29

محبت سے مرے اندر سلیقہ آ گیا ہے ،مجھے اب بات کہنے کا طریقہ آ گیا ہے

آج کے شاعر: ریاض طائرؔ

محبت سے مرے اندر سلیقہ آ گیا ہے
مجھے اب بات کہنے کا طریقہ آ گیا ہے

ہنستے مسکراتے اور دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہزارہ ڈویژ ن کے معروف شاعر ریاض طائرسے ایک ملاقات

ہنستے مسکراتے اور دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے ریاض طائر ہزارہ ڈویژ ن کے معروف شاعر ہیں۔ان کی شاعری ان کے عمدہ ذوق کی علامت ہے۔گزشتہ دنوں لوح وقلم انٹرنیشنل کی ہزارہ کے اس قابل فخر سپوت سے ایک نشست ہوئی جس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: آپ کی پیدائش؟
ریاض طائرؔ:04/04/1971 میں میری پیدائش ہوئی اور جنگ کے ماحول میں جب ہر طرف بم، دھماکے اور افرا تفری کا عالم تھا ایسے میں میرا دنیا میں آنا گھر والوں کے لیے باعثِ راحت ثابت ہوا۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:تعلیمی قابلیت؟
ریاض طائرؔ: قابلیت جانچنے کا تو میرے خیال میں کوئی آلہ ابھی تک ایجاد نہیں ہو پایا لیکن اگر ڈگری کے حوالے سے بتاؤں تو میں نے ایم۔ بی۔ اے کیا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:پیشہ؟
ریاض طائرؔ:بینک
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
ریاض طائرؔ:کب کا تو نہیں پتہ لیکن جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے شعروں کی کوئی نہ کوئی شکل میرے ذہن میں بنتی رہتی تھی اور رہا کیسے کا سوال تو جسے سب کرتے ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کن کن اصناف سخن میں طبع آزمائی کی؟
ریاض طائرؔ:غزل اور نظم
لوح و قلم انٹرنیشنل:کن کن زبانوں میں شاعری کی؟
ریاض طائرؔ: بے زبانوں کی زبان میں، کیونکہ ہم ان لوگوں کی زبان میں کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں جو زبان ہوتے ہوئے بھی کچھ کہہ نہیں پاتے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر آیا؟
ریاض طائرؔ:نہیں ”کوشش کر رہا ہوں“
لوح و قلم انٹرنیشنل:شادی اپنی مرضی سے کی یا والدین کی مرضی سے؟
ریاض طائرؔ: شادی نہ اپنی مرضی سے نہ والدین کی مرضی سے بلکہ ہم تینوں فریقین کی مرضی سے ہوئی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:شاعری کا آغاز کس سے متاثر ہو کر کیا؟
ریاض طائرؔ: کسی سے متاثر ہونے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کے پسندیدہ شعراء کون کون سے ہیں؟
ریاض طائرؔ:جس نے ایک بھی اچھا شعر کہا ہو وہ میرا پسندیدہ شاعر ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:پسندیدہ صنف سخن؟
ریاض طائرؔ: نظم میری پسندیدہ صنفِ سخن ہے۔ جب میں لکھتا ہوں تو میں غزل کو زیادہ پسند کرتا ہوں لیکن جب کسی بھی مشاعرے میں پڑھتا ہوں توپڑھنے میں نظم زیادہ پسند کرتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کوئی پسندیدہ شعر سنائیں۔
محبت سے مرے اندر سلیقہ آ گیا ہے
مجھے اب بات کہنے کا طریقہ آ گیا ہے
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیسا لباس پسند کرتے ہیں؟
ریاض طائرؔ:مسکراتے ہوئے، جو انسان اور حیوان میں فرق ظاہر کرے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے؟
ریاض طائرؔ:کوئی بھی حلال چیز ہو جی بس چل جاتی ہے۔ سب کچھ پسند ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:آپ کا آئیڈیل کون ہے؟
ریاض طائرؔ:یہ آپ کی زندگی کے مختلف مدارج پر منحصر ہے آپ جس بھی شعبہ زندگی میں جائیں تو آپ کا آئیڈیل بھی اس حوالے سے مختلف ہو گا تو میرے خیال میں آئیڈیل کا لفظ متغیر ہے اور یہ وقت اور حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان مگر پھر بھی کم نکلے
لوح و قلم انٹرنیشنل: شاعری میں کس سے اصلاح لیتے ہیں؟
ریاض طائرؔ: شاعری ایک ایسی چیز ہے جو استادی شاگردی سے ہٹ کے دوستی یاری کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ ویسے تمام دوستوں سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے جن میں احمد حسین مجاہد، واحد اعجاز اور اعجاز نعمانی وغیرہ سے اصلاح لیتا رہتا ہوں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:موجودہ دور کے ادب کا معیار کیا ہے؟
ریاض طائرؔ: موجودہ دور کا ادب کافی مناسب ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:ہزارہ کے ادب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ریاض طائرؔ:ہزارہ کے ادب کو بہت اچھی نظر دے دیکھتا ہوں (پیار کی نظر سے)
لوح و قلم انٹرنیشنل:قدیم اور جدید ادب میں کیا فرق ہے؟
ریاض طائرؔ:یہی کوئی 60،70 سال کا، ادب قدیم اور جدید نہیں ہوتا اور جو قدیم ہو جائے تو وہ ادب نہیں رہتا۔ادب ہمیشہ ترو تازہ رہتاہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:کیا موجودہ ادب اپنے دور کی عکاسی کرتا ہے؟
ریاض طائرؔ: باکل کرتا ہے۔
لوح و قلم انٹرنیشنل:نوجوان شعراء کے نام کوئی پیغام؟
ریاض طائرؔ: میں خود نوجوان ہوں ابھی۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: سنجیدہ شاعری آسان ہے یا مزاح؟
ریاض طائرؔ: دونوں ہی مشکل ہیں، سنجیدہ تو سنجیدہ ہوتا ہے لیکن مزاح کو میں انتہائی سنجیدہ کہتا ہوں اس لیے میرے خیال میں دونوں ہی مشکل ہیں۔
لوح و قلم انٹرنیشنل: ادب کی مزاح میں کیا اہمیت ہے؟
ریاض طائرؔ:وہی اہمیت ہے جو کہ ایک انسان کیلئے مسکراہٹ کی اہمیت ہے ایک اچھا مزاح ادب کی مسکراہٹ ہے۔
باہر تیز ہوا، اور بارش
اندر ایک دعا، اور بارش
ہاتھ نہیں پھیلائے، ورنہ
کرتے ایک صدا، اور بارش
میری قسمت دھوپ جفا کی
تیرے نام وفا، اور بارش
من کو جھل تھل کر دے مولا!
بولا ایک گدا، اور بارش
حسنِ عطا کے روپ ہیں طائر
شبنم، پھول، صبا، اور بارش

شام دعا تک جا پہنچی ہے
بات خدا تک جا پہنچی ہے
کس نگری میں دیئے جلے ہیں!
خبر ہوا تک جا پہنچی ہے
بچپن کی اک شوخ شرارت
عشق، وفا تک جا پہنچی ہے
پتھر کھاتے کھاتے دنیا!!
نرم غذاتک جا پہنچی ہے

”زرخیزی“
محبت کی نہیں جاتی
یہ از خود ہونے لگتی ہے
زمین کیسی بھی بنجر ہو
یہ چاہت بونے لگتی ہے

مقدر بیچ کر اپنا ستارے ڈھونڈتا ہوں میں
بڑی مشکل سے جینے کے سہارے ڈھونڈتا ہوں میں
عجب خوش فہمیاں میری، کوئی سن لے تو کیا بولے
بھرے سیلاب موسم میں کنارے ڈھونڈتا ہوں میں
میں بچے کے جنم دن پر خود بچے کی صورت ہوں
اٹھائے کیک ہاتھوں میں غبارے ڈھونڈتا ہوں میں
قسم کھا کر کیا اس نے ”خسارے میں یہ انساں ہے“
قسم سچی ہے اس خاطر خسارے ڈھونڈتا ہوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں