15

عورت کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم ہے

تحریر،مشتاق احمد آزاد
فاطمۃالزہراء ڈگری گرلز کالج خواتین کو معیاری تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
بچیوں کے لیے ڈگری لیول تک علیحدہ تعلیم کی فراہمی دیرینہ خواہش تھی،ایم ڈی فاطمۃالزہراء ڈگری گرلز کالج مانسہرہ ملک خالد نوازکی لوح وقلم انٹرنیشنل سے گفتگو

فاطمہ الزہرہ ڈگری گرلز کالج مانسہرہ کا ایک مشہور و معروف اور قابل اعتمادتعلیمی ادارہ ہے۔ یہ ہزارہ بھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ڈگری گرلز کالج ہے۔ ادارے کے روح روا ں مشہور سماجی و تعلیمی شخصیت ملک زاہد خالد نے اس ادارے کو بڑی محنت سے آج اس مقام پر پہنچایا ہے کہ اس ادارے میں پانچ سو سے زاہد بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہیں فاطمہ الزاہرہ گرلز ڈگری کالج اینڈ ہاسٹل نے تھوڑے ہی وقت میں ایک بڑا نام اور اعتماد حاصل کیا ہے اس ادارے کے پرنسپل ملک زاہد خالد بھی خود بھی اعلی تعلیم یافتہ اور منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں جن کا سلوگن ہے ایک بچی کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم جیسی ہے۔ ملک زاہد خالد نے لوح و قلم انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جب کہ ایک عورت کی تعلیم پورے معاشرے کی تعلیم ہے میں نے ادارے کا قیام اس لیے عمل میں لایا کہ اپنے علاقے کی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر سکوں۔میں کو ایجوکیشن کے خلاف ہوں اور میری شروع سے خواہش رہی تھی کہ بچیوں کے لیے کوئی ایسا ادارہ ہو جہاں ڈگری لیول تک وہ علیحدہ اور آزادی کے ساتھ ساتھ پوری یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کرے اس لیے میں نے سرکاری نوکری کو چھوڑا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے پہلے میں ایجوکیشن سے ہی وابسطہ تھااور میں دانش سکول کا پروجیکٹ ڈائریکڑ بھی رہا ہزارہ بھر میں لٹریسی فار آل کے تحت ہزارہ بھر میں خدمات انجام دیں۔اس کے بعد سمال بزنس میں بطور منیجر کے ہزارہ بھر میں مختلف سٹیشن پر کام کیا اس دوران میری یہی خواہش رہی کہ میں تعلیم کے لیے کچھ کر سکوں کسی بھی قوم کا ترقی پذیر ہوناتعلیم کے بغیر نامکمل ہے۔میں سوچا کرتا کہ ملک و قوم کی ترقی میں بنیادی کرادار ادا کرنے کے لیے اپنی سی کوشش کروں کافی غور و فکر کے بعد میں نے فیصلہ کیا میں اپنے علاقے کی بچیوں کے لیے ایک ایسے ادارے کا قیام عمل میں لاؤں جس میں بچیاں مکمل آزادی یکسوئی کے ساتھ اپنی تعلیم حاصل کریں اور ساتھ ساتھ یہ تعلیم سب کی پہنچ میں بھی ہو تو میں نے پھر فاطمہ الزہرہ ڈگری گرلز کالج کے نام سے 2004 میں آغازکیا تھا،الحمد للہ ہمارا جو مقصد ہے کہ آئندہ کی نسل دین و دنیا سیکھ لے، ہم یہاں پر پچیوں کو تعلیم ہی نہیں دے رہے بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی بھی کر رہے ہیں،ہم پچیوں کو کور س کے علاوہ باقاعدہ قرآن کی تعلیم بھی دیتے ہیں تاکہ ہر بچی قرآن سیکھ لے اور اس کو پتہ ہو کہ آگے جا کر کیا کرنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچیوں کو انگلش لینگویجز کورس بھی کروائے جاتے ہیں اور فائن آرٹ کے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں تاکہ ہماری بچیاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند بھی ہوں اور آئندہ زندگی پر سکون گزار سکیں،آپ جانتے ہیں کہ بچوں کی پرورش صرف ماں کرتی ہے اور والد تو گھر سے باہر ہوتا، اگر ماں پڑھی لکھی اور سمجھ دار ہو تو بچوں کی پرورش اچھے طریقے سے کرے گی اور جب بچے کی پرورش اچھی ہو گی تو معاشرے میں مسائل بہت کم ہوں گے اور ہر شعبے میں ڈویلپمنٹ ہوگی یہ نقطہ نظر فاطمۃ الزہرہ کا ہے۔ہم نے کوئی میرٹ نہیں رکھا کیونکہ ہم بچی کو نیچے سے اوپر لے کر آتے ہیں جس میں کمزور بچیاں بھی شامل ہیں۔ہماری بچیوں نے بورڈ میں بھی پوزیشنیں لی ہیں، جس طرح طوبہ شاہین تھی جس نے میڑک پرائیویٹ کی اور ایف اے میں ایبٹ آباد بورڈ میں پانچویں پوزیشن لی اور اب وہ ایم اے پشاور یونیورسٹی سے کر رہی ہے ہمارے کالج میں ایف اے، ایف ایس سی، بی اے، بی ایس سی کی کلاسز ہیں اور مستقبل میں ایم اے، ایم ایس سی، ایم ایڈ،بی ایڈ،ایم بی اے، اور دیگر کلاسز کا آغاز کریں گے انہوں نے مزیدبتایاکہ آج سے8سال قبل نجی شعبہ میں قائم ہو نے والا یہ کالج ترقی کی مختلف منازل طے کر کے ایک مادر علمی بن گیاہے۔بوڑد کے زیر اہتمام سال 2011-12 کے سالانہ امتحان میں اس کالج کی ہونہار طالبہ نے BA/BSc کے پارٹ فرسٹ کے امتحان میں 285 میں سے 222,229,230 نمبر حاصل کئے۔ اسی طرح بی اے پارٹ سیکنڈ میں 388,395,398نمبر حاصل کیے اور ہزارہ کے تمام ڈگری کالجز میں پہلی پوزیشن حاصل کی اس کالج میں تعلیمی سال 2011,12کے لیے FSc pre medical,engreing,computer scicneاور FA کے تمام مضامین بشمول سکیالجی لاء،سٹیٹ اوراکنامکس کی کلاسوں میں داخلے جاری ہیں فاطمہ الزہرہ گرلز ڈگری کالج ایبٹ آباد بورڈ کے ساتھ باقائدہ رجسٹرڈ اور ملحق ہے کالج کی تیز تر ترقی اور شاندار کارکردگی کی وجہ اس کی اعلی تعلیم یافتہ اور گولڈ میڈلسٹ انتہائی تجربہ کار محنتی اساتذہ ہے اس کالج میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ طالبات کی کردار سازی اور دینی کردار سے روشناس کرانے پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے اس کالج کا ایک منفرد اعزاز یہ بھی ہے کہ یہاں طالبات کے تربیت کے علاوہ گھریلو دستکاریاں،گلاس پینٹگ، پیپر معاشی،جوٹ ورک اور پھول بنانے کی مہارت بھی سکھلائی جاتی ہے مناسب فیس اور میعاری تعلیم ہمارہ طرہ امتیاز ہے دور دراز علاقوں کی طالبات کے لیے ہاسٹل کی سہولت موجود ہے کالج کی اپنی عمارت کی تعمیراتی منصوبہ مکمل ہو چکا ہے الحمداللہ کالج نئی عمارت میں منتقل ہو چکاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام اساتذہ کو موجودہ دور میں تعلیم سے کہیں زیادہ بچوں کی تربیت پر زوردینے کہا کہتے ہیں۔لہذا باکردار لوگوں کو اس شعبے میں آناچاہیے کیونکہ اُستاد بچوں کے لیے بہترین ماڈل ہو سکتا ہے بچو ں کے لیے یہ پیغام ہے وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر صرف کریں اور اپنی قابلیت سے آگے بڑھیں تو یقینا ایک روشن مستقبل اور تعلیم یافتہ پاکستان کا خواب دیکھا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں