13

لوگوں کی چاہت نے لکھنے پر مجبور کیا ،نسیم انور طالب

انٹرویو: اعجاز احمد عثمانی

ہزارہ ڈویژن میں اردو شاعری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔نوجوان شاعر نسیم انور طالب کی دلچسپ باتیں

نسیم انور طالبؔ علاقہ لورہ پھلہ سے تعلق رکھنے والے ہزارہ ڈویژن کے قابل فخرشاعر ہیں۔آپ کی شاعری موجودہ دور کی عکاسی کرتی ہے جس میں ان کی دور اندیشی اور معاملہ فہمی نظر آتی ہے گزشتہ دنوں لوح و قلم انٹرنیشنل نے اس ہونہار شخصیت سے ملاقات کی جس کا احوال قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کی پیدائش؟
نسیم:24 اپریل 1972ء
لوح و قلم انٹرنیشنل: تعلیمی قابلیت؟
نسیم: ایم اے،بی ایڈ
لوح و قلم انٹرنیشنل: پیشہ؟
نسیم: تدریس
لوح و قلم انٹرنیشنل: شاعری کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
نسیم: یہ سوال ایسا ہے جیسے کسی بہتی ندی سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کب اور کیسے کسی خاص رخ میں بہہ نکلی، ویسے میں نے شاعری کا آغاز چھٹی جماعت سے شروع کیا اور نویں جماعت سے باقاعدہ شعر لکھنے کا آغاز کیا اور اختررضاسلیمیؔ صاحب جیسے مستند استاد سے اصلاح لی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کن کن اصناف سخن میں طبع آزمائی کی؟
نسیم:حمدو نعت لکھتاہوں لیکن زیادہ ترغزل ہی لکھتاہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کن کن زبانوں میں شاعری کی؟
نسیم: زیادہ تراردو میں لکھتاہوں لیکن کبھی کبھی پنجابی اور ہندکو میں بھی لکھتاہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر آیا؟
نسیم:”طلب“ کے عنوان سے پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آنے والا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: شاعری کاآغاز کس سے متاثر ہو کرکیا؟
نسیم: لوگوں کا خلوص اوران کی چاہت ہی کچھ لکھنے پرمجبور کرتی ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کے پسندیدہ شعراء کون کون سے ہیں؟
نسیم: میں زندگی میں سب سے زیادہ مرزا اسد اللہ خان ظالب سے متاثرہوا ہوں اورانکی شاعری بہت پسند کرتاہوں۔ اس کے علاوہ حکیم مومن خان مومن اور حسرت موہانی کو بھی پسند کرتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: پسندیدہ صنف سخن؟
نسیم: غزل
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی پسندیدہ شعر سنائیں۔
گل کا وجود بھی گلزار سے کم نہیں
پہلوئے گل میں ہم بھی خار سے کم نہیں
ہو بھی گیا اگر میں قتل تو کیا عجب
ابروئے پار بھی تلوار سے کم نہیں
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیسا لباس پسند کرتے ہیں؟
نسیم:سفید لباس بہت پسند ہے اور ہمیشہ سفید لباس ہی پہنتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے؟
نسیم: کوئی بھی سویٹ دش زیادہ پسندکرتاہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کاآئیڈیل کون ہے؟
نسیم: غالب کے سوا اور کون ہو سکتاہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
نسیم:مجھے تو غالب کاشعر ہی یاد آیا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
لوح و قلم انٹرنیشنل:موجودہ دور کے ادب کا معیار کیا ہے؟
نسیم: میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دور کا ادب عین جدید تقاضوں کے مطابق ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:ہزارہ کے ادب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
نسیم: پورے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سب سے زیادہ علم العروض جاننے والے ہزارہ ہی میں ہیں یہاں اردو شاعری کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔آصف ثاقب، احمد حسین مجاہد اور اختر رضا سلیمی جیسے شعراء یہاں موجود ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:قدیم اور جدید ادب میں کیا فرق ہے؟
نسیم:قدیم ادب تو محض خیالی تھا لیکن جدید ادب تو زندگی سے منسلک ہے۔ قدیم ادب میں الفت اور محبت اور زبان پر زیادہ زور دیا جاتا تھا لیکن جدید ادب ہر طرح کے مسائل کی عکاسی کرنے کے علاوہ خیالات کی عمدگی پر بھی زور دیتا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: نوجوان شعراء کے نام کوئی پیغام؟
نسیم: نوجوان شعراء سے یہی کہوں گا کہ وہ علم و العروض کو اچھی طرح سیکھیں۔ اردو زبان کی روح کو سمجھتے ہوئے تلفظ کی صحیح ادائیگی سیکھیں اورموجودہ مسائل سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ قارئین کا رخ قدامت پسندی سے موڑکرجدت پسندی کی طرف لائیں۔

نعت شریف
زمانے نے دیکھے حسیں کیسے کیسے، نہیں کوئی لیکن مثالِ محمدؐ
یہ خورشید و مہتاب بھی ناتواں ہیں، نظربھر کے دیکھیں جمالِ محمدؐ
مرے دل کی دھڑکن یہی کہہ رہی ہے،کوئی مصطفےؐ سا کہیں بھی نہیں ہے
محبت سے نم میری ہوتی ہیں آنکھیں، مجھے جب بھی آئے خیالِ محمدؐ
وہ حق و صداقت کے پیکر سرا سر، وہ ہادی و رہبر سراپائے رحمت
جو دیں گالیاں تو انہیں دیں دعائیں، جہاں والودیکھو کمالِ محمدؐ
بروزِ حشر سر کو سجدے میں رکھ کر، تڑپتے ہوئے خوب آنسو بہا کر
تو بخشش مری ساری امت کی کر دے، یہ ہو گا خدا سے سوالِ محمدؐ
ابو بکرؓ و فاروقؓ و عثمانِ و حیدرؓ، بڑی آن والے بڑی شان والے
قیامت تلک صبح ہوتی نہیں تھی، اذاں گر نہ دیتے بلالِؓ محمد ؐ
سبھی مضطرب تھے سبھی چشمِ نم تھے، سماں تھا وہ ہر سُو سراسیمگی کا
بپا اہل دل پر قیامت تھی طالبؔ، ہوا دوستو جب وصالِ محمدؐ

لہرا کے تُو زلفوں کو اندھیرا نہ کیا کر
ان کھیلتے بچوں سے تماشا نہ کیا کر
برسات کاموسم بھی تو ہوتا ہے خطرناک
مٹی کے مکانوں پہ بھروسہ نہ کیا کر
ہے طائرِ قدسی تری معراج پہ حیراں
ہے چیز بری فخر زیادہ نہ کیا کر
ہر روز ہی پڑتی ہے معلم سے مجھے مار
اتنی بھی شکایات خدارا نہ کیا کر
ہو ایک کرن بس ترے چہرے کی میسر
اے چاند تُو اتنا بھی پردہ نہ کیا کر
حالاتِ زنانہ نہیں د یتے یہ اجازت
ملنے کا تُو ہر روز تقاضا نہ کیا کر
تقدیر کالکھا کبھی مٹتا نہیں طالبؔ
پختہ ہے جو ایمان تو شکوہ نہ کیا کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں