26

بیرون ملک تعلیم کے حصول کا بڑھتا ہوا رحجان

بہت سے طلبہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی بناپر بیرون ملک جا کر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں،لیاقت علی
بیرون ملک تعلیم کے حصول کا شوق رکھنے والے طلبہ کے لیے FESکے ریجنل ڈائریکٹر کی رہنما باتیں

پاکستان کا ہر دوسرا طالبعلم بیرون ملک تعلیم کے حصول کا خواہشمند ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو بیرون ملک تعلیم کے ساتھ ساتھ کا م کرنے کا موقع بھی ملتاہے جس کی بدولت وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکنے کے ساتھ ساتھ اپنے معاشی مسائل کو کسی حد تک ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔بیرون ملک تعلیم کے حصول کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیش نظر ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں لاتعدا د ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کے حصول کی رہنمائی فراہم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔طلبہ چونکہ بیرون ملک تعلیم کے حوالے سے درپیش معلومات اور ضروریات سے نابلد ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتاہے کہ ان اداروں میں سے کون سا ادارہ صحیح ہے اور کون سا غلط۔جس کی بنا پر بہت سے طالبعلم اپنے قیمتی وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔بیرون ملک تعلیم کے حصول کی خواہش رکھنے والے طلبہ کی سہولت اور رہنمائی کے لیے لوح وقلم انٹرنیشنل نے پاکستان کے نامور سٹڈی کنسلنٹس کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ طلبہ ان کی گفتگو اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ایبٹ آباد شہر میں بہت سے ادارے طلبہ کی رہنمائی کے لیے اپناکردار ادا کر رہے ہیں۔ انہی اداروں میں سے FES بھی ایک بڑ انام ہے۔ گزشتہ دنوں FESایبٹ آبادکے ریجنل ڈائریکٹر لیاقت علی سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ان سے کی گئی بات چیت قارئین کی نذر کرتے ہیں۔
لیاقت علی خان نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں چونکہ خود یوکے رہا ہوں میں نے وہاں دیکھا کہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی بناپر بیرون ملک جا کر پڑھنے والے طلبہ مشکلات کا شکار ہو جاتے۔طلبہ کی یہ صورتحال دیکھ کر میرے دل میں اس شعبے میں کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا تاکہ جو لوگ دوسرے ممالک میں تعلیم کے لیے جانا چاہتے ہیں ان کو وہاں کے صحیح حالات، وہاں درپیش مشکلات اور وہاں کے اصول و قوانین کے حوالے سے تمام تر معلومات فراہم کی جائیں اور وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے ہر بہتر فیصلہ کر سکیں۔ یہی مقصد لے کر ہم اس فیلڈ میں آیا ہوں۔لیاقت علی نے کہاکہ ہمارا یہ نیٹ ورک 2003ء میں پشاور سے شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت ہم آٹھ بڑے شہروں میں کام کر رہے ہیں جن میں ایبٹ آباد، لاہور، راولپنڈی،پشاور، کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی اور مردان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا ادارہ پاکستان اور دوبئی میں بھی اپنی برانچز کھولے گا تا کہ وہاں سے بھی ہم خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ اس سلسلے میں ہم کام کر رہے ہیں اور آئندہ سال کے شروع میں ہم اپنی برانچز فعال کریں گے۔
تعلیم کے سلسلہ میں بیرون ملک جانے کے خواہش مند طلبہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے سٹوڈنٹس کو تھوڑا سا ہوم ورک کر لینا چاہیے۔ جس ملک میں وہ جانا چاہتے ہیں وہاں کے حالات، وہاں کے قوانین کے بارے میں معلومات حاصل کر لینی چاہیے۔ آج کل انٹر نیٹ پر تمام چیزیں موجودہیں ان کوپہلے یہ ساری معلومات حاصل کرنی چاہئیں پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ بعض اوقات اس طرح ہوتاہے کہ طلباء کو تمام معلومات نہیں ہوتیں اور پھر وہ کچھ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جہاں سے انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو اس حوالے سے خاص طورپر انہیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے کنسلٹنٹ سے رابطہ کریں جنہیں باقاعدہ طور پر برٹش کونسل کی منظوری حاصل ہو ان کے پاس سرٹیفکیٹ ہو اور جنہیں رولز او ریگولیشن کاپتہ ہو۔ وہی آپ کو بہترین راہنمائی فراہم کریں گے تا کہ اگر آپ کو بالفرض ویزہ نہیں بھی ملتا تو آپ کی رقم کی واپسی آسانی سے ہو جاتی ہے۔
بیرون ملک تعلیم اور کام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی ممالک ہیں وہاں اگر آپ گورنمنٹ کے تعلیمی ادارے میں پڑھ رہے ہیں تو پھر اپ پارٹ ٹائم جاب کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ چھٹیوں میں فل ٹائم کام کر سکتے ہیں اس کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ان کایہ بھی کہنا تھاکہ اس وقت FES کے پلیٹ فارم سے ایبٹ آباد برانچ سے UK، آسٹریلیا،آئر لینڈ، نیوزی لینڈ اور کنیڈا کے لیے راہنمائی کر رہے ہیں۔
IELTS ٹیسٹ کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ IELTS تو ضروری ہے مگر کسی بندے کی 16 سالہ تعلیم مکمل ہے تو پھر وہIELTS کے بغیر بھی ماسٹر پروگرام کے لیے جا سکتا ہے۔
جو طلباء باہر تعلیم کے لیے جانا چاہتے ہیں ان کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم از کم بیچلر کر لیں پھر اس کے بعد باہر جائیں کیونکہ بیچلر کرنے کے بعد بندہ تھوڑا سنجیدہ اور بالغ نظر ہو جاتا ہے۔ پھر اسے اس بات کا احساس ہوتاہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط اس لیے اگر بیچلر کے بعد جائیں تو اچھا ہے اگر ماسٹرکے بعد جائیں تو یہ اور بھی بہتر ہے۔طلباء کو راہنمائی فراہم کرنے کے حوالے سے ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم گاہے بگاہے سیمینارز کا انعقاد کرواتے رہتے ہیں اور یہ سیمینار کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں ان سیمینارز میں ہم مختلف یونیورسٹیز اور کالجز کے Representations کو مدعو کرتے ہیں جہاں طلباء براہ راست ان سے بات چیت کر سکتے ہیں،مسائل انہیں بتا سکتے ہیں۔ اور ان سے تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 25 تاریخ کو بھی ہم ایک سیمینار منعقد کروا رہے ہیں طلباء اس میں شریک ہو کر معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔یہ سیمینار چونکہ فری ہوتے ہیں اس لیے بڑی تعدادمیں یہاں پر طلباء آتے ہیں اور بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں