16

محکمہ تعلیم میں فرض شناس لوگوں کی کمی نہیں ،مشتاق احمد خان

انٹرویو: مشتاق احمد آزاد

میرے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ ہزارہ ڈویژن خواندگی کے لحاظ سے پاکستان میں سب سے آگے ہے
ترقی کے لیے محنت ضروری ہے، سیکرٹری تعلیم خیبر پختونخوامشتاق احمد خان کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے خصوصی گفتگو

DOخان محمد نے تعلیم کی بہت خدمت کی ہے ایسے لوگ تعلیمی حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، بٹگرام کے EDO سعید خان
کافروغ تعلیم کے لیے مثالی کردار ہے
کچھ لوگ خدمت کیلئے پیدا ہوتے ہیں، قوم کا درد انہیں ہر وقت لگا رہتا ہے ان کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ قوم و ملک کو کیسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتاہے۔انہی باکردار لوگوں میں سے ہزارہ کے قابل فخر سپوت مشتاق احمد خان جدون بھی ہیں جو اس وقت سیکریٹری تعلیم خیبر پختونخوا کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے والے ہزارہ کے اس قابل فخر فرزندسے گزشتہ دنوں لوح وقلم انٹرنیشنل کی خصوصی ملاقات ہوئی جس کااحوال قارئین کی نظر کیا جاتاہے۔
سیکرٹری تعلیم خیبر پختونخوا مشتا ق احمد خان نے لوح وقلم انٹرنیشنل سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شعبہ تعلیم کو اختیار کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں پر عوام کی خدمت دیگر اداروں کی نسبت زیادہ بھر پور طریقے سے کی جاسکتی ہے اورتعلیم کا شعبہ تو ایسا ہے کہ اس پر قوموں کی تعمیر وترقی کا انحصار ہوتاہے۔جاپان، سنگاپور، ملائیشیاء یا دیگر ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ پر نظر ڈالیں توآپ کو ان کی ترقی کے پیچھے تعلیمی معیار نظر آئے گا جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اس طرف توجہ ذرا کم ہے۔اس شعبہ میں اگر بھرپور طریقے سے کام کیا جائے تو اس کے بڑے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔اسی سوچ کو لے کر اپنی تمام تر صلاحیتیں وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے نام کر رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج میں اللہ کے خاص فضل اور ماں باپ کی دعاؤں اور بھر پور محنت کے نتیجے کی وجہ سے سیکریٹری تعلیم ہوں تاہم میری کامیابی کا راز یہ ہے کہ میں نے آج کا کام کل پر کبھی نہیں چھوڑا،مسلسل محنت اور جدوجہد کے بعد میں آج اس پوسٹ پر ہوں۔انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے محنت ضروری ہے۔جو لوگ محنت سے جی چراتے ہیں وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہزارہ بڑا ذرخیز علاقہ ہے۔ یہاں ملک کی نامی گرامی شخصیات نے جنم لیاجن میں مولانا غلام غوث ہزاروی کسی تعارف کے محتاج نہیں انہوں نے کہا کہ عہدے کرسیاں وقتی چیزیں ہیں اس کی جانب ہم نے کبھی توجہ نہیں دی، میں عام لوگوں میں سے ہوں عام لوگوں ہی میں سے نکل کر اللہ کے فضل و کرم سے آج اس مقام پر ہوں، نظام تعلیم کی بہتری کیلئے اپنی جانب سے بھرپور کوششیں کررہے ہیں، کامیابی یا ناکامی اللہ کے اختیار میں ہے۔معیار تعلیم کے لیے صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک کی کاوشیں قابل تعریف ہیں انہوں نے تعلیم کی بیشمار خامیاں دور کیں، منیجمنٹ کیڈر جیسی اصلاحات کو نظام تعلیم میں رائج کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اہداف حاصل ہو سکے یا نہیں، تاہم یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا وہ قوم کیلئے بہت مخلص ہیں، وہ نظام تعلیم کی بہتری کیلئے دن رات کام کررہے ہیں، تاہم کچھ کوتاہیاں ایسی ہیں جن کو دور کرنے کیلئے کافی وقت درکار ہے، اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے کوشش کی ہے کہ بطور سیکریٹری تعلیم کسی کی حق تلفی نہ ہو، میرے دفتر میں آنے والے95فیصد اساتذہ کرام ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی معاشرے کے قابل فخر لوگوں میں سے ہوتے ہیں، میں اپنی اس بات کا برملا اعلان کرتاہوں کہ اساتذہ میرے دست بازو ہیں ان ہی کی محنت کی وجہ سے محکمہ تعلیم بہتری کی جانب گامزن ہے۔ میرے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ ہزارہ خواندگی کے حوالے سے پاکستان بھرمیں سب سے آگے ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ایبٹ آباد کو سکولوں کا شہر کہا جاتا ہے اورمانسہرہ کو اساتذہ کرام کا شہر کہا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سروس کے دوران ایمانداری اور فرض شناسی کو اولیت دی ہے، آپ معلوم کر لیجئے نہ میرا بینک بیلنس نہ کوٹھیاں ہیں میں سادہ زندگی گزارتا ہوں۔ اساتذہ کرام سے بھی گزارش ہے کہ سادگی کو شعار بنائیں آپ معاشرے کے رول ماڈل ہیں، میراایک ہی مقصد ہے کہ معیار تعلیم عام ہو، غیر حاضری، کرپشن اور اقرباپروری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہامحکمہ تعلیم میں سیاسی مداخلت اب بہت کم ہے اورجو مداخلت ہو رہی ہے وہ ہم خود ہی کرواتے ہیں، ورنہ ہمارے سیاست دان بہت اچھے لوگ ہیں مجھے تو آج تک کسی سیاسی بندے نے پریشان نہیں کیا اور نہ ہی میرے کام میں مداخلت کی ہے، صوبے بھر میں بڑے فرض شناس لوگ محکمہ تعلیم سے وابستہ ہیں، ہزارہ کی بات کی جائے تو DOمانسہرہ خان محمد کی کارکردگی سے میں کافی مطمئن ہوں، DOخان محمد نے تعلیم کی بہت خدمت کی ہے ایسے لوگ تعلیمی حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، بٹگرام کے EDO سعید خان نے بھی محکمہ کی بہت خدمت کی ہے بہر حال میں یہ بات پھر زور دے کر کہوں گا کہ میرے تمام اساتذہ ADOs, DOs, EDOs اور دیگر لوگ میرا فخر ہیں جنہیں میں سلام پیش کرتا ہوں۔ اساتذہ سے یہ ہی گزارش ہے کہ وہ اپنی اہمیت کا احساس پیدا کریں۔اساتذہ ہی معاشرے کو بنانے اور سنوارتے ہیں، آخر میں تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتاہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں