24

سرکاری سکول بے شمار مسائل کا شکار ہیں

سکول کے دورے کے دوران اکثر اساتذہ کومسائل کا انبار لگاتے دیکھا
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرایبٹ آباد اشتیاق خان جدون سے ملاقات کا احوال
اشتیاق خان جدون میجمنٹ کیڈر اور تدریسی کیڈرکی علحیدگی کے بعد سے بطور اے ڈی او سرکل دہمتوڑ اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان کے سرکل میں 100سکول آتے ہیں جن میں سے بیشتر دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔اشتیاق خان جدون اپنے سرکل میں معیار تعلیم کے فروغ کے لیے کس طور پر کام رہے ہیں یہ جاننے کے لیے لوح وقلم انٹرنیشنل نے ان سے ایک نشست کی جس کا احوال قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔
ؒلوح وقلم انٹرنیشنل: آپ محکمہ تعلیم میں کب آئے؟
جواب: میرے محکمہ تعلیم میں آئے ہوئے 25 سال گزر چکے ہیں۔
سوال: آپ شعبہ تدریس میں تھے تو کیا محسوس کرتے تھے؟
جواب: جب میں شعبہ تدریس میں تھا تو ہم نے خوب محنت سے پڑھایا اور یہی جذبہ دل میں تھا کہ محکمہ تعلیم میں آگے آ کر محکمہ کی بھرپور خدمت کی جائے۔ اور تدریسی عمل کو بہتر بنانے کیلئے اپنی خدمات پیش کی جائیں۔
الحمد اللہ تدریسی کیڈڑ سے اس طرف آتے ہوئے ہمارا 6 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ہم نے ای ڈی او کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بہت سے سکولز کے دورے کئے۔ ان سکولز کے اندر اساتذہ کی حاضری یقینی بن گئی۔اساتذہ نے ریگولر سکولز جانا شروع کر دیا۔میں نے سکول کے وزٹ کے دوران اکثر اساتذہ کو بہت مسائل کا انبار لگاتے دیکھا۔ہمارے گورنمنٹ سکولز کے بے تحاشا مسائل ہیں۔ اگر ان کی لسٹ مرتب کریں تو شاید کتاب بن جائے۔ ہمارے سکولز اکثر دو کمروں پر مشتمل ہیں۔ ان کے اندر چھ کلاسیں ہوتی ہیں جن میں درس و تدریس ہوتی ہے۔ ایسی بلڈنگ جہاں تمام کلاسیں اکھٹی ہوں وہاں تعلیم کیا اثر رکھے گی میرے سرکل کے ایسے سکولز بھی ہیں جن کی بلڈنگ استعمال کے قابل نہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو بچوں کے بیٹھنے کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ چھت کئی بار بادو باراں کی وجہ سے کئی دفعہ تعمیر کرنے کے بعد جگہ جگہ سے ٹپکتی ہے۔ اس طرح درس و تدریس کا کام متاثر ہو جاتا ہے۔ میں منتخب نمائندوں کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ایسے سکولز کا سروے کا نوٹس جاری کیا جائے۔ اور ان سکولز کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے۔ یہ سکولز 2005ء کے زلزلہ کے متاثر ہیں۔ جن کاپرسان حال کوئی نہیں۔ میں نے اپنے سرکل کے اندر وزٹ کے دوران پرائمری سکول کھن دسیال کو دیکھا اس کی عمارت خطرے سے کم نہ تھی۔
اسی طرح پرائمری سکول درکنی،پرائمری سکول نکہار جس کی پہاڑ کی طرف والی دیوار سخت خطرناک ہو چکی ہے۔ جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طرحGPS بنجھ بیرن گلی سکول کا کام بندہو چکا ہے۔ کرائے کی عمارت میں تدریس کا کام کر رہے ہیں۔ میرے سرکل کے اس دور دراز سکول کے بچوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ اساتذہ محنتی ہیں مگر عمارت مدرسہ ان کے درمیان مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ اگر متعلقہ محکمہ ان کی عمارت کو مکمل کر دے تو سردیوں میں یہ بچے جو آج ایک کچے مکان میں زیر تعلیم ہیں اپنی عمارت میں تدریس جاری رکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ اب تک کوشش ہی رہی ہے کہ تمام سکولز کے اندر ٹاٹ کلچر کو ختم کیا جائے۔ مگر بہت سے سکولز کے وزٹ کئے اساتذہ نے سردیوں کو سر پر آنے کا ذکر کیا کہ اب تک ہمارے پاس ٹاٹ اور فرنیچر نہیں ہم اپنے بچوں کو کہاں بٹھائیں۔میری رائے یہ ہے کہ حکومت KPK تمام سکولز کو PTC فنڈ اتنی رقم رکھے کہ سکولز خود سے فرنیچر خرید کر اپنی ضرورت پوری کر سکے۔
سوال: جب سے آپ نے چارج سنبھالا ہے آپ نے اپنے سرکل میں کیا تبدیلی لائی ہے؟
جواب: میں نے اپنے اساتذہ کے دفتر میں پھنسے ہوئے میت سے کیس حل کیے ہیں۔ اور ان کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی میں نے سرکل کے اندر سنٹر کی سطح پر میٹنگ ڈے مقرر کیے ہوئے ہی۔ میرے سرکل کے تین سنٹر میں دہمتوڑ، اس میں 52 سکولز ہیں اور ا س طرح سنٹر تھریاٹی 23سکولز ہیں اور سنٹر کھٹوال میں 25 سکولز ہیں۔ اس طر ح میرے سرکل میں 100 سکولز ہیں جو پوری طرح کام کر رہے ہیں الحمد اللہ میں نے سکولز کے وزٹ کے دوران سکولز میں ٹائم ٹیبل سکیم آف سٹڈی کو یقینی بنایا ہے۔ روزانہ کے کام کی پڑتال پر زور دیا ہے۔ بچوں کو انفرادی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا ماکرو ٹیچنگ پر بھی زور دیا ہے۔ بعض بچے زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں ان کو زیادہ ٹائم دیا جائے اور ان پر خصوصی توجہ کی جائے۔
سوال: اس کے علاوہ آپ نے سکولز کے اندر کس چیز کی کمی محسوس کی؟
جواب: میں نے سکولز کے اندر سٹاف کی کمی محسوس کی کیوں کہ ہر کلاس کے لیے الگ ٹیچر کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے پرائمری سیکٹر میں دو ٹیچر پورے سکول کو چلاتے ہیں۔ بعض سکول کے اندر سنگل ٹیچر کام کر رہے ہیں۔ جنرل ضیاء کے زمانے بعد مسجد سکول رائج کیے گئے۔ یہ سکولز اس وقت کی تو اہم ضرورت تھی۔ مگر آج یہ سکول اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ کیوں کہ جہاں یہ سکولز تھے وہاں پرائمری سکول تعمیر ہو چکے ہیں۔ اس طرح بعض سکول تو پرائمری کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں ان کا مکمل آرڈر بھی ہو چکا ہے۔ مگر بعض اسی طرح ایک چھوٹے سے گاؤں میں مسجد سکول اور پرائمری سکول کے برابر ہے۔ اور استاد کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ بچے الگ سے کمرہ نہ ہونے کی وجہ سے سردی میں سخت تکلیف کا سامنا رتے ہیں۔ ٹیچر کو اکیلا ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی ورکشاپ یا میٹنگ وغیرہ میں آتے ہوئے مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ لہذا میریKPK حکومت سیاپیل ہے کہ ان مساجد سکولز کو ختم کر کے قریب کے سکول میں یہ پوسٹ دی جائے۔ اس طرح پرائمری سکول میں دوپوسٹوں کے بجائے تین پوسٹیں ہونی چاہئیں اس طرح بہت سے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
سوال: بعض علاقوں میں عمارت مدرسہ نہ ہونے کی وجہ سے مسجد سکول میں تو تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے مسجد سکول ختم ہونے سے تو نقصان ہو گا۔
جواب:جہاں ایسا معاملہ ہے وہ حکومت KPK عمارت کیلئے منظوری دے اس سلسلہ میں ایک ایسی رپورٹ تیار کی جائے اور ان سکول کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔ مسجد سکول میں سنگل ٹیچر ان تمام کلاسوں کو پڑھاتا ہے۔ اور کسی قسم کی چھٹی بھی نہیں کر سکتا۔ اگر چھٹی کرتا ہے تو نظم و نسق پر بہت بڑے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سوال: اس کے علاوہ آپ حل طلب مسائل کے بارے میں کیا بتائیں گے؟
جواب: گورنمنٹ پرائمری سکولز کے اندر حل طلب مسائل بے شمار ہیں۔ جن کوحل کرنے میں شاید زمانہ لگے۔ لیکن پھر بھی ہمارے کوشش رہی ہے کہ ہم ان مسائل کو اساتذہ ے سکول کی دہلیز پر حل کریں اساتذہ دفاتر کے چکر نہ کاٹیں اساتذہ کا یہ سلسلہ کہ وہ دفتر آ جاتے تھے۔ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہمارے ای ڈی او صاحب اساتذہ کی فائل کو ٹیبل پر نہیں رہنے دیتے جلد از جلد اس کو مکمل کر دیتے ہیں۔
سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ(پی ٹی سی) والدین اساتذہ کونسل کوئی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
جواب: جی ہاں پی ٹی سی کونسل کی معاونت سے بہت سے مسائل سکول کے اندر ہی حل ہو جاتے ہیں۔ ہتر تین سال بعد اس کونسل کا نئے سرے سے انتخاب ہوتاہے۔ اگر یہ کونسل فعال کردار ادا نہ تو اس سے پہلے بھی اس کو تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخاب کیا جا سکتا ہے۔اس کونسل کی معاونت سے عمارت مدرسہ اور بچوں کے مسائل کو ختم کیا جاتا ہے۔
سوال حال ہی میں پرائمری سطح پر ٹورنامنٹ کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: یہ تجربہ انتہائی مثبت رہا۔ سکولز نے کم وقت میں اچھی کارکردگی دکھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ گورنمنٹ سکولز کے اندر ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ یہ سکول بھی کسی سے کم نہیں یہ ٹورنامنٹ پہلے سنٹر کی سطح پر ہوئے اس کے عد سرکل کی سطح پر ہائے۔
اب یہ مرحلہ ڈسٹرکٹ کی سطح کو پہنچ چکا ہے۔ ماشاء اللہ اس ٹورنامنٹ کی وجہ سے سکولز کے اندر ایک ہل چل سی مچ گئی ہے۔ لوگوں نے دیکھا سرکاری سکولز کے بچے بھی اتنی اچھی پر فارمنس دے سکتے ہیں۔ ہمارے ای ڈی او صاحب نے ایک سرکل میں کیا خوب کہا کہ نصابی سرگرمیاں ہم نصابی سرگرمیوں کے بغیر نا مکمل ہوتی ہیں۔ ایک اچھا دماغ ایک اچھی باڈی کے اندر ہوتا ہے۔ ان ٹورنامنٹ کے اندر پرائمری سکولز کے ننھے ننھے طلباء نے خوب صورت مظاہرے کیے۔ ان میں انگلش تقریر، اردوتقریر، پی ٹی شو، سکاؤٹنگ، ملی نغمہ، نعت شریف، لوک گیت، تعلیمی مائیہ،100 میٹر دوڑ، رسہ کشی، بوری دوڑ، کرکٹ میچ، خوشخطی وغیرہ شامل تھے۔ طلباء اور اساتذہ نے خوب محنت کی۔ ٹورنامنٹ کا یہ سلسلہ آئندہ انشاء اللہ جاری و ساری رہے گا۔ تا کہ بچوں کی خفتہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آ سکیں۔
سوال: پرائمری سکولز کے اندر داخلے کی شرح کیوں کم ہو رہی ہے۔
جواب: گزشتہ سالوں کی نسب اب داخلے کی شرح بڑھی ہے۔ کم نہیں ہوئی۔ اب لوگوں کو رحجان گورنمنٹ سیکٹر کی طرف راغب ہو رہا ہے۔
داخلوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ سلسلہ اب چل نکلا ہے کہ لوگ گورنمنٹ سیکٹر کی طرف آ رہے ہیں۔ نتائج آپ کے سامنے ہیں طلباء نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔
سوال: سالانہ امتحان سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے کیوں نہیں لیے جاتے۔ چھٹیوں کے بعد بچے سب کچھ بھلا دیتے ہیں۔ آپ اس سلسلہ میں کچھ سوچ رہے ہیں؟
جواب: انشاء اللہ یہ اچھی تجویز ہے کہ یکم مارچ سے تعلیمی سال شروع ہونا چاہیے کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں کلاسیں تبدیل ہو جاتی ہیں ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ اس سلسلہ میں مشورہ کریں گے کہ یہ سلسلہ شروع کیا جا سکے۔
سوال: سرکاری سکولز کے اندر درسی کتب بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ لوگوں کا رحجان اتنا نہیں؟
جواب: آپ نے درست کہا لوگ ظاہری نمود و نمائش کو دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ظاہری نمود و نمائش کم ہے لیکن پھر بھی الحمد اللہ آپ مہنگائی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ لوگ ان ظاہری نمود سے تنگ آ چکے ہیں۔ اب سرکاری سکولوں کے اندر داخلہ کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور مفت درسی کتب کی وجہ سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سوال: عوام کا اعتماد سرکاری سکولز سے کیوں اٹھ رہا ہے۔
جواب: بار بار ایک سوال کو دہرانے کا کیا فائدہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اب لوگوں کا رحجان سکولز کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کیق وت برداشت اتنی نہیں رہی کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں پرائیویٹ دکان پر جائیں۔ میں والدین سے بھی اپیل کروں گا کہ سرکاری سکولز کے اندر اپنے بچوں کو داخل کروائیں سرکاری سکولز کے اندر اب چیک اینڈ بیلنس کا کام شروع ہو چکا ہے۔ اب وہ پہلے والی بات نہیں رہی اب آنے والے امتحانات کا نتیجہ یا اس کی پڑتال بڑی ایمانداری سے ہو گی۔ اساتذہ کی باز پرس ہو گی جن اساتذہ کی کارکردگی اچھی نہیں ہو گی ان کی سالانہ ترقی روک دی جائے گی۔ یہ کام انشاء اللہ ایمانداری کے ساتھ تکمیل پائے گا۔
سوال: نصاب کے متعلق آپ کیا کہنا چاہئیں گے؟
جواب: پرائیویٹ سیکٹر میں آج کامیابی کی وجہ نصاب تعلیم ہے۔ ہمارے سرکاری سیکٹر میں وہی فرسودہ نصاب ہی رائج ہے۔ آئے روز اسی نصاب پر زور آزمائی کی جاتی ہے۔ اس نصاب تعلیم کو سرے سے تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا نصاب تعلیم یکساں ہونا چاہیے۔ اس طرح امیر اور غریب کا بچہ یکساں نظام تعلیم کے ذریعے تعلیم حاصل کر سکے۔ ہمارے ہاں غریب کا بچہ موسم کے دپھیڑے سہتے ہوئے تعلیم حاصل کرتاہے۔ جبکہ امیر کا بچہ انگلش میڈیم ایئر کنڈیشنز سکول میں پڑھتا ہے۔ اگر یہ تفریق ختم کی جائے تو بھی نظام تعلیم بہتری کی طرف گامنزن ہو گا۔
سوال: اضافی ذمہ داریاں اساتذہ کے تدریسی کام میں رکاوٹ تو نہیں بنتی؟
جواب: یہ سچ ہے کہ اضافی ذمہ داریاں اساتذہ کے تدریسی کام میں رکاوٹ بنتی ہیں۔مگر قومی نوعیت کے معاملات کو سرکاری سکولز کے اساتذہ ہی مل کر سرانجام دیتے ہیں۔ مثلاً الیکشن، ووٹر لسٹ کی تیاری، مردم شماری، اس میں الیکشن کے علاوہ سب کام سکول ٹائم کے بعد سرنجام پاتیہیں اس طرح بہت کم ایسا ہوتاہے کہ تدریسی کام متاثر ہو رہا ہے محکمہ کی کوشش ہوتی ہے کہ سب امور کر سکول ٹائم کے بعد کروایا جائے۔ با امر ممجبوری کام کی جلدی ہو تو ایسا کرناپڑتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ طلبہ کا وقت ضائع ہو۔
سوال: سکولوں کے اندر سزا کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
جواب: سزا کے حوالے سے محکمہ سختی منع کرتا ہے۔ کسی طالب علم کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے بالخسوص بدنی سزا۔ جو اساتذہ ایسا کرتے ہیں انہیں ہر گز ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بدنی سزا سے گریز کرنا چاہیے۔ بدنی سزا کے خلاف باقاعدہ آرڈننس پاس ہے۔ اساتذہ کو اس کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
سوال: پرائیویٹ سکولز کے اندر ہوم ورک بہت دیا جاتا ہے جبکہ سرکاری سکولز کے اندر ہوم ورک کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
جواب: آپ کی بات کو میں کسی حد تک درست نہیں کہوں گا کیونکہ جب سے ہماری مینجمنٹ کیڈر کی ٹیم آئی ہے ہماری ہفتہ وار میٹنگ کے اندر ای ڈی او صاحب نے خبصوصی ہدایت کی ہے کہ ہم وزٹ کے دوران جائزہ کے اندر بنیاری طو ر پر طلباء کی کاپیاں چیک کریں اس کے اندر تمام لوازمات پورے ہوں کاپی تاریخ کے حساب سے چیک کی گئی ہو بچوں کی ہر مشق کے بعد تصحیح ک گئی ہو نہ کہ گڈ کا نشان لگا کر دستخط کیا ہو بلکہ اس کو ہم اچھی طرح دیکھتے ہیں کہ ٹیچر نے کام کو صحیح طریقہ سے پڑتال کے بعد کاپی چیک کی ہے اب ہمارے ٹیچر باقاعدہ طورپر ہوم ورک اور مشقی کام کو بغور دیکھتے ہیں اور رہنمائی کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں