24

اساتذہ کرام اور معاشرتی بے حسی

قوم کے ان محسنوں کے احسانات کو فراموش کرنا بڑا المیہ ہے
معاشرتی بے حسی کا شکا ر ہونے والے ایک قابل قدر استاد کی خدمت میں ایک شاگرد کا معذرت نامہ
تحریر،گلستان،سی ٹی
گورنمنٹ ہائی سکول سمندر کھٹہ ایبٹ ا ٓباد

آپ ؐ کا ارشاد گرامی ہے ”بعثت معلم“ ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے“اس ارشاد مبارک کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معلمی سب سے بہتر پیشہ ہے بشرطیکہ اس کے تقاضے پورے کئے جائیں۔یہ تقاضے ہیں اپنے پیشے سے لگاؤ، ایمانداری، فرض شناسی، جہد مسلسل اور اپنے مضمون پہ عبور، یہ خوبیاں جس معلم میں ہونگی وہ اپنے کام سے انصاف کر سکے گا۔
ہمارا شہر ایبٹ آبادتعلیمی شہرہے۔جہاں جا بجا معیاری درسگاہیں ہیں۔ ہر سال ہزاروں طلباء مختلف شہروں سے یہاں داخلہ لینے آتے ہیں۔ اسی شہر کا ایک قصبہ ”نواں شہر“ ہے جو پہلے بھی ”نواں“ نیا تھا آج بھی ”نواں“ ہے اور جب تک ہے ”نواں“ ہی رہے گا۔ اسکی زمین نے اپنی زرخیزی اور علم دوستی کی بنا پر ایسے ایسے معلم پیدا کیے ہیں جو محکمہ تعلیم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اس ضلع کا ایک اور گاؤں ہے جس کا نام ہے ”نگری بالا“ گلیات کے علاقے میں شاید ہی کوئی سکول ایسا ہو جہاں اس گاؤں کا ”استاد“ نہ ہو۔ یہ زمین بھی بڑی زرخیز ہے اور اساتذہ کی پیداوار کیلئے مشہور ہے۔ اس نے بھی بڑے نامی استاد پیدا کیے ہیں جن میں اکثر تو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں اور کچھ بقیدِ حیات ہیں۔ محدودے چند کہ زندگی کے کسی شعبے کو اس سے مفر نہیں زیادہ تر مکمل استاد تھے اور ہیں۔
انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہم پر ہردور میں لازم ہے۔ انہی میں سے ایک نام ”جناب خان اکبر“ (ہیڈ ماستر، ریٹائرڈ گورنمنٹ ہائی سکول سمندر کھٹہ) کا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ”آپ پیدائشی معلم تھے“
1968؁ء سے لیکر 2009؁ء کا زمانہ گلیات کی تعلیمی تاریخ کا ایک یادگار زمانہ ہے۔ ہرطالب علم کی زبان پر، سرپرست والدین کی زبان پر، مقامی لیڈروں کی زبان پر صرف ایک ہی نام رہا ”خان اکبر استاد“ آپ 1968؁ء کے اوائل میں بحیثیت J.V ٹیچر اس محکمہ میں آئے۔ اس وقت کا خان اکبر ایک صحت مند، گھنگریالے بالوں والا، چاق و چوبند مگر ہمہ وقت پڑھانے والا با رعب شخصیت کا مالک ”خان اکبر“ تھا سارا دن پڑھانا ان کا وطیرہ تھا۔ طلبہ سے اخذ کروانے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ طلباء ان سے بہت ڈرتے تھے۔ مگر کبھی بھی کسی طالب علم نے ان کے اس رویے کی شکایت نہیں کی۔ موصوف کہا کرتے تھے کہ اگر لڑکے کو اس کی غلطی باور کروا کر سزا دی جائے تو وہ کبھی بد دل نہیں ہوتا۔ آج جب ملک کے طول و عرض میں پھیلے ان کے ہزاروں شاگرد اچھی اچھی پوسٹوں پر ہیں تو کئی اب بھی ان کے آگے زانوئے تلمند طے کرتے نظر آتے ہیں اور سب کی زبان پر اپنے استادِ محترم کیلئے یہی شعر ہے کہ
قسم خدا کی محبت نہیں عقیدت ہے
دیارِ دل میں بڑا احترام ہے تیرا
آپ اپنی ملازمت کے دوران مختلف سکولوں میں رہے۔ جہاں بھی رہے ایک مثالی استاد کی حیثیت سے رہے۔ وہ کسی بھی پوسٹ پر رہے ہوں۔ اس سے قطع نظر وہ ہمیشہ انتہائی جانفشانی سے پڑھاتے رہے۔
مگر ان کی سروس کا بیشتر حصہ سمندر کھٹہ ہائی سکول میں گزرا، جہاں ان کے شاگردوں کے بیٹے بھی ان سے پڑھے۔
وہ سکول ہذا کے ہر دور میں ہیڈ ماسٹر نہ ہوتے ہوئے بھی ہیڈ ماسٹر ہی رہے۔ انہیں دفتری امور سے اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ تعلیم کے ساتھ ساتھ والی بال کے کھیل سے انہیں بہت انس تھا۔ خود ٹیم تیار کرتے تھے۔ اور ان کی ٹیم ڈسٹرکٹ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی انعام جیتتی تھی خود بھی اس گیم کے اچھے کھلاڑی تھے۔
سکول سے گھر جاتے تو مکان کی چھت پر بیٹھ کر محلے کے سارے لڑکوں کو بلا کر مفت پڑھاتے تھے۔ وہ زیادہ تر دہم جماعت کی انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔ ان کا پڑھانے کا اپنا انداز تھا۔ جس پر ایک دو دفعہ اعتراض بھی ہوا۔ مگر جب ان کی کلاس چیک کی گئی تو معترض کو منہ کی کھانا پڑی۔ وہ کسی کتابی طریقہ علم کے قائل نہیں تھے سارے طریقے بیک وقت استعمال کرتے تھے اور ان طریقوں کے باہم ملنے سے انہوں نے جو طریقہ بنا لیا تھا وہ ان کے بعد خود بخود ختم ہو گیا۔انہوں نے کبھی اپنے آپ کو ہیڈ ماسٹر نہیں سمجھتا۔ بلکہ کہا کرتے تھے اب میری تنخواہ زیادہ ہے اس لیے مجھے زیادہ پڑھانا چاہیے۔ اور پھر زیادہ پڑھاتے تھے۔
ایک بڑی عجیب بات تھی وہ ملازمین درجہ چہارم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ سکول میں ایک ملازم کافی ہوتا ہے۔ گھنٹی تو کوئی لڑکا بھی مار سکتا ہے۔ چائے خالی پیریڈ میں استاد خود تیار کر سکتے ہیں۔ اس فوجِ ظفر موج کی یہاں کوئی ضرورت نہیں۔گاؤں کے لوگ ان کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ انہیں اپنے جرگوں میں لاتے، دعوتوں میں بلاتے، سیاسی اداکار بھی ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے تھے وہ اک طرفہ تماشہ تھے۔ایک فرماں بردار بیٹا، ایک شفیق باپ، ایک جانثار دوست، بہترین شوہر، بہترین پڑوسی، ایک فرض شناس اور قابل معلم، ایک درد مند محلے دار، ایک دور بین سیاستدان، پکا مسلمان، حق گو حق پرست، یہ سارے اوصاف موصوف میں بیک وقت پائے جاتے تھے۔مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ان کی طبعیت کوئی روکھی پھیکی طبعیت تھی۔ بڑی غلطی ہو گی۔ وہ بڑے ہنس مکھ، ملنسار اور وضعدار شخص تھے۔
آج بھی جب وہ ایک پرائیویٹ سکول چلا رہے ہیں ان کے کسی معمول میں فرق نہیں آیا۔
اتنی ڈھیر ساری خوبیوں کے مالک جب 2009ء میں محکمہ ہذا سے بحیثیت ہیڈ ماسٹر ریٹائرڈ ہوئے تو یقین کریں کہ انہیں ”وداع“ کہنے سکول میں کوئی شخص نہیں آیا۔ وہ جو ہمیشہ آپ کے آگے پیچھے پھرا کرتے تھے۔ وہ جو آپ کا کلمہ پڑھا کرتے تھے وہ سیاسی جو آپ کو اپنے لیے ضروری خیال کیا کرتے تھے کوئی بھی تو نہیں آیا۔
اور اس معاشرتی بے حسی کو دیکھ کر میں نے محسوس کیا”کہ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے“ والی بات صد فی صد درست ہے۔
اک معمارِ قوم جس نے اپنے خون سے، اپنی شبانہ روز محنت سے ایک قوم تشکیل دی جب وہ قوم تشکیل پا چکی تو اپنے محسن کو یوں بھولی جیسے اس کا کوئی کردار ہی نہ ہوا ہو۔
ہمارا معاشرتی المیہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں اور انہیں بھولتے بھولتے ان کی تعلیمات کو بھی فراموش کر دیتے تھے۔ کتنے ”خان اکبر“ ہونگے جنہیں قوم بھول چکی ہے مگر جس بے توجہی سے اس ”خان اکبر“ کو رخصت کیا گیا وہ مطلب پرستی اور ابن الوقتی کی انتہا ہے۔
راقم کو موصوف کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقعہ ملا ہے۔ میں ان کا شاگرد بھی ہوں کولیگ بھی، دوست بھی اور رشتہ دار بھی۔ انہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر میری راہنمائی اور مدد کی ہے اور ان سے مدد اور رہنمائی لینے والا میں اکیلا نہیں، مجھ جیسے ہزاروں لوگ ہیں۔ مگر میری طرح وہ بھی بوقتِ رخصت ان کی شان کے مطابق کسی بزم کا اہتمام نہیں کر سکے۔ یہ چند سطور میں نے اپنی شرمندگی کم کرنے کیلئے تحریر کی ہیں اتنے غریب اور مختصر الفاظ ان کی خدمات کے اعتراف کا بدل نہیں ہو سکتے مگر اپنی کم ہمتی اور کوتاہ بینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ میں ان کی شان کے مطابق کوئی کام نہ کر سکا۔
مجھے اپنے معاشرے سے بھی شکوہ ہے کہ جس معاشرے کو انہوں نے بہترین ا فراد عطا کئے وہ بھی انہیں یوں بھول گیا جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ میں ابھی چند دن پہلے ایک جنازے میں شرکت کیلئے گیا تو ان سے ملاقات ہو گئی۔ باتوں باتوں مین انہوں نے شکوہ کیا کہ رشتہ داروں اور محلے والوں کے لڑکے بھی اب مجھے دیکھ کر اٹھتے نہیں ہیں اور نہ ہی السلام علیکم کہتے ہیں۔ انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کی جن کا لب لبا یہ ہے کہ
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پہ عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

گلستان سی، ٹی
گورنمنٹ ہائی سکول سمندر کھٹہ (ایبٹ آباد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں