17

اساتذہ کی ذمہ داری دیگر افراد سے زیادہ اہم ہے،شہزادہ خان

انٹرویو: مشتاق احمد آزاد 2011

وطن عزیز کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔
سینئرسٹاف ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ و ماہر تعلیم شہزادہ خان کی لوح وقلم انٹرنیشنل سے گفتگو

مانسہر ہ کو اساتذہ کا شہر کہا جاتا ہے اور اساتذہ کسی بھی معاشرے کے حقیقی رہنما ہوتے ہیں شہزادہ خان سینئر ٹیچر اور ایک ماہر تعلیم ہیں آج کل گورنمنٹ سکول مانسہرہ کے پرنسپل کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان کی خدمات کے پیش نظرلوح وقلم انٹرنیشنل نے ان سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جو قارئین کی نظر ہے۔اپنے پس منظر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میرا نام شہزادہ خان ہے اور میں ہزارہ یونیورسٹی سے 3کلو میٹر مشرق کی جانب گاؤں مونگن کا رہائشی ہوں۔ اپنے گاؤں سے ہی پرائمری کا امتحان پاس کیا اور بعد ازاں گورنمنٹ ہائی سکول عطر شیشہ سے 1978 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ ڈگری کالج مانسہرہ سے بی اے کیا۔ محکمہ تعلیم کی جانب آنے کے متعلق بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ہائی سکول عطر شیشہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ایسے ایسے عظیم اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز صاحبان ملے جن سے متاثر ہو کر محکمہ تعلیم میں خدمات سرانجام دینے کا فیصلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے کئے گئے فیصلہ پر کبھی بھی ندامت یا افسوس نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس نے مجھے اس عظیم پیشہ سے منسلک ہونے کی توفیق دی۔ تعلیم کی خامیوں کو دور کرنے لیے تجاویز دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم میں موجود خامیوں کو حکومت ہی دور کر سکتی ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے تو یہ کہ پورے ملک میں ایک نصاب ہو۔ خاص طور پر پرائیویٹ سکولوں میں نصاب کا مختلف ہونا بڑا مسئلہ ہے۔ ہر ایک سکول کا اپنا نصاب ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ گورنمنٹ سکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکولوں کو ایک نصاب پڑھانے پر پابند کرے۔ تعلیم کی بہتری کیلئے حکومت، اساتذہ، والدین معاشرہ ور طلبہ سب نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ان میں سے اگر کسی ایک نے بھی اپنا کردار ادا نہ کیا تو بہتری ممکن نہیں۔ اپنی تعلیمی مصروفیات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی تعلیمی خدمات کا آغاز بطور ایس وی ٹیچر گورنمنٹ مڈل سکول جال گلی سے کیا جو ایک دور اُفتادہ اور پہاڑی علاقہ ہے۔ اسی سکول کے میرے ایک شاگرد سردار شاہ جہاں یوسف اس وقت وزیر مملکت ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ سکولوں کے غریب والدین کے بچے بھی مستقبل میں ملک کی باگ دوڑسنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پھر گورنمنٹ ہائی سکول عطر شیشہ میں جہاں میں نے پانچ سال تک بطور سی ٹی ٹیچر اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس دور کے شاگردوں میں ڈاکٹرز اور دیگر محکموں میں اہم عہدوں پر فائز ہونے والوں کی کمی نہیں ہے۔ 1992ء میں صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ میری نعیناتی گورنمنٹ ہائرسیکنڈری سکول بفہ میں بطور سبجیکٹ سپیشلسٹ ہوئی۔ پھر 2004ء میں محکمانہ ترقی کے ذ ریعہ گورنمنٹ ہائی سکول شوہال معز اللہ میں بحیثیت پرنسپل ہوئی۔ پھر گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2مانسہرہ میں بحیثیت پرنسپل خدمات سرانجام دیں۔ ضلع بٹگرام میں بحیثیت ڈسٹرکٹ آفیسر نسبت کم عرصہ خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ اب گزشتہ تین سال سے گورنمنٹ نیشنل ماڈل سکول بوائز مانسہرہ میں بحیثیت پرنسپل خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ سینئر سٹاف ایسوسی ایشن بنانے کی ضرورت کے حوالے سے ان کا کہناتھا کہ سینئر سٹاف ایسو سی ایشن بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ایسوسی ایشن کے ذریعہ محکمہ تعلیم میں موجود خامیوں کو دور کیا جاسکے اور مسائل کا حل تلاش کرکے مسائل حل کیئے جائیں۔ جس سے محکمہ تعلیم مزید ترقی کی طرف گامزن ہوسکے۔ سینئر سٹاف ایسوسی ایشن کے مقاصد محکمہ میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم کو حق دلانا ہے۔ اور اساتذہ کو اپنے فرائض کی ادائیگی کا احساس دلانا تاکہ ہمارا ملک تعلیمی میدان میں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہو سکے۔ اساتذہ کا کردار معاشرے میں کیا ہونا چاہئے اس پر انہوں نے کہا کہ اساتذہ کا کردار معاشرہ میں بہت اہم ہے کیونکہ اساتذہ ہی قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ کی ڈیوٹی اور ذمہ داری معاشرہ کے دوسرے افراد سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ اس لئے اساتذہ کو اپنے منصب اور مقام کے مطابق فرائض سرانجام دینے ہیں۔ قوم کی تنزل کے ذمہ دار بھی اساتذہ ہی ہوتے ہیں کیونکہ جب اساتذہ اپنے فرض میں غفلت برتیں گے تو ایسا قومی نقصان ہو گا جس کی تلافی ناممکن ہوگی۔ لہٰذا اساتذہ کو ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے کمر بستہ ہونا چاہیے۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ کے نام پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں والدین، اساتذہ اور طلبہ کے نام یہ پیغام دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ والدین اپنے جگر گوشوں پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کی تمام ضروریات اور لوازمات پورا کرنے کے ساتھ ساتھ گھر پر تربیت کا خاصل خیال رکھیں تاکہ ان کی شخصیت کی تکمیل پوری ہوتے ہوتے کوئی کسر نہ رہ جائے۔ اس طرح اساتذہ کو یہ پیغام ہے کہ وہ قوم کے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہونے دیں۔ ان کی شخصیت کی مکمل طور پر تربیت کریں تاکہ یہ بچے مستقبل میں ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے قابل ہوسکیں۔ اسی طرح طلبہ کے لئے میرا یہ پیغام ہے کہ وہ خوب لگن اور محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ اپنا قیمتی وقت کبھی بھی ضائع نہ کریں بلکہ وقت کی قدر کریں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ لہٰذا اس جذبے سے محنت کریں کہ مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کرکے اپنے والدین، اساتذہ اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں