27

تعلیم کا مقصد ڈگری نہیں بلکہ شخصیت سازی ہے ،عبدالرزاق عباسی

طلبہ تنظیمیں نظام تعلیم کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں،تعلیمی اداروں سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہونا چاہیے
لوح وقلم انٹرنیشنل کا اجراء وقت کی اہم ضرورت تھی۔سابق امیر جماعت اسلامی ایبٹ آباد عبدالرازق عباسی کی باتیں

عبدالرزاق عباسی ایبٹ آباد کی معروف سیاسی شخصیت ہیں۔زمانہ طالبعلمی میں وہ پاکستان کی ایک بڑی طلبہ تنظیم اسلامی جمیعت طلبہ کے ڈویژنل صدر رہ چکے ہیں اور آج کل صوبہ ہزارہ تحریک کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے دہے ہیں۔نظام تعلیم میں طلبہ تنظیموں کے کردار حوالے سے عبد الرزاق عباسی کافی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔گزشتہ دنوں لوح وقلم انٹرنیشنل نے ان سے طلبہ تنظیموں کے حوالے سے ایک خصوصی نشست کی جس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔
عبدالرزاق عباسی نے اپنے تعلیمی پس منظر سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آبادسے B.Sc، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورسے ایم اے اور آزاد کشمیر یونیورسٹے سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔زمانہ طالبعلمی میں مجھے اسلامی جمیعت طلبہ ہزارہ ڈویژن کا صدر رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ طلبہ تنظیمیں نظام تعلیم کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔طلبہ چونکہ اس نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور ان پرمعیاری و غیر معیاری تعلیم کے اثرات براہ راست مرتب ہوتے ہیں اس لیے طلبہ اس نظام کو بہتر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔عبدالرزاق عباسی نے مزید کہا کہ یہ بات اپنی جگہ پر سو فیصد درست ہے کہ طلبہ تنظیمیں نظام تعلیم کو بہتر بنا سکتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک بڑی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اس قدر زبوں حالی کا شکار ہے کہ ا س کو درست کرنا کسی ایک تنظیم یا ادارے کے بس کا کام نہیں ہے۔اس کے لیے سب کو اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ا ن میں کرپشن، گڈ گورننس و دیگر تمام مسائل کی جڑ ہمارا خراب تعلیمی نظام ہے جب تک اس نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا یہ تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہمارا نظام تعلیم انگریزوں کا بنایا ہوا ہے جو انہوں نے اپنی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی وہی لارڈ میکالے کا نظام تعلیم رائج ہے جس کے بارے میں لارڈ میکالے کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ بظاہر تو ہندوستانی ہوں گے مگر اندر سے یہ انگریز ہوں گے۔اگر کوئی مسلمان اس نظام کو اپنائے گا تو وہ صرف نام کا مسلمان رہے گا اس کی سوچ انگریزوں کی سی ہو گی۔آج جب میں اپنی نوجوان نسل کو دیکھتا ہوں تو مجھے لارڈ میکالے کی باتیں سچ ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔عبدا لرزاق عباسی نے کہا اس وقت ہمارے ہاں مختلف نظام تعلیم رائج ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، جب تک ہمارے ہاں یکساں تعلیمی نظام رائج نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہمارے مسائل کا حل ممکن نہیں۔پاکستان میں رائج طریقہ تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں آج تک قومی زبان کو ذریعہ تعلیم نہیں بنایا جا سکا اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کو دیکھ لیں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور وہاں ذریعہ تعلیم ان کی اپنی قومی زبان ہے۔ زبانیں سیکھنی چاہئیں مگر ذریعہ تعلیم اگر اپنی ہی زبان کو بنایا جائے تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر بھی بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اپنی جماعت کے حوالے سے کہا کہ ہمارے اپنے ایجوکیشن سسٹم ہیں جن کے ذریعے ہم نونہالان وطن کی تربیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزالی ایجوکیشن سسٹم، Read فاؤنڈیشن اور اقراء فاؤنڈیشن کے ذریعے معاشرے میں روشنی پھیلانے میں اپنا کردار دا کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں بہترین پاکستانی اور بہترین مسلمان تیار کیے جاتے ہیں۔ ان اداروں سے فارغ ہونے والے افراد زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔میں خود بھی دارارقم کے نام سے موسوم ایک تعلیمی ادارہ چلا رہا ہوں۔ سیاسی نمائندوں کے تعلیم میں کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی نمائندے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،سیاسی نمائندوں کی سب سے بڑی ذمہ داری مانیٹرنگ ہے اگر سیاسی نمائندے صحیح طرح سے اپنے علاقے کے سکولوں اور تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کریں تو پھر کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔اسی طرح سیاسی نمائندے گورنمنٹ سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کروا سکتے ہیں۔ اپنے دور نظامت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے اساتذہ اور والدین کی کمیٹیاں بنائی ہوئیں تھیں اور میں خود بچوں کے رزلٹ دیکھتا تھا۔یہی وجہ تھی کہ میرے علاقے میں کبھی اساتذہ غائب نہیں ہوتے تھے۔ عبدا لرزاق عباسی نے مزید بتایا کہ میں نے این جی اوز سے مل کر12نئے سکول بنوائے اور تین سے چار ہزار تک بچوں کو سکول میں داخل کروایا۔اسی طرح کمیونٹی ہینڈ سکول متعارف کروائے۔
والدین کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بد قسمتی سے والدین بچوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے وہ بچوں کو سکول بھیج کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہو گئی ہے۔اسی طرح اساتذہ اور طلبہ بھی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے۔ تعلیم کا مقصد صرف نوکری اور ڈگری حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ شخصیت سازی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے نظام تعلیم کے بہتر نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اساتذہ کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ان کا حق ہے۔ جب تک آپ اساتذہ کی ضروریات پوری نہیں کریں گے آپ ان سے بہتر کارکردگی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے بھی تعلیمی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ طلباء کے حوالے سے ان کا پیغام تھا کہ طلباء کو اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز رکھیں اور ایک اچھا اور سچا مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ آخر میں انہوں نے لوح و قلم انٹرنیشنل کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوح وقلم انٹرنیشنل کا اجراء بہت ہی احسن اقدام ہے اس وقت واقعی ایک ایسے اخبار کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جو میڈیا میں تعلیمی شعبے کی ترقی کی ترجمانی کر سکے اس لیے لوح و قلم انٹرنیشنل کے اجراء پرایک مرتبہ پھر پوری ٹیم کو مبارک باد اورخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
یہ انٹرویو 2011میں‌شائع ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں