17

میرے والد کو پکھل کا سرسید احمد خان کہا جاتاہے ،سجاد اختر

تحریر، مشتاق احمدآزاد
علاقہ سے ناخواندگی کا خاتمہ میرا مشن ہے
میرے والد کو پکھل کا سرسید احمد خان کہا جاتاہے
مسلم پبلک سکول خواجگان کے سرپرست اعلیٰ سجاد اختر کی باتیں
پکھل کا علاقہ بڑا ذرخیز ہے چاہے وہ زراعت کے حوالے سے ہو یا تعلیم کے حوالے سے، اس علاقہ میں خواجگان بھی واقع ہے، جہاں ویسے تو کافی تعلیمی ادارے ہیں تاہم مسلم پبلک ہائی سکول کی اپنی تاریخی حیثیت ہے۔ اس ادارے کی بنیاد اسماعیل خان نے 80کی دہائی میں رکھی تھی۔اسماعیل خان کو پکھل کا سرسید احمد خان کہا جاتا ہے۔۔مسلم پبلک ہائی سکول کی تعلیمی خدمات سے انکار ممکن نہیں، اس ادارے کے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ وطالبات آج ملک وبیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ جو ملک و قوم کیلئے فخر کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ مسلم پبلک ہائی سکول خواجگان کی تعلیمی خدمات کو دیکھتے ہوئینمائندہ لوح وقلم انٹرنیشنل نے مسلم پبلک ہائی سکول خواجگان کے سرپرست اعلیٰ سجاد اختر سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ جو قارئین کی نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اس ادارے کا آغاز صرف اس نیت سے کیا تھا کہ علاقہ بھر سے ناخواندگی کی شرح کم ہو۔ ہمارے علاقہ کے بچے بھی زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر ملکی تعمیر وترقی میں کلیدی کردار ادا کریں۔ اس ادارے کا قیام 80ء میں عمل میں لایا گیا، میرے والد محترم محمد اسماعیل خان جنہیں پکھل کا سرسید احمد خان کہا جاتا ہے، انہوں نے اس ادارے پر بہت محنت کی آج ان ہی کی محنت سے یہ ادارہ اس مقام پر ہے۔ہم نے مڈل سیکشن کا آغاز 92 میں جبکہ 96 میں ہائی سیکشن کا اجراء کیا۔ نئے سال 2012 سے ہم نے کالج سیکشن کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم سکول کی طرح کالج میں بھی علاقہ کے عوام کی توقعات پر پور اتر یں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ایڈمنسٹریٹر ختم النساء ہیں جنہیں علاقہ بھر میں ایک قابل عزت تعلیمی شخصیت سے جانا جاتاہے۔ انہوں نے ایم اے اور بی ایڈ کے امتحانات اعلیٰ نمبروں سے پاس کئے۔ ادارے کی پرنسپل سعدیہ سلیم جوکہ ایم ایس سی اور بی ایڈ ہیں۔ میٹرک امتحانات میں ہمارے ادارے کے بچوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی جن میں شگفتہ ناز، سلمیٰ بی بی، انسلہ ممتاز مبارک احمد، شیراز احمد، مبشر ممتاز، بلال احمد شہزاد، اختر محمد، ضیاء مشتاق، اول خان، عمیر ہ شاہ، محمد طیب، جان اعظم، محمد عارف، اور عمران خان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا علاقہ پسماندہ ہے تاہم ہم نے اپنے ادارہ میں اسلام آباد شہر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی طر ز پر سہولیات کو یقینی بنایا اورسکول کو واقعی تعلیمی ماحول سے آراستہ کیا،جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سکول میں صفائی اور نظم و ضبط پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے کلاسز کو مکمل تعلمی ماحول سے آراستہ کیا ہے بچوں کی ذہنی تربیت پر بھر پور طور پر توجہ دیتے ہیں۔ہم یہ بات دعویٰ سے کہ سکتے ہیں کہ ہم اس بچے کو بھی دیگر قابل بچوں کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں جنہیں دیگر ادارے چھوڑ دیتے ہیں یا وہ بچے جو کند ذہن ہیں۔سکول کی اپنی مکمل سائنس لیبارٹری ہے جہاں بچوں کو جدید تحقیقات سے روشناس کرایا جاتا ہے ان کو پریکٹیکل کے ذریعے یہ باتیں سکھائی جاتی ہیں کہ ان سے آپ عملی طور پر کیا فائدہ حاصل سکتے ہیں ادارے کا وسیع اور علاقے کا سب سے بڑا کمپیوٹر لیب ہے یہاں بچوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانے کیلئے تربیت دی جاتی ہے کمپیوٹر کی تعلیم میں ہم بچوں کو ہر بات باور کرواتے ہیں کہ آج کے دور میں کمپیوٹر کی کیا اہمیت ہے اور اس سے عملی زندگی میں اس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور تعلیم سے معاشرے کی ترقی میں کس طرح کردار ادا کیا جا سکتاہے سکول کی مکمل لائبریری ہے جہاں پر ہر موضوع کی کتب رسائل اور اخبارات موجودہیں جس سے بچوں کو اپنے علم میں اضافہ کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔بچوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم پبلک سکول ہائی خواجگان میں ایک احسن شخصیت کی تعمیر پر توجہ دی جاتی ہے مقصد صرف سرٹیفکیٹ / سند کا حصول نہیں ہے بلکہ ایک ایسا انسان تیار کرنا ہے جو عملی زندگی میں قوم اور ملک اور معاشرے کیلئے مفید ہو، اس لئے علاقہ بھر کے بچے اپنے تعلمی ادارے میں داخلہ کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہماری بھرپور محنت اور توجہ اسی پر ہے کہ نونہالان پاکستان کو مفید شہری کیسے بنایا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں