17

دینی مدارس میں اصلاحات

مدارس میں اصلاحات سے متعلق صوبائی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں مدارس اور حکومتی ماہرین نے مل کر مشترکہ طور پر نصاب مرتب کرنے پراتفاق کیاہے۔ کمیٹی کے چیئرمین و صوبائی وزیر برائے اوقاف و حج اور مذہبی و اقلیتی امور نمروز خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو قلب حسین، ممبر صوبائی اسمبلی مفتی کفایت اللہ، سیکرٹری اوقاف خیبر پختونخوا احمد حسن خان اور پانچوں وفاق المدارس کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین و صوبائی وزیر نمروزخان نے کہا کہ مدارس اصلاحات کے حوالے سے حکومت کے کوئی خفیہ عزائم نہیں اور نہ ہی یہ مجوزہ اصلاحات کسی بیرونی دباؤ کے تحت کی جاتی ہیں انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے حصول کے لئے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے کیونکہ دینی اور عصری علوم سے لیس ہونے والے طالب علم نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک ثمر آور درخت ثابت ہو سکتے ہیں۔ مدارس اور حکومتی ماہرین کا مل کر مشترکہ طور پر نصاب مرتب کرنے پراتفاق انتہائی خوش آئندہے کیونکہاسلامی تصور تعلیم کے لحاظ سے عصری علوم بھی دینی تعلیم کا ہی ایک حصہ ہیں۔ قرآن نے کائنات ارض و سما کی ہر ہر چیز پر تفکر، تدبر اور تحقیق کرکے قوانین فطرت کو جاننے اور نظام کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کا حکم دیا ہے ایسے میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کرناگویاانسان کی ایک اہم ضرورت ہے،بہرحال اہل مدارس اور حکومتی ماہرین کا اتفاق کایہ سلسلہ اگراسی طرح جاری رہا تواس کے یقینناًدورس اورمثبت اثرات مرتب ہونگے اوردینی مدارس وعصری تعلیمی اداروں کے درمیان جودوریاں ہیں وہ بہت جلد کم ہی نہیں بلکہ ختم ہونگی۔درحقیقت مدارس کی قیادت نے کبھی بھی عصری علوم کی ضرورت واہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیالیکن حکمرانوں نے اس سلسلے میں کبھی مخلصانہ کوششیں نہیں کیں۔ اس وقت بھی انگریزی، سائنس، کمپیوٹر اور دیگر جدید علوم مدارس کے نصاب میں شامل ہیں، کئی مدارس میں انتہائی جدید قسم کی کمپیوٹر لیبز قائم ہیں۔ کئی مدارس فارغ التحصیل علماء کو انگریزی، صحافت اور کمپیوٹر وغیرہ کے خصوصی کورسز بھی کرواتے ہیں۔صوبائی سطح پراگردینی مدارس کامشترکہ نصاب مرتب ہوجاتاہے تواس سے پھرپورے ملک کے اندرترقی کی راہیں کھلیں گی لیکن یہ اصلاحات صرف دینی مدارس تک محدود نہیں ہونی چاہیں بلکہ اصلاحات کا یہ دائرہ عام وخاص کیلئے پھیلا ناہوگا مطلب عصری کہلانے والے اداروں میں بھی دینی تعلیمات کا بندوبست کرکے دونوں قسم کی درسگاہوں کو بتدریج دینی اور عصری علوم کے معیاری سرچشموں میں تبدیل کردیا جائے۔ دونوں قسم کے علوم سے لیس ہوکر فارغ التحصیل ہونے والے افراد تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے کر معاشرے، ملک اور دین کی بہتر خدمت کرسکیں گے اس لئے دینی اور عصری درسگاہوں کا فرق اب ختم اورتمام تعلیمی اداروں کو دینی اور عصری دونوں علوم کا سرچشمہ ہونا چاہئے ہمارے بیشتر دینی مدارس نہ صرف معیاری دینی تعلیم دے رہے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سوں کا انتظام و انصرام زبوں حالی کے شکار سرکاری سکولوں اور انگریزی تعلیمی اداروں سے کہیں بہتر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں