18

میں تخیلاتی شاعری نہیں کرتا،قاری محمد جاوید

شاعری سے معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتاہے
میں تخیلاتی شاعری نہیں کرتا،میرے پیش نظر دین ہے۔ شاعری کو عباد ت سمجھ کر کر رہا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری شاعری کا الہامی دورہے۔میں خود نہیں لکھ رہا بلکہ مجھ سے لکھوایا جا رہا ہے۔
میرا مقصد اور میری منزل خلافت ہے،ہزارہ ڈویژن کے معروف شاعر و کالم نگار قاری محمد جاوید کی دلچسپ باتیں

مانسہرہ کے نواحی علاقہ مراد پور سے تعلق رکھنے والے قاری محمد جاوید صاحب ہزارہ ڈویژن کی معروف علمی و ادبی شخصیت ہیں۔علمی حلقوں میں ان کا بڑا نام ہے۔بنیادی طور پر وہ مدرس ہیں جبکہ شاعری ان کا شوق ہے۔انہوں نے شاعری کوایک نیا رخ دے کر آنے والوں کے لیے مثال قائم کر دی ہے۔ان کی شاعری سن کر ایسے لگتاہے جیسے موتی بکھر رہے ہوں۔گزشتہ دنوں لوح وقلم انٹرنیشنل کی ٹیم نے ان کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ان سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کب اور کس سے متاثر ہو کر کیا؟
قاری محمد جاوید:شاعری کا آغاز کالج دو ر میں باقاعدہ شاعری کے اوزان،کافیہ اور علم العروض وغیر ہ سیکھ کر کیا۔ تقریبا 5سال تک میں نے مختلف اساتذہ سے شرف تلامذ حاصل کیا۔پروفیسر ماجد صدیقی،فوق لدھیانوی میرے اساتذہ میں سے ہیں۔ماجد صدیقی صاحب سے میں اصلاح لیتاتھا اور انہی سے میں نے عروض کا علم سیکھا جبکہ فوق لدھیانوی صاحب سے وزن،کافیہ اور ردیف وغیر ہ کا فن سیکھا۔شاعری کسی سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ اپنے شوق کی بنا پر شروع کی۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:آپ کی شاعری میں مذہبیت اور اصلاح کا پہلو غالب نظرآتا ہے،کیا آپ شروع سے ہی ایسا لکھتے رہے ہیں؟
قاری محمد جاوید:نہیں جی،کالج کے زمانے میں میں غزلیں لکھا کرتا تھا،میری شاعری میں مجازی رنگ غالب تھا۔اس دور کا ایک شعر آپ کے گوش گزار کرتاہوں
کنج تنہائی ہو چاندنی رات ہو
ایسے عالم میں تجھ سے ملاقات ہو
لیکن اب مجھے وہ شاعری غیر پارلیمانی لگتی ہے۔20سال تک میں نے شاعری کو لغو کام سمجھ کر چھوڑے رکھا۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:اتنا عرصہ شاعری چھوڑے رہنے کی کیا وجہ تھی اور اب اچانک شروع کرنے کا خیال کیسے آیا؟
قاری محمد جاوید:اس کی وجہ یہ تھی کہ مطالعہ نہیں تھا،ذخیرہ الفاظ نہیں تھا اور ذہنی مشقت زیادہ تھی۔اب جب کہ میں ولی دکنی،فراز،غالب سمیت تقریبا ً سارا ادب پڑھ چکا ہوں تو اس کی افادیت سمجھ میں آئی اور دوبارہ شاعری شروع کی اور اصلاحی پہلو پر کام کا آغاز کیا۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:آپ کس کو شوق سے پڑھتے ہیں؟
قاری محمد جاوید:فارسی شعراء کو شوق سے پڑھتا ہوں خصوصا ًمولانا روم اور سعدی میرے پسندیدہ شعراء ہیں۔فارسی میں شاعری کا اپنا ہی لطف ہے۔یہ بڑی میٹھی زبا ن ہے میں فارسی میں لکھ بھی سکتا ہوں لیکن آج کل فارسی سمجھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:کن کن اصناف سخن میں طبع آزمائی کی؟
قاری محمد جاوید:تمام اصناف میں طبع آزمائی کر چکا ہوں تاہم نظم،مثنوی میر ا محبوب میدان ہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:اب تک آپ کا کوئی مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے؟
قاری محمد جاوید:سبیل الرشاد کے نام سے میر ی نظموں کا مجموعہ تیار ہے جو عنقریب منظر عام پر آجائے گا۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:آپ کن موضوعات پر زیادہ لکھتے ہیں؟
قاری محمد جاوید:دجالیت کو موضوع سخن بنایا ہوا ہے۔دجالیت کا فتنہ عروج پرہے اس سے عوام کا آگاہ کر رہا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ میری شاعری کا الہامی دورہے۔میں خود نہیں لکھ رہا بلکہ مجھ سے لکھوایا جا رہا ہے۔خلافت کی تاریخ شاعری میں رقم کر چکا ہوں اور شاعری کو عباد ت سمجھ کر کر رہا ہوں۔میں تخیلاتی شاعری نہیں کرتا،میرے پیش نظر دین ہے۔میرا مقصد اور میری منزل خلافت ہے۔میری کتاب میری زندگی کا خلاصہ ہے۔
لوح وقلم انٹرنیشنل:نوآموز اور نوجوان شعراء کے لیے کیا پیغام دیں گے؟
قاری محمد جاوید:نوآموز لکھنے والوں کو یہی پیغام دوں گا کہ شاعری کو غیر ضروری نہ سمجھیں۔اس سے معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتاہے۔شعر اپنے اندر بڑی جان اور اثر رکھتے ہیں دنیا میں متعدد انقلاب شاعری کی بدولت رونماہوئے ہیں۔نئے لکھنے والے اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کی شاعری کاموضوع سادہ ہو۔حقیقت سے ہٹ کر نہ ہو۔لکھنے کے لیے سکون اور تنہائی ضروری ہے۔جب تک سکون اور تنہائی میسر نہ ہو گی لکھنا مشکل ہوتاہے
شعر تر کود پڑتا نہیں دفعتاً
اس حقیقت سے واقف ہیں بس اہلِ فن
کتنے پاپڑ انہیں بیلنے پڑتے ہیں
کیسے لفظوں کی فوجوں سے وہ لڑتے ہیں
جانتا اس مشقت کو فرہاد اگر
جُوئے شِیر اُس کو لگتی نہ دشوار تر
نئے لکھنے والے پہلے عروض اور اوزان ضرور سیکھیں۔اس سلسلے میں میری خدمات ان کے لیے حاضر ہیں۔اوزان کے حوالے سے میں ان کو مکمل رہنمائی فراہم کروں گا۔مجھے خوشی ہو گی میں اپنی قوم کے نوجوانوں کے کام آرہا ہوں اس کے لیے مجھے جتنا وقت دینا پڑا میں دو ں گا۔
آج کے شاعر
قاری محمد جاوید،مراد پور
03459444580
قارئین!آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا؟ای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے ہمیں اپنی آراء و تجاویز سے آگاہ کرتے رہیں۔
آپ کی قیمتی آراء کا منتظر
عمر علی دائم ؔ
انچارج ادبی صفحہ
0313.5858226
E.mail.lohooqalam@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں