17

کھیل صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ،طارق محمود

کھیل میں فتح یا شکست کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر صرف کھیل سمجھ کر حصہ لیا جائے۔
پڑھائی کے ساتھ کھیل ضروری ہیں،ڈائریکٹر سپورٹس خیبر پختونخوا طارق محمود کی باتیں

کھیلو ں کے ذریعے صحت مند سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں اور مثبت رویے پروان چڑھتے ہیں۔صوبہ خیبرپختونخوا میں ان دنوں تعلیمی اداروں کے مابین مختلف انواع کے کھیلوں کے مقابلے شروع ہیں۔یہ مقابلے ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں جن کا مقصد طلبہ کو ہر میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اورسبق دینا ہے۔تعلیمی اداروں کے مابین ہونے والے یہ مقابلے ڈائریکٹر سپورٹس خیبر پختونخوا طارق محمود کی زیر نگرانی ہو رہے ہیں۔طارق محمود نوجوانوں میں کھیل کے فروغ کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں،گزشتہ دنوں لوح وقلم انٹرنیشنل نے ان سے ایک مختصر سی نشست کی جس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔
ڈائریکٹر سپورٹس خیبر پختونخوا طارق محمود نے لوح وقلم انٹرنیشنل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ وطالبات کے لیے پڑھائی کے ساتھ کھیل بہت ضروری ہے۔کھیل صحت مند معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس سال سکولوں کے طلبہ و طالبات کے مابین ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر اکھٹے کھیل کے میدان میں جمع ہوئے اور طلباء ٹیموں کے مابین 9اور طالبات کے درمیان 8مختلف گیموں کے مقابلے ہوئے۔جن میں تقریبا ً2000سے زائد طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر ان مقابلوں کامقصد طلبہ وطالبات کو صوبائی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کر نا ہے۔اس سال تمام مقابلے انتہائی اچھے اور پرا من ماحول میں ہوئے،کسی ادارے سے فرد کی جانب سے کسی قسم کا اعتراض سامنے نہیں آیا۔ہم نے اپنے طو ر پر بچوں کو کھیلوں سے متعلق تمام تر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فراہم کردہ سہولیات کا معیار کسی بھی طور پر قومی سطح سے کم نہیں رکھا۔ڈائریکٹر سپورٹس طارق محمود کا کہنا تھا کہ علاقائی سطح پر ہونے والے کھیلوں کے ان مقابلوں سے ہی قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی پیدا ہوتے ہیں۔اگر ہم ان بچوں کو نظرا نداز کر دیں گے تو قوم کو کھیلوں کے میدان میں ملک کی نمائندگی کرنے والے کہاں سے میسر ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ہم باقاعدہ سپورٹس کمیپ لگا رہے ہیں جس میں ملک بھر کے نامور کھلاڑی اور کوچز شریک ہوں گے جو طلبہ وطالبات کو کھیلوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو باقاعدہ ٹریننگ دیں گے۔ضلعی سطح پر سکولوں کے مابین ہونے والے کھیلوں کے مقابلے اختتام پذیرہورہے ہیں میں ذاتی طورتعلیمی اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ہم جس مقصد کے لیے کھیلوں کا انعقاد کر رہے ہیں وہ مقصد ہمیں حاصل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں کھیلوں سے متعلق ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ کھیل پڑھائی کو متاثر کرتے ہیں۔یہ بات درست نہیں کھیل پڑھائی کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔پڑھائی کے لیے اچھا دماغ ضروری ہوتاہے جبکہ اچھا دماغ اچھی صحت کے حامل افرادکومیسرہوتا ہے اور اچھی صحت کھیل کے مرہون منت ہوتی ہے۔ طلبہ و طالبات کی اولین ترجیح پڑھائی ہونی چاہیے تاہم کھیلوں میں بھی ضرورحصہ لینا چاہیے۔گیم میں فتح یا شکست کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر صرف گیم سمجھ کر حصہ لیا جائے۔
انٹرویو لوح وقلم انٹرنیشنل2011

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں