اس وقت ماڈرن ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا گلوبل ویلج تو بن گئی مگر ہمارے ایجوکیشن سسٹم میں اس ٹیکنالوجی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
ہم نے ای ڈی رفیق خان خٹک، ڈائریکٹریس میڈم ثروت جہاں سیکرٹری تعلیم عارفین خان اور وزیر تعلیم برائے ہائرایجوکیشن کو متعدد بار یہ تجویز دی کہ تمام ہائی سکولز کو ایک عد کمپیوٹر اور ایک عدد فون سیٹ مہیا کر کے سربراہ ادارہ کو پابند کر دیا جئے کہ وہاپنی website کھول کر online contact میں رہیں۔ اسی طرح آپ صوبے میں کسی جگہ بھی بیٹھے بیٹھے نہ صرف ادارے کی تعلیمی حالت کو دیکھ سکیں گ ے بلکہ بر وقت اقدامات سے تعلیمی حالت بہتر بنا سکیں گے۔
۶۔ آپ یقین کریں اس کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو سکولز کی سطح تک online کرنے سے وہ کھربوں روپے بھی آپ بچا سکتے ہیں جو محکمہ تعلیم کے مختلف آفیسرزTA/DA کی مد میں لوٹ لیتے ہیں آپ اپنے آفس میں بیٹھے بغیر پٹرول خرچ کیے دور دراز علاقوں کے سکولز کی کاکرردگی اور وزٹ صرف تین روپے کی کال نیٹ پر خرچ کر کے کر سکتے ہیں اور فوری اپنے احکامات پر عمل درآمد کروا سکتے ہیں ضرورت صرف کمٹمنٹ ایمانداری اور خلوص نیت کی ہے۔
۷۔ ایلیمنٹری سطح پر ہی اگر ہر سکول میں ممکن نہیں تو 4-5 سکولز کے گروپ بنا کر ایک گروپ کیلئے ایک ماہر نفسیات کا تقرر کیا جائے۔ جو بچے کی ذہنی استعداد قابلیت اور رحجان کو دیکھ کر ایلیمٹری سطح پر ہی اس کیلئے پیشہ کا چناؤ کرے اس سے طلباء اور والدینک و بھاری بستیوں اور اخراجات سے بھی نجات ملے گی اور ملکی ضروریات کے مطابق ہمارے پاس پروفیشنلز پیدا کیے جا سکیں گے۔ محکمہ تعلیم میں مختلف قسم کے ریفرشر کورسز ہکونے چاہئیں مگر ایک بات کا لازمی خیال رکھا جائے کہ متعلقہ مضامین کے لوگ ہی متعلقہ مضمون میں ٹریننگ حاصل کریں۔ صرف پیسے کا ضیاع نہ کیا جائے اور پھر ٹریننگ حاصل کرنے والوں سے output کا بھی پوچھا جائے۔ اس سلسلے میں بھی ہم نے ضلع ہریپور کی سطح تک DEO ہریپور اور EDO کواپنے فورمز سے تجاویز دیتے رہے اور کسی حد تک ہمارے دورمیں اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔
ہم نے اپنا تعلیمی کردار اوپن یونیورسٹی میں بھی ادا کیا اور ماہرین مضامین کی خدمات تجاویز ریجنل آفس میں وقتاً وفتاً دیں۔ اوپن یونیورسٹی پورے ملک میں تعلیمی استعداد بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے اس لیے اس میں بہتری کی گنجائش بھی اتنی ہی زیادہ ہے اس سلسلے میں ڈائریکٹر سجاد جیلانی اور میڈم نفیسہ گیلانی کو بھی تجاویز دیں۔ زنانہ کوارڈی نیٹر کی تعیناتی بھی انتہائی ضروری ہے مگر بد قسمتی سے یونیورسٹی اس پر عم درآمد نہیں کر رہی جس سے زیادہ ٹیوٹرز اور طالبات کو بعض دفعہ مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ البتہ دونوں سجاد جیلانی اور میڈم نفیسہ گیلانی نے متعدد بار بہتری کے اقدامات خوداٹھائے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی باور کرایا۔ مگر جتنی زیادہ طلباء کی تعداد ہے اتنے مسائل بھی زیادہ ہیں جن پر ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔
سوال: ضلع ہریپور میں سیکنڈری سکولز کی تعلیمی حالت اور کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
جواب: میں نے شروع میں آپ کو بتایا کہ الحمد اللہ ہم جن حالات میں جن سہولتوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں یقینا بہت اچھی کارکرگی لیکن دوسری طرف ہماری ٹیم نے جس محنت او رلگن سے خصوصی طور پر قاضی محمد اسد صاحب کو ضلع بھر میں مختلف سکولز کی اپ گریڈیشن کے پلان، فزیبلٹی رپورٹس بنا کر دیں یقین کریں اگر وہ بحیثیت وزیر تعلیم اور ہریپور کے لوگوں کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کرتے تو اس وقت ضلع ہریپور میں کم از کم بیس ہائر سیکنڈری مردانہ اور دس سے پندرہ زنانہ ہائر سیکنڈری سکول بن چکے ہوتے۔ تین سال پہلے ہم نے انہیں سرائے صالح کے مردانہ اور زنانہ، نمبر دو سکول ہریپور سرائے نعمت خان، کھلابٹ ٹاؤن شپ، غازی، گرلز پائلٹ سکول ہریپور، سنٹرل جیل ہائی سکول کی فزیبلٹی رپورٹس اور بہت زیادہ میٹرک پاس طلباء کی دستاویزی ثبوت دیئے تھے ہر سال اس سال کی طرح چار سکول اپ گریڈ ہوتے تو یقینا جو سٹپ حکومت نے اب اٹھایا ہے کہ ہر سال ہائی سکولز کی کچھ خاص تعداد اپ گریڈ کر کے تعلیمی مدارج کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے کا آغاز تین سال پہلے ہو جاتا۔ قاضی محمد اسد صاحب شریف النفس آدمی ہیں انہوں نے کالجز کی حد تک تو بہت کام کیے پھر خود بھی پڑھے لکھے اور تعلیمی اہمیت کو سمجھنے والی شخصیت ہیں اور ہر جگہ خطاب میں بجٹ کا چار فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کا عوام کے ذریعے حکومت کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں اگر وہ اس پر کابینہ میں بھرپور آواز اٹھائیں تو زیادہ بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ میں آپ کے سوال سے ہٹ کر بھی ایک بات کی نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ ہمارے تمام سکولز میں ایک بہت بڑا مسئلہ ان خواتین اساتذہ سے پیش آتا ہے جن کے شیر خوار بچے ہوتے ہیں جنکی وجہ سیخواتین نہ صرف خود ذہنی پریشانی کا شکار رہتی ہیں بلکہ طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ ہر زنانہ سکول میں نرسری روم کی اشد ضرورت ہے آپ یقین کریں اس مد میں بہت معمولی رقم خرچ کر کے اساتذہ کی ذہنی پریشانی دور کر کے طالبات کیلئے معیار تعلیم کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ صرف ایک آسامی کلاس فور زنانہ (آیا) ہر زنانہ سکول میں دے کر اور صرف ایک کمرہدے کر ہزاروں خواتین اساتذہ کا مسئلہ حل کر کے تعلیمی بہتری کی طرف قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے قاضی اسد صاحب سے متعدد بار گزارش کی تو انہوں نے محکمہ یعنی ہائرایجوکیشن میں تو اسے نافذ کر دیا مگر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری حصے میں نافذ نہ ہونے کے برابر ہے ورنہ ہم نے بارہا ان کو یہ بھی بتایا کہ ان کے حلقہ انتخاب PF-50 میں ایک بھی گرلز ہائر سیکنڈری سکول نہیں ہے۔ اور نہ صرف ایک مردانہ ہائر سیکنڈری سکول ہے۔
سوال: آخر میں کیا وجہ ہے کہ اپ گریڈیشن کے مسئلہ پر آپ اگست 2008ء سے آواز اٹھارہے ہیں تو کامیابی کیوں نہیں ہوئی؟
جواب: اصل میں ہم نے اپنی آواز ہر متعلقہ فورم پر اٹھائی اس سلسلے میں ڈائریکٹریٹ کی سطح تک پورے صوبے کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر اپ گریڈیشن آف پوسٹ پر تخمینہ بھی لگایا گیا تھا آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ2008-09 میں یہ تخمینہ صرف 37 کروڑ کی قلیل رقم تھی جو کہ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ یا سدر کے کچن کے خرچ سے بھی کم ہے مگر شاید بیورو کریسی اور سیاستدان اساتذہ کو زبانہ جمع تفریق میں عزت اور پیسہ دینے کی بات کرتے ہیں جیسا میں نے پہلے گن گن کر آپ کو بتایا کہ اعلان ہوا سلام ٹیچر ڈے پر اپ گریڈیشن بھی نہ ملی توٹیچرز کو ہی نہ ملی باقی سب نے ان کے نام پر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے۔
سوال: آخری سوال کہ آپ نے اتنی کوششیں تعلیمی بہتری کیلئے کی ہیں تو پھر آپ کو یعنی گروپ کو حالیہ الیکشن میں ایک ہی ووٹ سے شکست ہوئی مگر کیوں؟ شاید یہ آپ سے چبھتا ہوا سوال ہے؟
جواب: (ہنستے ہوئے) یقینا آپ کو یہ سوال کرنا بھی چاہیے۔ آپ دیکھ لیں ہم بحیثیت قوم بھی تو ایسے فیصلے کرتے ہیں جس سے ہر دفعہ ہم پر وہی سیاسی چہرے مسلط ہو جاتے ہیں جو عوامکو بے وقف بناتے ہیں۔ یہی حال ہمارا بھی ہو سکتا ہے ہم بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہیں۔ پھر میں اپنی کئی ایک نادانستہ طور پرغلطیوں کا بھی اعتراف کروں گا۔ شاید ہم نے ہزارہ ڈویژن کے الیکشن میں بر وقت فصلہ نہ کر کے غلطی کی اس میں ابھی بھی اخلاقی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اصولی فیصلہ کیا تھا مگر دوستوں کے کہنے پر آخری وقت میں الیکشن میں ایک ام یدوار کی حمایت کی جو صرف تین ووٹ سے رہ گیا مگر وہاں بھی ایبٹ آباد میں کچھ ہمارے ووٹرز کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہریپور میں بھی ہمارے ذاتی دوستوں نے بھرپور دلچسپی نہ لی جس کے اثرات ہمارے ضلعی الیکشن پر بھی پڑے اور ہمارا گروپ بظاہر ایک ووٹ سے رہ گیا مگر آپ کے علم
میں ہے کہ دو مسترد شدہ ووٹ کا فیصلہ ہونا تھا جو اصولی طور پر ہمارے تھے مگر ایس ایس برادری میں یک جہتی کیلئے ہم نے جرگے کی بات کو تسلیم کر اپنے خالف گروپ کی فتح کو تسلیم کر لیا یا انہیں دو سال کام اور ذمہ داریاں سونپ دیں ہیں اگر وہ کوئی ایس ایس کمیونٹی کیلئے مثبت قدم اٹھائیں گے تو ہم ساتھ ہیں ورنہ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی پھر آپ کو پتہ ہو گا ہم اپنے کیڈر کے علاوہ کسی دوسری کمیونٹی کو اپنے الیکشن میں مداخلت کو پسند نہیں کرتے جبکہ دوسری طرف سے کھلم کھلا بہت سے پرائیویٹ جن کا تعلیم سے سروکار ہی نہیں وہ بھی کود پڑے اس بات کو ہم اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔
آخر میں اب میں اپنے تمام احباب خصوصاً کابینہ میں شامل ایس ایس صاحبان پھر خاص کر خواتین ایس ایس کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے ہم پر بھرپور اعتماد کیا اور اس دفعہ بھی حقیقی جیت ہماری ہی تھی جو کہ پوری کمیونٹی کی جیت ہے۔
میں یہاں اگر خصوصی طور پر میڈیا کے کچھ حضرات خصوصاً محمد مشرف ہزاروی، یاسر ریاض ضیاء، اور علی کا شکریہ ادا نہ کروں تو انتہائی زیادتی کا مرتکب و گا کیونکہ ان کے بغیر ہم اپنی آواز اپنے حقوق کی بات، تعلیمی بہتری کیلئے تجاویز کسی صورت بہتر انداز میں متعلقہ فورم پر نہیں پہنچا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صحافت میں انہوں نے ہریپور میں جو کردار ابھی تک ادا کیا ہے وہ سب کیلئے باعث فخر ہے بے لوث تعلیمی مسائل کو اجاگر کر کے جو خدمت سرانجام دے رہے ہیں وہ یقینا باعث فخر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں