18

ہزارہ کے نوجوان شعراء بھی معیاری ادب تخلیق کر رہے ہیں،عاصم شہزاد

انٹرویو،عمر علی دائم

عاصم شہزاد سے میری دوست کو تقریباً9,8 سال ہو گئے ہیں۔ اور اس عرصے میں جہاں تک میں عاصم شہزاد کو سمجھا ہوں وہ نہایت مخلص، ملنسار اور محبت کرنے والا شخص ہے۔ وہ دوستوں کا دوست ہے اور ان کے غم اور خوشی میں برابر شریک ہوتا ہے۔ وہ خوشیاں بانٹنا چاہتا ہے۔ بغض اور حسد نام کی چیز اس کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو عاصم شہزاد ایک نہایت بہترین شاعر بھی ہے۔ اس کے کلام میں بھاری بھر کم اور ثقیل الفاظ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے وہ اپنا مدعا نہایت سادہ اور پر تاثیر انداز میں بیان کرنے کا فن جانتا ہے۔ عاصم شہزادجس مشاعرے میں موجود ہو تو اس میں جان ڈال دیتا ہے کیونکہ وہ داد دینے میں بالکل کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ الفاظ کے موتی پرونا عاصم کو خوب آتا ہے۔ اس کا کلام سنتے ہوئے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ گویا الفاظ کی ایک خوبصورت مالا ہے جس میں رنگ برنگے موتی اس خوبصورتی سے پروئے گئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا محال ہے میری دعا ہے کہ ہمارا یہ خوبصورت شاعر اور بہترین دوست اسی طرح موتیوں کی لڑیاں پروتا اور محبتیں بانٹتا رہے۔ آمین
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کی پیدائش؟
عاصم شہزاد:23 دسمبر 1979ء کیہال ایبٹ آباد
لوح و قلم انٹرنیشنل: تعلیمی قابلیت
عاصم شہزاد: ایم اے اردو
لوح و قلم انٹرنیشنل: پیشہ؟
پرائیویٹ ملازمت
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
عاصم شہزاد:ویسے تو بچپن ہی سے ادب کی طرف رحجان تھا لیکن شاعری کا باقاعدہ آغاز تقریباً10 سال پہلے کیا دفتر میں ایک اخبار آتا تھا جس میں ادبی صفحہ چھپتا تھا اسی کا مطالعہ کرتے کرتے خود بھی لکھنے کا ذوق پیدا ہوا بچپن میں اکثر اپنے بڑوں سے بعض اشعار پر بحث کرتا تھا لیکن مطمئن نہ ہو پاتا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کن کن اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔
عاصم شہزاد: غزل اور نظم
لوح و قلم انٹرنیشنل:کن کن زبانوں میں شاعری کی؟
عاصم شہزاد: اردو، ہندکو
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر آیا؟
عاصم شہزاد: فی الحال نہیں آیا۔(میں ابھی تک اپنی شاعری سے مطمئن نہیں ہوں)
لوح و قلم انٹرنیشنل:شادی اپنی مرضی سے کی یا والدین کی مرضی سے؟
عاصم شہزاد: شادی والدین کی مرضی سے کی(جس میں اپنی مرضی بھی شامل تھی)
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کس سے متاثر ہو کر کیا؟
عاصم شہزاد: آغاز تو کسی سے متاثر ہو کر نہیں کیا لیکن جب شاعری کاآغاز کیا تو اس کے بعد بہت سے شعراء نے متاثر کیا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کے پسندیدہ شعراء کون کون سے ہیں؟
عاصم شہزد: ناصر کاظمی، احمد فراز، منیر نیازی اور ہر وہ شاعر جس کا کوئی ایک شعر بھی دل پر اثر کرے۔ اساتذہ میں غالب، میر اور بہادر شاہ ظفر میرے پسندیدہ شعراء میں سے ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:پسندیدہ صنف سخن؟
عاصم شہزاد: غزل
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی پسندیدہ شعر سنائیں۔
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
٭٭٭
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیسا لباس پسند کرتے ہیں؟
عاصم شہزاد: شلوار قمیص، کرتہ
لوح و قلم انٹرنیشنل:کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے؟
عاصم شہزاد:چاول، نہاری، آلو گوشت اور چائنیز رائس بہت شوق سے کھاتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کا آئیڈیل کون ہے؟
عاصم شہزاد: حضور ؐ اور خلفائے راشدین میرے آئیڈیل ہیں۔ اور بحیثیت مسلمان ہمارے لیے ان سے بڑھ کر کوئی آئیڈیل ہو بھی نہیں سکتا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
اللہ کی کرم نوازی ہے کہ کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:موجودہ دور کے ادب کا معیار کیا ہے؟
عاصم شہزاد: موجودہ ادب کا زیادہ رحجان جدت کی طرف ہے لیکن کچھ نوجوان شعراء ایسے بھی ہیں جو بہت معیاری ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان شعراء کے اشعار زبانِ زدِ عام ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان شعراء خصوصی طور پر صنفِ غزل میں بہت تجربات کیے جا رہے ہیں جو بہت اچھا ہے لیکن روایتی غزل کی چاشنی کم نہیں ہو سکتی۔ اور موجودہ ادب راہ پر گامزن ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:ہزارہ کے ادب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
عاصم شہزاد: ہزارہ میں بہت سے شعراء ہیں کہ جنہوں نے ملکی سطح پر بہت نام پیدا کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان کے نامور شعراء کی فہرست ترتیب دی جائے تو یہ نام اس میں شامل ہونگے۔ نوجوان شعراء ہزارہ کی اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور بہت اچھے شعر تخلیق ہو رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہزارہ بھر میں بہترین ادب تخلیق ہو رہا ہے۔ اور بزم علم و فن، بزم اہل سخن، قلم کارواں اور شعر و سخن نوجوان شعراء کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:قدیم اور جدید ادب میں کیا فرق ہے؟
عاصم شہزاد: قدیم اور جدید کی اصلاح ہماری اپنی وضع کردہ اور میرے نزدیک سرا سر غلط ہے اچھا ادب جب بھی تخلیق ہوا اس نے دلوں پر اثر کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شعر جسے پڑھ کر آپ کی روح سرشار ہو جائے اور آپ اس کے سحر میں آ جائیں وہ کسی استاد شاعر کا شعر ہو یا کسی نو آموز شاعر کا شعر ہو آپ اسے قدیم اور جدید کی اصطلاح سے ہٹ کر صرف اس شعر کے حسن میں کھو جائینگے۔ اور یہ آ کے ذوق پہ منحصر ہے۔ اس کے لیے قدیم اور جدید کی کوئی قید نہیں بہر حال اساتذہ جنہوں نے روایتی شاعری کو پروان چڑھایا ان کے شعر جب بھی پڑھیں گے آپ کو متاثر کرینگے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیا موجودہ ادب اپنے دور کی عکاسی کرتا ہے؟
عاصم شہزاد: ادب ہمیشہ سے اپنے دور سے متاثر ہو کر ہی تخلیق ہوا۔ اس لیے ادب نے ہمیشہ اپنے دور کی عکاسی کی ہے اب اگر غالب اور میر کی غزل کو اٹھا کے دیکھیں تو وہ اپنے دور کی بہترین عکاسی کرے گی۔ اسی طرح جون ایلیا، احمد فراز، ناصر کاظمی، عدم مجید امجد جیسے شعراء موجودہ دور کی عکاسی کرتے ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:نوجوان شعراء کے نام کوئی پیغام؟
عاصم شہزاد:بہت سے نوجوان شراء جو بہت اچھا ادب تخلیق کر سکتے ہیں اور ان میں اس کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے وہ یا تو مھنت سے گھبراتے ہیں یا بہت کم وقت میں شہرت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور جلد از جلد اپنی تخلیق کو کتابی شکل میں لانے کی کوشش کرتے ہیں وہ کسی سے اصلاح لینے میں شاید جھجک محسوس کرتے ہیں۔ یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے اور اسی وجہ سے وہ آدھی راہ ہی میں اپنا تخلیقی سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں جو میں سمجھتا ہوں ادب کے لیے نقصان کا باعث ہے میں نوجوان شعراء سے التماس کرونگا کہ وہ اساتذہ کے پاس بیٹھیں اپنی کاوش کی اصلاح لیں اور اساتذہ کا مطالعہ کریں جس سے نہ صرف ان کی شاعری میں نکھار پیدا ہو گا۔ بلکہ ان کی شاعری جلد ہی شہرت کا سبب بھی بنے گی تخلیقی صلاحیت ہر انسان میں موجود ہوتی ہے بس اسے تھوڑی سی راہنمائی کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اور یہ راہنمائی انہیں ایک اچھا شاعر بننے میں معاون ہو گی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
عاصم شہزاد: میں ہفت روزہ لوح و قلم انٹرنیشنل کے چیف ایڈیٹر محمد وسیم عباس اور ادبی صفحہ کے انچارج عمر علی دائمؔ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یہ جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے مجھ سمیت تمام نوجوان شعراء کو اپنے اخبار کی زینت بنایا اس سے ہزادہ کے نوجوان شعراء کو اپنی تخلیقات قارئین تک پہنچانے کی راہ میسر آئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوح و قلم انٹرنیشنل کی یہ کاوش شعراء اور خاص کر نوجوان شعراء کے تخلیقی سفر میں بہت معاون ثابت ہو گی اور اس سلسلے میں لوح و قلم انٹرنیشنل کی کاوش کو یاد رکھا جائے گا میں لوح و قلم کے تمام جملہ سٹاف کو اتنا معیاری اخبار نکالنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور اس اخبار کی ترقی کے لیے دعا گو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا۔

وقت کیسا گزر گیا عاصم
وقت کے ساتھ مر گیا عاصم
میں جو ڈوبا تو عشق کا دریا
ایک دم سے اتر گیا عاصم
خواب اپنا بھی پھول جیسا تھا
پتی پتی بکھر گیا عاصم
تیرا یونہی خیال آیا تھا
دل اچانک بھر گیا عاصم

در کو دیوار کرتا جاتا ہوں
گھر پر اسرار کرتا جاتا ہوں
تیری تقلید اب ضروری ہے
تجھ کو معیار کرتا جاتا ہوں
کوئی دشمن نہیں زمانے میں
خود پہ بس وارکرتا ہوں
خود کو مصروف رکھنا پڑتا ہے
کام بے کار کارتا جاتا ہوں
میں تو یونہی پڑے پڑے عاصمؔ
خود کو بیمار کرتا جاتا ہوں

قطعات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں