17

سکول!فروغ صحت کے مراکز،جاوید احمد

جاوید احمد
پرنسپل: القرآن بیکن سسٹم آف سکولز اینڈ کالجز سانڈے سر
سکول تعلیم ہی نہیں صحت کے حوالے سے بھی بچوں پر اثر انداز ہونے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
صحت کے مسائل طلباء کی کارکردگی اور مستقبل پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں
ایک سروے کے مطابق49فیصد بچے خرابی صحت کی بناء پر سکول سے چھٹی کرتے ہیں۔

سکول میں فراہم کی جانے والی صحت کی تعلیم، سرگرمیاں اور خدمات صرف بچوں کی صحت ہی کو نشو ونما نہیں دیتیں بلکہ سکول کے تعلیمی مقاصد کو بھی بہترین انداز میں پورا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

بچوں اور نوجوانوں کی صحت کی تعمیر کیلئے سب سے موثر مقام کون سا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کے لیے آپ کا جواب یقینا کھیل کے مراکز،جمنازیم وغیرہ ہو گالیکن نہیں!بچوں اور نوجوانوں کی صحت کی بہترین تعمیر کیلئے سب سے موثر مقام سکول ہے۔
سکول کا شمار بچوں پر اثر انداز ہونے والے سماجی اداروں میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔سکول ایسا ادارہ ہے جہاں ۵ کروڑ کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات اور اساتذہ کی صورت میں ہمارے ملک کی ۳۲فیصد آبادی سالانہ اوسطاً تیرہ سو گھنٹے گزارتی ہے۔
سکول جس کے ذریعے بچوں ہی نہیں، اساتذہ، سٹاف اور والدین کی صورت میں آبادی کے ایک بڑے طبقے پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔ سکول کو صحت کے فروغ کے حوالے سے دیکھنا، اس کیلئے پالیسی بنانا اور لائحہ عمل ترتیب دینا صحت کے ایک بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے۔ آج صحت کے فروغ میں سکولوں کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ میں ”صحت مند لوگ 2010“ (Healthy People 2010) کے تحت بنائی جانے والی پالیسی کے467نکات میں سے10نکات سکولوں کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کی صحت پر مرکوز ہیں تو دوسری طرف انگلستان میں ”سائیکل ٹو سکول“ پراجیکٹ کے ذریعے ٹریفک کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ بچوں کی صحت کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ”سکول ہیلتھ اپروچ“ اور ”سکول ہیلتھ پروگرام“ کے تحت سکول ہیلتھ ماڈل وجود میں آچکے ہیں۔ اس کا آغاز آج سے چالیس برس قبل صحت کی عالمی تنظیم WHO کی طرف سے پرائمری کیئر پروگرام کی شروعات سے ہوا تھا۔
سکول تعلیم ہی نہیں صحت کے حوالے سے بھی بچوں پر اثر انداز ہونے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔ سکول کے دور انیے میں بچہ اس عمر تک پہنچ جاتا ہے جب اس کی شخصیت، کردار اور رویوں کی بڑی حد تک تشکیل ہو جاتی ہے۔ قابل تقلید اساتذہ، تدریسی مواد، دوست اور ہم عمر بچے کمرہ جماعت، باغیچے اور کھیل کے میدان کی صورت میں ایک بہت زبردست ماحول بچے پر مثبت طور پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اگر یہ تمام عوامل تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کے فروغ کیلئے بھی کردار ادا کر رہے ہوں توبلاشبہ قوم کی نئی نسل قابل رشک صحت کی حامل بن سکتی ہے۔ سکول میں فراہم کی جانے والی صحت کی تعلیم، سرگرمیاں اور خدمات صرف بچوں کی صحت ہی کو نشو ونما نہیں دیتیں بلکہ سکول کے تعلیمی مقاصد کو بھی بہترین انداز میں پورا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ بہت سے ٹھوس اور پکار پکار کر بولتے شواہد موجود ہیں کہ ایک طرف صحت کے مسائل طلباء کی کارکردگی اور مستقبل پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور دوسری طرف جب اور جہاں ان مسائل کے حل کیلئے کام کیا گیا تو بہت مثبت اثرات و نتائج ظاہر ہوئے۔ بچے سکول میں صحت کے بہت سے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ بعض بچے جلد تھک جاتے ہیں بعض بھوکے ہوتے ہیں یا انہیں جلد بھوک لگ جاتی ہے۔ بعض ادویات پر چلنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ کچھ کمزور صحت اور کمزور قوت ارادی کے حامل بچے عدم تحفظ کا بھی شکار ہوتے ہیں، کچھ اور بچے عزت نفس کے فقدان میں مبتلا ہوتے ہیں، بعض بچے مناسب غزائیت اور خوراک سے محروم ہوتے ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ نہ صر ف اپنی تعلیم کی صحیح تکمیل نہیں کر پاتے بلکہ ان کی جسمانی نشو ونما میں بہت سی خامیاں رہ جاتی ہیں جو عمر بھر دور نہیں ہوتیں۔ اگر سکولوں میں بچوں کے غیر حاضر ہونے کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو سب سے زیادہ بچے بیماری یا صحت کی خرابی کی وجہ سے غیر حاضر پائے جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق 49فیصد بچے خرابی صحت کی بناء پر سکول سے چھٹی کرتے ہیں۔ تھوڑی سی توجہ، کوشش اور محنت سے سکول سے غیر حاضری کے اس اہم عامل کو ختم نہیں تو کم کیا جاسکتا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں سکول ہیلتھ اپروچ کے پیش نظر سکول ہیلتھ سروسز کیلئے پالیسی سازی، ماڈل بنانا، ان کا نفاذ اور اس کیلئے اداراتی تشکیل کی روایات بہت مضبوط و مستحکم ہوچکی ہیں، پاکستان کی صحت پالیسی سکول ہیلتھ اپروچ کے تذکرے ہی نہیں تصور تک سے نا آشنا ہے۔ اس لئے عام سرکاری سکولوں میں تو سکول ہیلتھ پروگرام کا تذکرہ ہی بے جا ہے پرائیوٹ سکولوں میں بھی تقریباً ایسا ہی حال ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے چند اداروں میں سکول ہیلتھ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے اگر چہ یہ ادارے بالعموم سکول ہیلتھ کے کسی ایک آدھ جز پر ہی کام کر رہے ہیں۔ این سی ایچ ڈی (National Commission on Human Development)کے تحت پنجاب میں قائم سکولوں میں سکول ہیلتھ سکریننگ ہورہی ہے جو اس پروگرام کے تحت صحت کی خدمات کی ذیل میں آتا ہے۔ جبکہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے سکولوں میں صحت کی تعلیم دی جا رہی ہے جو صحت کی تعلیم کے زمرے میں آتا ہے۔ تعمیر ملت فاؤنڈیشن پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے جس کے زیر انتظام چند تعلیمی اداروں میں جامع ترین کوآرڈینیٹڈ سکول ہیلتھ ماڈل نافذ کیا گیا ہے۔ یہ ہیلتھ ماڈل نواجزاء پر مشتمل ہے۔ جن میں: (۱)صحت کی تعلیم (۲) صحت کی سہولیات(۳) ماحولیاتی صحت(۴) غذا ئی خدمات(۵) جسمانی تعلیم(۶)عملے کی صحت (۷) کونسلنگ اورنفسیاتی خدمات(۸)والدین اورکمیونٹی کی شراکت (۹)متعلقہ اہم افراد کی شمولیت، شامل ہیں۔ کوآرڈینیٹڈ سکول ہیلتھ ماڈل بچوں کو پوری زندگی کی صحت کیلئے تیار کیاکرتا ہے۔ اس میں بچے جانتے، سیکھتے اور مہارت حاصل کر تے ہیں کہ کس طرح ساری زندگی جسمانی سرگرمیوں، معاشرتی اور نفسیاتی توازن، صحت مند طرز زندگی، متوازن خوراک اور نشے سے آزاد زندگی کے ساتھ بہترین صحت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں