18

روشنیوں کا شاعر سعد اللہ سورج ؔ

انٹرویو،عمر علی دائم ،
سورج کی پہلی کرن کے خالق خوبصوت لب و لہجے کے نوجوان شاعر سعد اللہ سورج سے خصوصی نشست کا احوال

دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور چھا جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر اپنی خاص نظرِ کرم کرتا ہے۔ وہ جو چاہتے ہیں انہیں مل جاتا ہے۔ سعد اللہ سورج بھی انہی خوش نصیب لوگوں میں سے ہے کہ جو آسمانِ ادب پر ایسا چمکا کہ اس کی روشنی چار سو پھیل گئی اور اس کی تابانی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور سعد اللہ سورج ؔ لفظوں کے ایسے گل کھلاتا جا رہا ہے کہ جس کی خوشبو سے ہمارا ادب معطر ہو رہا ہے۔ سورج بنا رکے کامیابیوں کی طرف گامزن ہے۔ اور خاص کر نوجوان شعراء میں اس نے اپنی ایک الگ پہچان بنا لی ہے۔ اس کا اندا زانتہائی دلکش اور اس پہ اس کی پر وجاہت شخصیت اس کے کلام کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ میری دعا ہے کہ سورج گلستانِ ادب میں اسی طرح لفظوں کے خوبصورت پھول کھلاتا رہے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے مزید کامیابیاں اور کامرانیاں عطا کرے۔ آمین
گزشتہ روز سعد اللہ سورج سے لوح و قلم انٹرنیشنل کی خصوصی نشست ہوئی جو نذرِ قارئین ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کی پیدائش؟
سورج: 29 اگست 1986ء راولپنڈی
لوح و قلم انٹرنیشنل:تعلیمی قابلیت؟
سورج: ایبٹ لاء کالج سے 2009ء میں ایل ایل بی کیا اور ایم اے انگلش جاری ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:پیشہ؟
سورج: وکالت
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
سورج: شاعری کا آغاز فرسٹ ایئر سے کیا۔ اور سب سے پہلے غزل میں طبع آزمائی کی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کن کن اصناف سخن میں طبع آزمائی کی؟
سورج: غزل، نظم، قطعہ، حمد، نعت اور گیت
لوح و قلم انٹرنیشنل:کن کن زبانوں میں شاعری کی؟
سورج: فی الحال صرف اردو میں شاعری کرتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر آیا؟
سورج: ستمبر 2008ء میں پہلا شعری مجموعہ ”سورج کی پہلی کرن“ منطر عام پہ آیا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کس سے متاثر ہو کر کیا؟
سورج: والد محترم کو مطالعے کا شوق تھا جس کی وجہ سے مختلف کتابیں زیر مطالعہ رہتیں لیکن غالب سے متاثر ہو کر شاعری کا آغاز کیا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کے پسندیدہ شعراء کون کون سے ہیں؟
سورج: کافی مشکل سوال ہے، اساتذہ میں غالب سے بہت زیادہ متاثر ہوں اس کے علاوہ عدم،جگرمراد آبادی اور امیر خسرو ؒ میرے پسندیدہ شعراء میں سے ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:پسندیدہ صنف سخن؟
سورج: ویسے تو نظم اور گیت وغیرہ بھی لکھتا ہوں لیکن غزل کی اپنی ایک دلکشی ہے اور مجھے تمام اصناف میں سے غزل کہنے میں زیادہ لطف آتا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی پسندیدہ شعر سنائیں۔
سورج: غالب کا ایک شعر مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیسا لباس پسند کرتے ہیں؟
سورج: لباس میں شلوار قمیص، واسکٹ اور بلیک سوٹ پہننا پسند کرتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے؟
سورج: کھانے میں بریانی زیادہ پسند ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کا آئیڈیل کون ہے؟
سورج: ہر شعبے میں اپنا ایک آئیڈیل رکھتا ہوں۔ لیکن مولانا ابو الکلام آزاد میرے آئیڈیل ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
سورج: ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“
لوح و قلم انٹرنیشنل:موجودہ دور کے ادب کا معیار کیا ہے؟
سورج: میرے خیال میں موجودہ ادب میں وہ تاثیر نہیں پائی جاتی جو کلاسیکی ادب کا خاصہ ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:ہزارہ کے ادب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
سورج: ہزارہ میں کافی اچھا ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ او ریہاں ادبی محافل کا انعقاد بھرپور انداز سے ہو رہا ہے۔ یہاں اچھے اچھے شعراء موجود ہیں جو کسی طور پر بھی ملک کے دوسرے علاقوں کے شعراء سے کم نہیں لیکن ان کی اس طرح پذیرائی نہیں ہو رہی جس کے وہ حق دار ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:قدیم اور جدید ادب میں کیا فرق ہے؟
سورج: قدیم ادب کی بہت اہمیت ہے۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ موجودہ ادب میں وہ تاثیر نہیں پائی جاتی جو کلاسیکی ادب کا خاصہ ہے۔جو ہمادے قدیم شعراء تھے وہ سر تا پا شاعری میں ڈوبے تھے۔ ان کا اوڑھنا بچھونا شاعری تھی اس لیے ان کے کلام میں وہ درد اور تاثیر ہے جو آج کی شاعری میں کم ہی پائی جاتی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیا موجودہ ادب اپنے دور کی عکاسی کرتا ہے؟
سورج: ہر دور کا ادب اپنے عہد کا آئینہ ہوتا ہے۔ موجودہ ادب بھی میرے خیال میں اپنے عہد کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ دور کے جدید کے جو مسائل ہیں اور جواس میں پیچیدگیاں ہیں وہ آج کے ادب میں بھی نظر آتی ہیں۔ جس کی مثال آج کا افسانہ ہے جو زیادہ تر انسان کے نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کیا شاعری کیلئے علم ِعروض کا سیکھنا ضروری ہے؟
سورج: بہت اچھا سوال کیا ہے آپ نے شاعری اور نثر میں جو بنیادی فرق ہے وہ علمِ عروض ہی ہے۔کیوں کہ نثر میں بھی لکھاری اپنے انہی جذبات کا اظہار کر سکتا ہے جو شاعری میں بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن شاعری کو نثر سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ اس کی روانی اور موسیقیت،جو کہ علم ِ عروض کے بغیر ممکن نہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کیا آپ نے علمِ عروض سیکھا؟
سورج:علمِ عروض ایک بہت گہرا علم ہے۔ میں نے علمِ عروض سیکھا اور کوشش کرتا ہوں کہ میں اپنے ہر شعر کو عروض کی غلطیوں سے بچا سکوں۔ اس سلسلے میں بزمِ اہل سخن نواں شہر کے اساتذہ اور دوستوں نے مفید مشورے دیئے۔ اور علمِ عروض سیکھنے میں بہت مدد کی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کچھ شعراء کا خیال ہے کہ شاعری کیلئے علمِ عروض کا سیکھنا ضروری نہیں آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
سورج: میرے خیال میں یہ غلط سوچ ہے کیونکہ شاعری ایک فن ہے اور علمِ عروض اس فن کی بنیادوں میں شامل ہے۔ نہ جانے یہ ان احباب کی سہل پسندی ہے یا وہ سیکھنا نہیں چاہتے۔ اور بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ علمِ عروض شاعری کیلئے ضروری نہیں۔ ہم اگر اردو ادب کا مطالعہ کریں تو جتنے بڑے شعراء ہیں انہوں نے عروض کو خاص اہمیت دی چاہے وہ دنیا کی کسی زبان میں شاعری ہو عروض کو بہت خاص اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ اسی وجہ سے شاعری میں روانی اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔ جو شاعری کو نثر سے ممتاز کرتی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: شاعری میں الہام کے قائل ہیں یا توارد کے؟
سورج: شاعری نام ہی الہام کا ہے۔ جب شاعر جذبات کی رو میں بہتا ہے تو اک روانی کے ساتھ شعر کہتا ہے جس میں سادگی ہوتی ہے اور تاثیر ہوتی ہے اور توارد میں کہا گیا شعر نہ تو جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور نہ اس میں شاعر کا دل او رروح شامل ہوتی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:نوجوان شعراء کے نام کوئی پیغام؟
سورج: نوجوان شعراء کو اساتذہ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اور دیگر زبانوں کے ادب کا مطالعہ بھی لازمی ہے خاص طور پر فارسی ادب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اور عروض کے معاملے میں اساتذہ کی رہنمائی اور اصلاح بہت اہم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں