17

اردو زبان سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والے شاعر صغیر احمد

بزم لوح وقلم ہزارہ کے جنرل سیکرٹری اور اردو زبان سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والے شاعر صغیر احمد کا مختصر تعارف
نام صغیر احمد۔ تخلص، ندیم ہے 24-07-1963کو ہری پور میں پیدا ہوئے تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ماڈرن ایج پبلک سکول اینڈ کالج ایبٹ آباد میں اردو کے استاد ہیں۔ شعر و ادب سے لگاؤ بچپن ہی سے تھا۔ میٹرک میں پہلی غزل کہی۔ آج کل بزم لوح و قلم ہزارہ کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ ہری پور کے علاوہ ہزارہ بھر کے ادبی حلقوں واہ کینٹ اور راولپنڈی کے ادبی حلقوں میں پہنچانے جاتے ہیں۔ اگرچہ صغیر ندیم کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا البتہ اپنے مداعوں کے بھرپور اسرار پر وہ ایک کتاب مرتب کر رہے ہیں جو بہت جلد منظر عام پر آہ کر ان کے مداعوں کو تسکین پہنچائے گی۔ ان کے شعر ملک بھر میں ادبی حلقوں کی زبان زد خاص و عام ہیں۔عزل اور نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ہزارہ میں نئے لہجے کے شاعروں میں اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ اردو زبان سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں جبکہ ان کی اپنی مادری زبان بھی اردو ہی ہے۔ صغیر ندیم کے آباؤ اجداد میرٹھ انڈیا سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔روحانی طور پر حضرت واصف علی واصف سے متاثر ہیں بقول صغیر ندیم واصف علی واصف کی تعلمیات سے زندگی میں بہت سے مثبت تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پسندیدہ شعراء میں خسرو، غالب، ساحر لدھیانوی، احمد فراز اور عصرحاضر کے شعراء میں سعید صاحب، ڈاکٹر محمد سفیان صفی شامل ہیں۔تصوف صغیر ندیم کا پسندیدہ ترین موضوع ہے۔ لااوبالی اور غیر مستقل مزاج شخصیت کے مالک ہیں دوستوں کے دوست ہیں۔ اپنے غموں اور دکھوں کو ہنسی میں اڑا دینے کا ملکہ حاصل رکھتے ہیں۔ اپنے علم کی پیاس بجھانے، انسانی خدمت کے جذبے اور قدرت کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے طویل عرصہ شہری زندگی سے کٹ کر دور دراز مقامات پر قیام کیا جس دوران پسماندہ علاقوں کے باسیوں کو طبی خدمات فراہم کرتے رہے اور معالج بن کر انسانی زندگیاں بچاتے رہے اس دوران انہیں فطرت سے آشناء ہونے کا موقع ملا۔ تنہائی کے وہ شب و روز صیغر ندیم کی زندگی کا حاصل ہیں۔ اور اس زمانے میں تزئین ذات اور باطنی صفائی کے عمل نے زندگی کی پریشانیوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا۔ گلابی رنگ پسند کرتے ہیں اور خوراک میں دال چاول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔صغیر ندیم کے ہر شہر ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں بہت سے دوست ہیں۔ وہ ایسی خوشگوار طبعت کے مالک ہیں کہ جو ایک بار ملتا ہے آپ کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا ہے، لطیفہ گوئی اور اپنے اشعار سے محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں۔ اسکول میں بزم ادب کی تقریبات میں اکثر شعر سنا کرسامعین کے دل جیت لیتے ہیں۔ اردو کے پروفیسر قاضی جمیل الرحمان صاحب کے بقول صغیر ندیم نظم کا بادشاہ ہے۔

مجھ کو ہنستی ہوئی کوئی تصویر دیکھا دو
مجھ سے روتا ہوا انسان نہیں دیکھا جاتا

یہ انٹرویو 2011میں‌پہلی بار لوح وقلم انٹرنیشنل میں‌شائع ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں